137 مرد اور ایک نوجوان لڑکی ۔۔۔ ایسی شرمناک ترین خبر آگئی کہ پوری انسانیت کانپ اُٹھے گی ان سب نے مل کر میرا ریب کیا لیکن عوام اور ادارے سب کچھ جانے کے باوجود

137 مرد اور ایک نوجوان لڑکی ۔۔۔ ایسی شرمناک ترین خبر آگئی کہ پوری انسانیت کانپ اُٹھے گی ان سب نے مل کر میرا ریب کیا لیکن عوام اور ادارے سب کچھ جانے کے باوجود

137 مرد اور ایک نوجوان لڑکی ۔۔۔ ایسی شرمناک ترین خبر آگئی کہ پوری انسانیت کانپ اُٹھے گی ان سب نے مل کر میرا ریب کیا لیکن عوام اور ادارے سب کچھ جانے کے باوجود137 مرد اور ایک نوجوان لڑکی ۔۔۔ ایسی شرمناک ترین خبر آگئی کہ پوری انسانیت کانپ اُٹھے گی ان سب نے مل کر میرا ریب کیا لیکن عوام اور ادارے سب کچھ جانے کے باوجود

مغربی معاشرے میں تہذیب و ترقی کا ڈھنڈورہ تو بہت پیٹا جاتا ہے لیکن اخلاقی گراوٹ اور بے راہ روی کا یہ عالم ہے کہ رونگٹے کھڑے کر دینے والے جرائم بھی معاشرے کی نظروں سے اجھل ہیں۔ ایک ایسی ہی لرزا دینے والی داستان برمنگھم شہر سے تعلق رکھنے والی نو عمر لڑکی کی ہے، جسے دو سال کے دوران 137 مردوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا

لیکن اس کے گھر والوں ، سکول کے اساتذہ ، سوشل ویلفیئر کے اداروں اور قانون نافذ کرنے والوں میں سے کسی کو بھی اس ظلم کی خبر نہ ہوئی۔ویب سائٹ برمنگھم میل کی رپورٹ کے مطابق 13 سالہ پاﺅلا سمتھ کو پہلی بار سکول جاتے ہوئے ایک شخص نے اغوا کیاجاری ہے۔

اور اسے اپنے گھر لیجا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پاﺅلا کا کہنا ہے کہ اس شخص نے اسے جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیں اور یہ دھمکی بھی دی کہ اگر اس نے کسی کو کچھ بتایا تو وہ اس کی چھوٹی بہن کے ساتھ بھی یہی سلوک کرے گا۔ نو عمر لڑکی ان دھمکیوں کی وجہ سے سہم گئی اور اپنے ساتھ ہونے والے ظلم پر خاموشی اختیار کر لی۔

کچھ ہی عرصے بعد میک گلاسن نامی ایک شخص نے فیس بک پر اس سے رابطہ کیا اور خود کو چائلڈ کونسلنگ تھراپسٹ ظاہر کرتے ہوئے اسے اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش شروع کر دی۔ پاﺅلا کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتی کہ یہ شخص اسے اغوا کرنے والے شخص نائجل گریو کو جانتا تھا یا نہیں، لیکن بظاہر ایسے ہی لگتا ہے کہ اسے سب کچھ معلوم تھا۔۔جاری ہے۔

Leave a Reply