ایک منٹ میں فارغ ہوجاتا ہوں اور بیوی بھی ناخوش رہتی ہے

ایک منٹ میں فارغ ہوجاتا ہوں اور بیوی بھی ناخوش رہتی ہے

سوال: دس سالوں سے ملک سے باہر ہوں۔ جب بھی کام سے فرصت ملتی ہے تو میرا زہین صحبت کی طرف جاتا ہے۔ میں جلق بازی کی عادت میں مبتلا تھا اور میری یہ عادت کئی سالوں سے تھی۔ جب میں نے شادی کی تو ایسا معلوم ہوا کہ میں بہت کمزور ہوا ہوں۔ اور جب اپنی بیوی سے ہمبستری کرتا تو 3 منٹ سے زیادہ صحبت نہیں کر سکتا۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کیا سوچتی ہوگی لیکن یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ وہ مجھ سے راضی نہیں ہے۔ میں بہت سے یونانی و عصری ڈاکٹروں کے پاس گیا لیکن میں کوئی اچھا نتیجہ کسی بھی ڈاکٹر سے حاصل نہیں کرسکا۔ مجھے کوئی ایسا راستہ بتائے تاکہ میرا یہ مسلہ دور ہو جائے۔ آپکی مہربانی ہوگی۔

جواب: جس مشکل سے آپ دوچار ہے وہ مسئلہ ہے جن سے بہت سے وہ لوگ متاثر ہیں جو کئی مدت سے اپنی بیوی سے دور رہے ہو۔ اسی مدت میں آدمی اپنی جنسی تسکین پورا کرنے کے شوق میں ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں جلق بازی سے لیکر ہر وہ راستہ جو ارضا اور جنسی تسکین کیلیئے آدمی کرتا ہے اس سے آدمی کو صرف جسمانی خلاصی بخشتا ہے اور اس سے ہرگز صحت اور روحانی سکون نہیں ملتا۔ اسی وجہ سے مشت زنی عادت میں بدل جاتی ہے اور اسکے نتیجے میں جنسی اور روحانی تعلقات میں کمی آتی ہیں۔

آپ کو چاہیئے کہ آہستہ آہستہ اصلی جنسی صحبت کی عادت ڈالے۔ اور اپنی سوچ کو بدلے۔ شاید کوئی کہے کہ اب تو سوچ اور فکر اسی راہ پر عادی ہو گیا ہے اب اس کا بدلنا مشکل ہے۔ اور عادت کا بدلنا تو آسان کام نہیں ہے۔ آپ کو چاہیئے کہ اپنے آپکو اس کام کا عادی بنائے تاکہ صحبت کی عادت بن جائے۔ شاید یہ کام کچھ وقت لے لے لیکن یہ آپکے ارادہ، اپنے آپ پر کنٹرول، آپ کے بیوی کے تعاون، اور بعض دوسرے اعمال کے زریعے سے آپ اپنی عادت چھوڑ سکتے ہے۔ آپ یہ کام آہستہ آہستہ شروع کر دیں اور دیکھے کہ کیا ہوتا ہے۔

آپ پہلے مرحلہ میں اپنی صحبت کرنے کے طریقوں میں دوسرے حساس افعال کا اضافہ کرے۔ اس سے پہلے کہ جماع کرے اپنی بیوی کے ساتھ انتہائی پیار و محبت سے باتیں کرے۔ اسوقت تک صحبت کو شروع نہیں کرنا چاہیئے جب تک آپکو یقین نہ ہو جائے کہ ایک محبت بھری فضا قائم ہو گئی ہے۔ جب ایک محبت بھری فضا قائم ہو جائے تو پھر کوشش کرنی چاہیئے کہ فضا کو اور بھی طوفانی کرے۔ اور اپنا جسمانی تعلق کو اور بھی مضبوط بنائے۔ پھر اسکے بدن کے مختلف اعضاء پر ہاتھ پھیرے اور اسکے بعد اس سے بوس و کنار کریں۔ اس کام میں زیادہ وقت لگائے۔ اس سے جسمانی رابطہ بڑھتا ہے۔ یہ کام جتنا کر سکتے ہیں اتنا ہی زیادہ کریں۔ زیادہ پریکٹس سے اس عمل کے دورانیہ میں اضافہ ممکن ہے۔ پھر جس طرح آپکی سوچ و فکر اس طرح کی صحبت کرنے پر عادی ہو جائے تو آپ بہت جلد جان جائے گے کہ آپکی پرانی عادت کم ہو رہی ہے۔ اور آخر میں اس منفی عادت سے چٹکارا پا لینگے۔

Leave a Reply