ایک طوائف کی رلا دینے والی کہانی

ایک طوائف کی رلا دینے والی کہانی

ایک دن طوائف کی بیٹی اپنی ماں سے پوچھنے لگی کہ اماں یہ پیار کیا ہوتا ہے ؟

طوائف نے عجیب لہجہ میں کہا ۔ مفت کی عیاشی ۔ کیونکہ ہمارے ہاں زیادہ تر محبت کی شادیاں ناکام ہو جاتی ہے اور انجام جدائی اور رسوائی نکلتا ہے

ایسا لگتا ہے کہ محبت نفرت کی ابتدا ہوتی ہے ۔ دیکھو کتنا عجیب ہے  کہ محبت دن گزرنے کے ساتھ زیادہ ہونے کے بجائے کم ہوتی ہے ۔ ایک دوسرے سے بوریت محسوس  ہوتی ہے ۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے ۔

اس لئے کہ محبت آزادی سے ہوتی ہے قید سے نہیں ۔ ہمارے ہاں  الٹا چکر ہے ۔ جیسے ہی کسی کو محبت ہو  جاتی ہے ساتھ میں قید کا سفر شروع ہو جاتا ہے ۔ لڑکیوں کی فرمائشیں بھی عجیب ہوتی ہے ۔ مجھے روز چاند کی طرف دیکھ کر لویو کا مسیج  کرنا ہے ۔ میری ہر بات کا جواب دینا ہے میری ہر بات ماننی ہے ۔ میں جب بھی مسیج کروں تو جواب فورا آنا چاہئے

لڑکا کچھ یوں کہتا ہے اپنی کزن سے بات نہیں کرنی ۔ میری مرضی کےکپڑے پہننے ہیں ۔ زیادہ باہر نہ نکلا کر ۔ مجھی یہ اچھا نہیں لگتا ۔ وہ اچھا نہیں لگتا ۔ گویا محبت نہ ہوئی ایک فل ٹائم ڈیوٹی ہوئی

لوگ کہتے ہیں کہ محبت کی نہیں جاتی بلکہ خود ہو جاتی ہے ۔ غلط ہے یہ بات اور اس کا کہنے والا بھی ۔ ہاں ابتدا تو ہوتی ہے لیکن اس کو مظبوظ کرنے میں اپنے ارادیں داخل ہوتے ہیں ۔ ہمیں کوئی پسند بھی آجئےتو سمجھتےہیں کہ ہمیں اس سے محبت ہو گئی ہے

Leave a Reply