گناہ لوٹ کر آتا ہے

گناہ لوٹ کر آتا ہے

ایک بادشاہ تھا جس کے عدل و انصاف کے چرچے تھے اس کی محفل میں علماء بھی موجود ہوتے تھے ایک دن ایک عالم نے مسئلہ بتایا کہ زنا ایک قرض ہے جس کو وہ بندہ خود چکاتا ہے یا پھر اس کی اولاد میں سے کسی کو یہ قرض ادا کرنا پڑتا ہے ۔

بادشاہ نےجب یہ سنا تو اس نے کہا کہ چلوں اس بات کو آزماتے ہیں ۔ اس نے اپنی بیٹی کو جو کہ بے حد حسین تھی کہا کہ بیٹی کل تم نے بازار  جانا پے اور اپنا نقاب ہٹا کر بغیر سرکاری پروٹوکول کے جانا ہے ۔ تمہارے ساتھ کچھ بھی ہو وہ مجھے آکر بتانا ہوگا ۔

بیٹنی نے باپ کا کہا مان لیا اور اگلے دن بغیر نقاب کے عام لوگوں کی طرح بازار میں نکل گئی ۔ کافی دیر تک گھومتی رہی لیکن اس کے ساتھ کسی نے بھی چھیڑ چھاڑ نہیں ۔ جو بھی اسے دیکھتا تو آنکھیں جھکا لیتا۔ جب محل واپس ہوئی تو ابھی راہدرای میں تھی کہ ایک خادم آیا اور اس کو گلےلگا کر اس کا بوسہ لےکر بھاگ گیا ۔

اس نے جا کر خادم کے بارے میں باشاہ کو بتایا ۔ بادشاہ نےجیسے ہی سنا تو فورا استغفار کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا ۔ بیٹی میں نے پوری زندگی غیر عورت کی طرف نہیں دیکھا ہا ں ایک دفعہ میں نے ایک  غیر عورت کو گلے لگا کر بوسہ لیا تھا اور آج وہ بدلہ تم سے وصول ہو چکا ہے ۔

Leave a Reply