نابینا حکیم اور رانی کا دلچسپ واقعہ

نابینا حکیم اور رانی کا دلچسپ واقعہ

یوں تو حکیم بہت سے گزرے ہیں جن کے ہاتھ میں مریض کا ہاتھ آجاتا تو صرف نبض کو دیکھنے سے بیماری کیجڑ تک پہنچ جاتے اور اس کا علاج کرتے جو کبھی بھی خطا نہیں ہوتا تھا لیکن کچھ حکیموں نے اس فن میں خوب نام کمایا جیسے حکیم اجمل وغیرہ ۔ لیکن ایک ایسے حکیم بھی گزرے ہیں جو کہ نابینا تھے لیکن کمال کے ماہر تھے اور ان کی اس مہارت کی وجہ سے شاہی دربار میں ان کا خاص مقام ہوا کرتا تھا اور اکثر مہاراجے ان سے علاج کے لئے وقت لیتے تھے اور ان کو عزت کے ساتھ بلاتے تھے

یہ برصغیر کے نامور حکیم عبدالوہاب انصاری المعروف حکیم نابینا تھے، جن کا نام بڑے عزت احترام سے لیا جاتا ہے.

 

فن طبابت پر ان کی دسترس کے بارے میں خواجہ حسن نظامی اپنے ۱۳ ستمبر ۱۹۲۴ء کے روزنامچہ میں لکھا کہ حکیم نابینا صاحب مہاراج سرکش پر شار کے بچوں کے نبض دیکھنے کوٹھی تشریف لے گئے ،میں حیران رہ گیا کہ رانیوں اور بیگمات اور بچوں کی نبض دیکھنے کے بعد حکیم صاحب نے کسی کا حال نہیں پوچھا.خود ہی بیمار کی کیفیت بیان کر ڈالی جس کی تصدیق مریضوں نے بھی کی  ۔ میری حیرانگی دیکھ کر راجہ نے ایک قصہ سنایا کہ ایک دن حکیم صاحب کو بلایا تو میں نے ان کو رانی کی جگہ اپنا ہاتھ دکھایا ۔ جیسے ہی حکیم نے میرا ہاتھ پکڑا تو فورا بول اٹھے کہ یہ تو رانی کا ہاتھ نہیں بلکہ  راجہ صاحب کا ہے جس سے ہم سب خوب محفوظ ہوئے

Leave a Reply