اس بچی کے ساتھ ڈرائیور نے کیا کر ڈالا

اس بچی کے ساتھ ڈرائیور نے کیا کر ڈالا

 

قصور میں قتل ہونے والی ننھی زینب کے بہیمانہ قتل کے بعد لوگوں نے اپنے بچوں پر خصوصی توجہ دینا شروع کی ہے لیکن بہت سے والدین اب بھی ایسے ہیں جو اپنے گھریلو ملازمین پر حد سے زیادہ اعتبار کرتے ہیں یہ اعتبار بعض اوقات انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے اور بچوں کی پوری زندگی تباہ کردیتا ہے۔ گھریلو ملازمین پر حدسے زیادہ اعتبار کا نقصان دہ مظاہرہ کراچی میں بھی پیش آیا جس کا احوال ایک فیس بک صارف ندا ذیشان نے اپنی پوسٹ میں کیا ہے۔
ندا ذیشان نے فیس بک پر کی گئی اپنی پوسٹ میں ایک چھوٹی بچی کی تصویر شیئر کی جو ایک آئس کریم کھا رہی ہے جبکہ اس کے قریب ہی شلوار قمیض میں ملبوس شخص کھڑا ہوا ہے۔ خاتون نے بتایا کہ وہ شخص اس بچی کا ڈرائیور ہے جو اس کو شاز گراسری سٹور لے کر آیا ہے۔ ” کاﺅنٹر پر انتظار کے دوران وہ شخص نیچے بیٹھ گیا اور سر عام بچی کے جسم پر نا شائستہ انداز میں ہاتھ پھیرنے لگا، ڈرائیور نے بچی کو گلے سے لگایا اور اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا، پھر اس نے بچی سے کہا کہ وہ اس کا گال چومے“۔
ندا ذیشان نے کہا کہ اس ساری حرکت کے بعد ڈرائیور نے بچی سے پوچھا ’ ’میں اچھا ہوں نا، ماما کو بولنا مجھے انکل کے ساتھ پارک جانا ہے، آپ کے ساتھ نہیں انکل کے ساتھ جاﺅں گی، کل میں آپ کو پارک لے جاﺅں گا ، ٹھیک ہے؟ ماما کو آپ کو منالینا پھر ہم مزے کریں گے باہر“۔
خاتون نے مزید بتایا کہ اس شخص نے بچی کے ساتھ یہ تمام حرکتیں کرنے اور آئندہ کی منصوبہ بندی کے بعد اسے ایک آئس کریم بطور انعام کھانے کیلئے دی ۔ ” وہ اس سٹور کے ریگولر کسٹمر نہیں تھے کیونکہ میں مختلف اوقات میں اس جگہ پر خریداری کیلئے جاتی ہوں، ہاں البتہ میں ایک کام کرسکتی ہوں، میں سٹور کے مالک سے سی سی ٹی وی فوٹیج لوں گی اور ان لوگوں کو تلاش کروں گی“۔

Leave a Reply