سیکس کرنے کا بادشاہی طریقہ سیکھیں

سیکس کرنے کا بادشاہی طریقہ سیکھیں

اس طریقے کو بادشاہ کا طریقہ بھی کہا جاتا ہےپوری دنیا میں‌معروف عام اور زیادہ استعمال ہونے والا طریقہ یہی ہےبعض لوگ غلط طور پر اسے اسلامی طریقہ سمجھتے ہیں تاہم آج کل اسے دقیا نوسی اور بورنگ طریقہ سمجھا جاتا ہےاس میں‌عورت نیچھے اور مرد اوپر ہوتا ہےعموماََ آسان دخول کے لیے عورت کی کمر کے نیچے تکیہ رکھا جاتا ہے خصوصاََ اگر عورت دبلی پتلی اور اسکے سرینHipsبھی دبلے پتلے ہوں مرد عورت کی دونوں ٹانگوں کے درمیان گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہےعور ت کی ٹانگیں‌مرد کے دونوں طرف تو کبھی مرد کو کندھوں‌پر ہوتی ہیں کبھی مرد کے جسم کے ساتھ ملی ہوئی اور کبھی اور کبھی کھلی ٹانگیں‌کھلی ہوں تو دخول زیادہ آسان ہو جاتا ہے.

اس طریقے کے بہت سے فوائد ہیں نئے شادی شدہ جوڑے کے لیے یہ ایک مفید طریقہ ہے اس میں دخول آسان ہے اور اس طریقے میں اور اس طریقے میں حمل ٹھہرنا نسبتاََ آسان ہے وہ مرد جن کو تناو کم ہو ان کے لیے مفید ہےاس میں دخول کے بعد ذکر فرج سے باہر نہیں‌نکلتا گہرے دخول اور چھوٹے ذکر کے لیے یہ ایک موثر طریقہ ہےاس صورت میں بیوی کی ٹانگیں مرد اپنے کندھوں‌پر رکھ لیتا ہےاس طرح اگر مرد چھوٹا ہےاور عورت بڑے جسم والی ہےوہاں‌یہ ایک اچھا طریقہ ہے بعض ماہرین کے مطابق دونوں کے جلد انزال کے لیے ایک مفید طریقہ ہے وہ افراد جو زیاہ دیر تک مباشرت کر سکتے ہیں ان کے لیے شاندار اور زیادہ لطف انگیز طریقہ ہے.

اس طریقے میں کنٹرول مرد کے پاس ہوتاہے لہٰذا وہ اپنی مرضی سے حرکت کرتا ہے اور مباشرت سے زیادہ لطف اٹھاتا ہےاس طریقہ کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ اس میں خاوند بیوی کے حساس ترین حصوں‌کو آسانی سے مشتعل کر سکتا ہےجو کہ ہر عورت کی جنسی لذت اور آرگیزم کے حصول کے لیے بہت ضروری ہےاس طریقے میں‌بیوی خاوند کے ذکر اور خصیوں‌کو مشتعل کر سکتی ہے جو کہ مرد کے سحر انگیز ہے.

تاہم اس طریقے کی کچھ خامیاں بھی ہیں مثلاََ یہ طریقہ ان افراد کے لیے بد ترین ہے جو سرعتِ انزال کے مریض ہیں یعنی جو جلد منزل (Discharge) ہو جاتے ہیں کیوں کے اس طریقہ میں‌مرد جلدی منزل ہو جاتا ہےاگر چہ بعض مردوں کے لیے ٹھیک ہے کیوں کے کنڑول مرد کے پاس ہوتا ہےاگر مرد کا وزن زیادہ ہو تو وہاں یہ غیر ماسب طریقہ ہےکیوں کہ عورت کے لیے خاوند کا وزن سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے اس طریقہ میں عموماََ عورت کو دخول پر کنٹرول حاصل نہیں‌ہوتا جس کی وجہ سے بعض اوقات گہرے دخول سے عورت کو تکلیف ہوتی ہے.

Leave a Reply