ائیرہوسٹس نے ایسا شرمناک ترین انکشاف کردیا کہ ہنگامہ برپاہوگیا

ائیرہوسٹس نے ایسا شرمناک ترین انکشاف کردیا کہ ہنگامہ برپاہوگیا

خواتین کو جنسی راساں کرنا ایک عام سی بات بن چکی ہے خصوصاً جو کواتین نوکری پیشہ ہیں ان کو اس مسلئے کا سامنا اکثر اوقات رہتا ہے خواتین کو جنسی ہراسگی کا نشانہ بنایا جانا دنیا بھر کا مسئلہ ہے اور اکثر مختلف ممالک سے ایسے شرمناک واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ اب آسٹریلیا کی ایک سابق ایئرہوسٹس نے اس حوالے سے ایسا انکشاف کر دیا ہے کہ ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ میل آن لائن کے مطابق کینٹس ایئرویز کی سابق ایئرہوسٹس ہینارولینڈز نے بتایا ہے کہ ”جب میں کینٹس کے ساتھ بطور ایئرہوسٹس نوکری کرتی تھی تو مجھے اکثر جنسی ہراسگی کا سامنا رہتا تھا۔

ایک منیجر اکثر میری پشت پر ہاتھ مار کرفحش فقرے کہتا اورکبھی وہ میری چھاتی پر ہاتھ مارتا اور اس کی تعریف کرنے لگتا۔ بطور ملازم، بطور خاتون اور بطور انسان جو میرے حقوق تھے کینٹس کی انتظامیہ نے کبھی مجھے وہ حقوق نہیں دیئے۔“ہینا رولینڈز نے مزید بتایا کہ ”فضائی میزبان بننا میرا بچپن سے ہی خواب تھا اور جب مجھے کینٹس میں نوکری ملی تو میں سمجھی کہ میرے خواب کو تعبیر مل گئی ہے لیکن اس فضائی کمپنی میں تحفظ کے ساتھ کام کرنا ہمیشہ میرے لیے خواب ہی رہا۔ میں نے 6سال سے زائد کینٹس کے ساتھ کام کیا اور اس تمام عرصے میں میرے ساتھ جنسی ہراسگی معمول کی بات تھی۔میں نے جنسی طور پر ہراساں کرنے والوں کے خلاف شکایات بھی کیں لیکن کبھی ان پر انتظامیہ نے کان نہیں دھرے۔ یہی وجہ تھی

کہ میں اس منیجر کو جتنا منع کرتی وہ اتنا ہی مجھے زیادہ تنگ کرتا تھا۔ ایک بار شکایت پر مجھے کسی اور منیجر کے ساتھ لگا دیا گیا لیکن چند دن بعد واپس میری ڈیوٹی اسی منیجر کے ساتھ لگا دی گئی۔“ کینٹس ایئرویز نے ہینا کے اس انکشاف پر ردعمل دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ ”کمپنی میں بسااوقات خواتین کے ساتھ مرد ملازمین کی طرف سے ایسا رویہ اختیار کیا جاتا ہے جو ناقابل قبول ہے تاہم کمپنی کئی حوالوں سے خواتین کو مدد کی پیشکش کرتی ہے۔ ہم کام کی جگہ پر جنسی ہراسگی کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور ہر واقعے کی تحقیقات کی جاتی ہیں اور ملوث ملازم کو فوری طور پر اپنے کیے پر پشیمانی کا اظہار کرنا پڑتا ہے اور متاثرہ لڑکی سے معافی مانگنی پڑتی ہے۔“نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کیجئیے

Leave a Reply