کینسر سے مرتی مریضہ کی جان کس نے بچائی

کینسر سے مرتی مریضہ کی جان کس نے بچائی

ہم ہر وقت سنتے ہیں کہ یہ نفسا نفسی کا دور ہے جہاں کسی کو کسی کی خبر نہیں، جسے دیکھو صرف اپنی ذات کے لئے جیتا اور دوڑبھاگ کرتا نظر آتا ہے۔ شاید بڑی حد تک یہ بات درست بھی ہے لیکن اب بھی اس دنیا میں نیک دلی اور انسان دوستی کی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ جنہیں دیکھ کر انسانیت پر یقین پختہ ہو جاتا ہے۔

ایک ایسی ہی خوبصورت مثال برطانیہ میں دیکھنے کو ملی، جہاں کینسر کے باعث موت کی منتظر ایک خاتون کی زندگی بچانے کے لئے اس کی سوتن نے ایسا کارنامہ سرانجام دے ڈالا کر ہر کوئی داد دینے پر مجبور ہو گیا ہے۔ رپورٹ  کے مطابق نکولا ہچنز نامی خاتون کو ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ اس کا کینسر آخری مرحلے میں داخل ہو چکا تھا اور اس کے پاس زندہ رہنے کو بس چار ماہ ہی بچے تھے۔ کینسر کی رسولیاں نکولا کے پھپھڑوں، جگر، اور ریڑھ کی ہڈی تک پھیل گئی تھیں اور امید کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ ایسے میں نکولا کو پتا چلا کہ ترکی میں ڈاکٹر ایک نئے طریقہ علاج کے تجربات کر رہے ہیں، جس سے نکولا بھی مستفید ہو سکتی تھی، لیکن اس کے لئے دو لاکھ ڈالر(تقریباً دو کروڑ پاکستانی روپے) کی خطیر رقم درکار تھی۔ اتنی بڑی رقم نا ہونے کی وجہ سے نکولا کی امید کی یہ آخری کرن بھی دم توڑ رہی تھی کہ ایسے میں اس کے شوہر کی نئی اہلیہ کلیر اس کی مدد کو آن پہنچی۔ اس نے نکولا کی مدد کے لئے انٹرنیٹ کے ذریعے فنڈ جمع کرنا شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اتنی رقم اکٹھی کر لی کہ نکولا علاج کے لئے ترکی جا سکتی تھی۔
ترکی میں نکولا کے علاج کے لئے گزشتہ چار مہینوں کے دوران پانچ نشستیں ہوئیں اور اب یہ حیرتناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ اس کا کینسر بڑی حد تک ختم ہو چکا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پھیپھڑوں، جگر، اور ریڑھ کی ہڈی میں واقع رسولیاں تقریباً ختم ہو چکی ہیں جبکہ پھیپھڑے میں واقع ایک چھوٹی رسولی ابھی باقی ہے، تاہم اس کی جسامت بھی بہت کم رہ گئی ہے

نکولا کا کہنا تھا کہ برطانوی ڈاکٹروں کے دئیے گئے وقت کے مطابق تو اب تک انہیں دنیا میں نہیں ہونا چاہئیے تھا لیکن یہ نیا طریقہ علاج ان کے لئے نئی زندگی ثابت ہوا ہے۔ وہ اس کیلئے اپنی سوتن کلیرکی بے حد شکر گزار ہیں جنہوں نے اپنا دن رات ایک کر کے ان کے علاج کے لئے فنڈ اکٹھے کئے ہیں۔ ڈاکٹرپرامید ہیں کہ آنے والے مزید ایک ماہ میں نکولا کا جسم کینسر سے مکمل طور پر پاک ہو چکا ہو گا اور وہ پوری طرح صحتیاب ہو کر اپنے بچوں کے پاس واپس جا سکیں گی۔

Leave a Reply