خطیب شان نبیؐ بیان کر رہا تھا کہ اچانک اس کے ساتھ یہ حادثہ ہو گیا

خطیب شان نبیؐ بیان کر رہا تھا کہ اچانک اس کے ساتھ یہ حادثہ ہو گیا

انسان کی زندگی کتنی ہے کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی کوئی جانتا ہے کہ اس کی موت کب آنے والی ہے ۔ خوبصورت زندگی تو وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں گزرے اور ایمان کی حالت میں موت آجائے کیونکہ ایسی موت انسان کو دنیا کے غموں سے نجات دلاتی ہے اور آخرت کے خوبصورت مناظر اور درجات پر لےجانےکا سبب بن جاتی ہے ۔ اللہ کی جس کو ایسی زندگی عطا فرمائیں جنت خود اس کے لئے دعا کرتٓی ہے قبر اس سے ملنے کے لئے بے تاب ہوتی ہے اور چرند پرند اس کےلہئے دعا خیر کرتےہیں ۔ لیکن جو لوگ اللہ اور اس کے روسل کی بتائی ہوئی تعلیمات سے منہ موڑ لیں تو اللہ کی رحمت بھی ان سے منہ موڑ لیتی ہے اور اس کی زندگی بظاہر خوش ٓحال دکھائی دیتی ہے لیکن ہوتا وہ مصیبتوں میں ہے ۔ کیونکہ دل کا سکون اللہ کی یاد میں ہے اور دی کے مطابق زندگی گزارنے میں ہے ہم روز دیکھتے ہیں کہ ہمارا

جاننے والا بالکل سلامت ہوتا ہے لیکن اگلی صبح پتا چلتا ہے کہ فوت ہو چکا ہے جس سے اس دنیا کی بے ثباتی کا یقین مزید بڑھ جاتا ہے ایسے ہی ایک واقع گزشتہ دنوں سیالکوٹ میں پیش آیا جس میں سید ناظر حسین شاہ اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بیان کر رہے ہوتے ہیں کہ اچانک انہیں موت گھیر لیتی ہے اور ان کے ارد گرد کھڑے لوگ جو ان کے ایک اشارے پر اپنی جان قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں وہ اس موقع پر کچھ بھی نہیں کرپاتے ۔ تو یہ اللہ کی شان ہے کہ کسی کو ایسی با برکت موت عطا فرمائے کہ آخری کلمات اللہ کے نبی کی شان ہو ۔ کہ قیامت کے روز اٹھایا جائے تب بھی یہی کلمات اس کے منہ سے ادا ہو رہے ہونگے ۔

Leave a Reply