اصحاب رسول کی قبور کشائی کا ایمان افروز واقعہ

اصحاب رسول کی قبور کشائی کا ایمان افروز واقعہ

یہ واقعہ 20ذوالحجہ 1351بحری میں پیش آیا۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک رات شاہ عراق نے صحابی رسول حضرت حنیفہ الیمانی ؓ جو کہ رازدار صحابی کے طور پر مشہور ہیں کو خواب میں دیکھا۔ آپ ؓ نے شاہ عراق سے فرمایا کہ میرے مزار میں پانی اور حضرت جابرؓ کے مزار میں نمی آنا شروع ہو گئی ہے اس لئے ہم دونوں کو اصل مقام سے منتقل کر کے دریائے دجلہ سے ذرا فاصلے پر دفن کر دیا جائے۔ امور سلطنت میں مشغول شاہ عراق دن کے وقت یہ خواب بھول گئے۔ دوسری شب انہیں پھر یہی ارشاداور اگلی صبح وہ پھر بھول گئے۔ تیسری شب حضرت حنیف الیمانی ؓ نے عراق کے مفتی اعظم کو خواب میں اسی غرض سے ہدایت کی نیز فرمایا کہ ہم دو راتوں سے بادشاہ سے بھی کہہ رہے ہیں لیکن وہ ہیں لیکن وہ مصروفیت میں بھول جاتا ہے۔ اب تم بادشاہ کو اس طرف متوجہ کروائو۔ اس سے کہو کہ ہمیں موجودہ قبروں سے منتقل کرنے کا فوری بندوبست کرے۔ چنانچہ مفتی اعظم نے وزیراعظم نوری السعید پاشا کو ساتھ لیکر بادشاہ سے ملاقات کی اور اپنا خواب سنایا۔ شاہ عراق نے کہا کہ آپ اس سلسلے میں فتویٰ دے دیں۔ مفتی اعظم نے صحابہ کرام ؓ کے مزارات کو کھولنے اور ان کو منتقل کرنے کا فتویٰ دیدیا۔ یہ فتویٰ اور شاہ عراق کا فرمان اخبارات میں شائع کر دیا گیا ۔ جس سے تمام دنیائے اسلام میں جو ش و خروش پھیل گیا۔رائٹر اور خبر رساں اداروں نے اس خبر کی دنیا بھر میں تشہیر کر دی۔

حج کے موقع پر دنیا بھر کے بیشتر ممالک سے شاہ عراق کے نام لا تعداد خطوط شرکت کیلئے پہنچنا شروع ہو گئے۔ اس موقع پر حکومت عراق نے خاص طور پر کسٹم اور روپے کی تمام پالیسیاں ختم کر دیں۔ حتیٰ کہ پاسپورٹ کی قید بھی نہ رکھی۔ مدائن جیسا چھوٹا قصبہ ان دنوں دس روز کے اندر اندر آبادی اور رونق کے لحاظ سے دوسرا بغداد بن گیا۔ترکی اور مصر سے خاص طور پر سرکاری وفود آئے۔ان دس دنوں میں جن جن خوش نصیب لوگوں کی قسمت میںان بزرگوں کی زیارت لکھی تھی وہ پہنچ چکے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پانچ لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔ پیر کے روز بارہ بجے کے بعد مزارات مقدسہ کھولے گئے۔ معلوم ہوا کہ مزار میں نمی پیدا ہو چکی تھی۔ پہلے حضرت حنیفہ الیمانی ؓ کے جسم مبارکہ کوکرین کے ذریعہ اس طرح اٹھایا گیا کہ اکا جسم مقدس کرین پر نصب کئے گئے اسٹریچر پر خود بخود آگیا۔ کرین سے اسٹریچر کو الگ کر کے شاہ عراق مفتی اعظم عراق، وزیر مختار جمہوری ترکی اور شہزادہ فاروق(مصر کے ولی عہد)نے کندھا دیا اور بڑے احترام سے ایک شیشے کے تابوت میں رکھ دیا اور اسی طرح حضرت جابر ؓ کے جسم مبارکہ کو نکالا گیا۔

الحمد اللہدونوں اصحاب رسولؓ کے اجسام مقدسہ ان کے کفن حتیٰ کہ ریش مبارک کے بال تک بالکل صحیح سلامت تھے۔ اجسام مبارکہ کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا تھا کہ ابھی شاہد انہیں رحلت فرمائے چند گھنٹے سے زائد کا وقت نہیں گزار۔ سب سے عجیب بات تو یہ تھی کہ ان دونوں مقدس ہستوں کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور ان میں ایک عجیب چک تھی۔ کئی لوگوں نے چاہا کہ ان کیآنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھیں لیکن ان کی نـظریں اس چم کے آگے ٹھہرتی ہی نہیں تھیں۔بڑے بڑے ڈاکٹرز یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ ایک جرمن ماہر چشم جو بین الاقوامی شہرت کا حامل تھا اس تمام کارروائی میں بڑی دلچسپی لے رہا تھا۔ اس منظر سے اتنا بے اختیار ہوا کہ آگے بڑھ کر مفتی اعظم سے یہ کہتے ہوئے کہ مذہب اسلام کی حقیقت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہےالحمد اللہ مسلمان ہو گیا۔ عراقی فوج نے باقاعدہ سلامتی پیش کی۔ اس کے بعد بادشاہوں اور علما کے کندھوں پر تابوت اٹھے۔ سفرأ اور اعلیٰ حکام کو بھی یہ شرف حاصل ہوا۔ اس کے بعد ہر شخص جو وہاں موجود تھا اس سعادت سے مشرف ہوا۔ کم وہ بیش 80سال قبل ہونے والا یہ ایمان افروز واقعہ 20سے 25سال تک بارہا اردو جرائد میں شائع ہوتا رہا ہے۔

Leave a Reply