شادی کی پہلی رات اور میری دردناک سچی کہانی

شادی کی پہلی رات اور میری دردناک سچی کہانی

خاوند نے شادی کی چوتھی رات نئی نویلی دلہن کو رقم کے عوض درندے کے حوالے کردیا، ملزم رات بھرگن پوائنٹ پر یتیم بچی کی عزت سے کھیلتا رہا، صبح ہونے پر لڑکی کے دیور، دیوتانی اور خالہ ساس وغیرہ نے طلائی زیورات، نقدی چھیننے کے بعد تشدد کرکے گھر سے بھگادیا تاہم واقعہ کے 26 دن بعد آر پی او کے حکم پر مقدمہ درج کر لیا گیا لیکن حسب معمول بااثر ملزمان تاحال گرفتار نہ ہوسکے۔

محلہ عزیز آباد کی رہائشی یتیم بچی حسینہ علی دختر علی شیر نے پولیس کو بتایا کہ رحمانیہ مارکیٹ محلہ باغ ماہی کے رہائشی محمد وسیم ولد نظام الدین سے نکاح اور رخصتی ہوئی تو چار دن بعد ر ات کو تقریباً 10/11 بجے میرا خاوند اور دیور محمد سلیم ایک نامعلوم شخص کے ساتھ جسے کاشف بھائی کے نام سے پکاررہے تھے، گھر آئے، بعدازاں میرا خاوند محمد وسیم گھر سے باہر چلا گیا تو اس کے دوست کاشف نامی شخص نے مجھے زبردستی پکڑلیا۔ میرے شور پر میرے دیور نے گھر کا بیرونی دروازہ بند کردیا تو کاشف نے پسٹل نکال لیا اور مجھے جان سے ماردینے کی دھمکیاں دیتا ہوا زبردستی پکڑ کر کمرے میں لے گیا اور میرے کپڑے پھاڑدئیے۔ میرے مسلسل شور کے باوجود میرا دیور محمد سلیم، جو گھر میں موجود تھا، میری مدد کے لئے نہیں آیا۔

روزنامہ خبریں کے مطابق محمد کاشف کمرے کی کنڈی اندر سے بند کرکے ساری رات خاتون کو بے آبرو کرتا رہا، صبح سویرے کمرے کی باہر سے کنڈی لگا کر چلا گیا۔ کاشف کے جانے کے بعد میرا خاوند محمد وسیم، دیور محمد سلیم، دیورانی شبانہ دو نامعلوم خواتین جن کو میرے خاوند وغیرہ خالہ کہہ رہے تھے اور سعیدن بی بی زوجہ وزیرعلی آئے اور کمرے کا باہر سے دروازہ کھولا ،میں ان کو زیادتی کے بارے میں بتایا تو ملزمان نے مجھے زدوکوب کرتے ہوئے مجھ سے میرے پانچ تولہ کے طلائی زیورات اور ایک لاکھ روپے نقدی جو میرے بھائیوں نے مجھے دی تھی چھین لئے۔

Leave a Reply