کیا آپ جانتے ہیں کہ بسوں میں کنڈیکٹر کی جگہ کام کرنے والی لڑکیاں کہا ں سے آتی ہے

کیا آپ جانتے ہیں کہ بسوں میں کنڈیکٹر کی جگہ کام کرنے والی لڑکیاں کہا ں سے آتی ہے

آج جو واقع میں آپ سےبیان کرنے لگا یہ ایک انہتاہئی حساس نوعیت کا ہے اور اس میں ہمارے معاشرہ کے ایک گھناونا چہرہ بھی سامنے نظر آئے گا کیونکہ ہم صرف ظاہری آنکھ سے نظر آنی والی شی کو دیکھتے ہیں اس کےئ پیچھے کیا محرکات ہیں اور اس کے اسباب کیا  ہے اس کے بارے  میں ہم جاننے کی کوشش نہیں کرتے اور اگر سچائی کا علم ہو تب بھی اس کو خود تک رکھتے ہیں دوسروں کو اس کا علم نہیں ہونے دیتے ۔

 

کچھ ہفتوں پہلے میرا فیصل آباد سے اسلام آباد کا سفر تھا. مقررہ دن سے ایک دن پہلے میں نے ادھر گوجرانوالہ میں ایک بس ٹرمینل پر کال کی.

انکی ابھی ابھی نئی ڈائیو کی سروس شروع ہوئی. جس میں ایک لڑکی ہوسٹس ہوتی ہے. ایک دن پہلے کال کرنے پر مجھے ایڈوانس بکنگ میں ہوسٹس کے بلکل ساتھ والی سیٹ ملی. خیر ڈائیو میرے علاقے سے گزری تو میں بیٹھ گیا. لڑکی چونکہ پاس ہی تھی. کولڈ ڈرنک نکالی اور مجھے پیش کر دی. ایک مسکراہٹ کے ساتھ اسکا شکریہ ادا کیا. اور کولڈ ڈرنک پیا. پھر نمکو بھی ملی. جب موٹروے پر آئے تو اسنے کیک اور جوسز پیش کئے. جب ہوسٹس فارغ ہو گئی اور میرئے ساتھ آ کر بیٹھی. میں نے اسکے چہرے پر غور کیا تو مجھے لگا کہ اسکی ابھی عمر بہت کی کم ہے. میں نے لڑ کی سے پوچھا کہ تمھاری عمر کیا ہے. بولی! سر میری عمر پندرہ سال ہے. جب مجھے اسکی عمر کا پتہ چلا تو مجھے

ایک جھٹکا لگا. کہ اتنی کم عمر میں ملازمت. تنخواہ پوچھی. تو بتا یا کہ بیس ہزار ہیں. میں نے پو چھا کہ تم کو کتنا عرصہ ہوا. ملازمت کرتے ہوئے. بولی کہ میرا ابھی پہلا مہینہ ہے. اور یہ سروس بھی ابھی ہی شروع ہوئی ہے. میں نے پوچھا کہ ملازمت کرنے کی کوئی خاص وجہ. وہ بولی کہ ابو فوت ہو گئے ہیں. اور گھر کے حالات ٹھیک نہیں ہے. جسکی وجہ سے ملازمت کر رہی ہوں. اور تعلیم پوچھنے پر پتہ چلا کہ ابھی میٹرک کا رزلٹ بھی نہیں آیا. اور گھر کے حالات اچھے نہ ہونے کی وجہ سے پڑھائی چھوڑ دی ہے. میں نے جب پوچھا کہ لوگوں کا تمھارئے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہے. تو اس بچاری کی آنکھوں میں آنسوآگئے. اور کچھ نہ آگے بول سکی تو میں ساری بات سمجھ گیا. حوصلے کے لیے میرے پاس الفاظ بھی نہیں تھے کہ اسکو حوصلہ دے سکوں. بس اسکے سر پر ہاتھ ہی رکھ دیا. جب ہاتھ رکھا تو اسکی آنکھوں میں سے پانی اسکی رخصار پر بہہ گیا

یاد رکھیں یہ لڑکیاں بھی کسی کی بہن اور کسی کی بیٹی ہو سکتی ہے اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ کام پر آںے والی لڑکیاں صرف اپنا عیش کے لئے آتی ہیں بلکہ بہت سی مجبوریاں ان کے پیچھے ہوتی ہے بہت سے مسائل کا سامنا ان کو کرنا پڑتا ہے اس لئے ان کو عزت دیں ان کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ ان کی مجبوریاں سمجھے کی کوشش کریں

Leave a Reply