زمین پر اتارے جانے کے بعد حضرت آسم علیہ السلام کی پہلی فرمائش

زمین پر اتارے جانے کے بعد حضرت آسم علیہ السلام کی پہلی فرمائش

حضرت آدم علیہ السلام پہلے انسان تھے جن کو اللہ نے جنت میں رکھا اور پھر ان کے لئے بی بی حوا کو پیدا فرمایا جو ان کی غمگسوار اور فرصت کے لمحات کی ساتھی بن گئی ۔ حضرت آدم علیہ السلام کس طرح دنیا پر اتارے گئے اور اس کی کیا وجہ تھی اس کے بارے میں قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں مکمل تفصیل موجود ہے ۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ نے زمین پر اتارا تو انہوں نے ایک عجیب فرمائش کی ۔


حضرت آدم علیہ السلام بہشت سے زمین پر تشریف لے آئے تو بارگاہ خداوندی میں عرض کیا۔ کہ خدایا میں یہاں نہ تو ملائکہ کی تسبیح و عبادت کی آواز سن سکتا ہوں نہ ہی کوئی عبادت خانہ نظر آتا ہے جیسا کہ آسمان میں بیت المعمور دیکھتا تھا۔ جس کے ارد گرد ملائکہ طواف کرتے تھے۔ اس پر اللہ پاک کا حکم آیا کہ جاؤ جہاں پر ہم نشان بتائیں وہاں پر کعبہ بیت اللہ بنا دو۔

اور اس کے ارد گرد طواف بھی کر لو اس کی طرف نماز بھی ادا کر لو۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام ان کی رہبری کے لئے ان کے ساتھ چل پڑے۔ اور انہیں اس مقام پر لے آئے جہاں سے زمین بنی تھی یعنی جس جگہ جھاگ بنی تھی اور پھر وہی جھاگ پھیل کر پوری زمین بنی۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنا پر مار کر ساتویں زمین تک بنیاد رکھ دی۔ جس کو ملائکہ نے پانچ پہاڑوں کے پتھروں سے بھرا، کوہ طور، کوہ لبنان، کوہ جودی، کوہ طور زیتا، اور کوہ حرا۔ بنیاد بھرنے کے بعد نشان کے لئے چاروں طرف کی دیواریں بھی اٹھا دیں۔ اس طرف حضرت آدم علیہ السلام نماز بھی پڑھتے رہے اور طواف بھی کرتے

رہے۔ طوفان نوح تک کعبہ اسی حالت میں رہا۔ طوفان کے وقت وہ عمارت آسمان پر اٹھا لی گئی اور وہ جگہ ایک اور اونچے ٹیلے کی صورت میں رہ گئی۔ مگر لوگ پھر بھی برکت کے لئے یہاں آتے تھے۔ اور آ کر دعائیں مانگتے تھے۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے تک کعبہ اسی حالت میں رہا۔ جب حضرت اسماعیل اور حضرت حاجرہ یہاں آ کر رہے اور یہاں کچھ آبادی ہو گئی تو حضرت حاجرہ کے انتقال کے بعد حضرت ابراہیم کو حکم ہوا کہ حضرت اسماعیل کو ساتھ لے کر خانہ کعبہ کی عمارت تعمیر کریں۔یہ ان کی پہلی خواہش تھی جو کہ زمین پر اتارے جانے کے بعد انہوں نے اللہ سے ظاہر کی اور اللہ نے ان کی فرمائش اور خواہش کو پورا کیا اور ان سے فرمایا کہ کعبہ تعمیر کرے اور وہاں اللہ کی حمد و ثنا بیان کریں ۔ قرآن میں بھی ہے کہ زمین پر اللہ کا سب سے پہلا گھر بیت اللہ بنایا گیا جو کہ لوگو ں کا کعبہ ہے

Leave a Reply