میرے ساتھ اس صحافی نے

میرے ساتھ اس صحافی نے

میڈیا کے شعبے میں کام کرنے والوں کوپڑھا لکھا سمجھا جاتا اور لوگوں کو ان سے توقع ہوتی ہے کہ  وہ عوام میں شعور بیدار کریں گے ، لیکن اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو گی کہ شعور دینے والے خود ہی گمراہی کے راستے پر چل پڑیں۔ اگرچہ کالی بھیڑیں ہر جگہ ہوتی ہیں لیکن حال ہی میں سامنے آنے والے انکشافات سے پتا چلتا ہے کہ میڈیا میں ان کی تعداد افسوسناک حد تک زیادہ ہے۔ اس کی ایک جھلک ویب سائٹ dawn.com کی ایک رپورٹ میں کئے جانےوالے شرمناک انکشافات ہیں، جہاں میڈیا سے وابستہ متعدد خواتین نے بتایا ہے کہ انہیں کام کے دوران ہراساں کیا گیا ہے۔

 

ایک خاتون نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا احوال بیان کرتے ہوئے بتایا ”میں نے ایک انتہائی مشہور رپورٹر کو اپنی کمپین  پر بلایا ۔ اس نے مجھے واٹس ایپ کے ذریعے پراجیکٹ کی معلومات بتانے کو کہا۔ بعد میں اس نے مجھے کال کی اور جب میں اسے پراجیکٹ کی تفصیلات بتارہی تھی تو وہ کہنے لگا ’پہلے تو مجھے یہ بتائیں کہ یہ آپ ہی کی تصویر ہے ۔ جس پر میں کہا ں کہ جی ہاں میری تصاویر ہے ۔  اس پر وہ کہنے لگا کہ  پھر تو میں ضرور آؤں گا
جب ہم ملیں  تو اس نے بات کرتے ہوئے  میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا اور کہنے لگا کہ ’میں نے اتنے پیارے منہ سے کبھی اتنی پیاری آواز نہیں سنی۔ وہ اس ملاقات کے بعد بھی میرے ساتھ روابط کی کوشش کرتا رہا لیکن میں نے اسے کوئی جواب نہیں دیا۔“
 

Leave a Reply