چھینک مارتے وقت یہ کام کریں ورنہ

چھینک مارتے وقت یہ کام کریں ورنہ

جب ہم چھینک مارتے ہیں تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم منہ پر ہاتھ نہیں رکھتے جس کی وجہ سے بعض دفعہ ہمارے منہ سے لعاب بھی نکل جاتا ہے ۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ جراثیم جو کہ چھینک ککی شکل میں ہامرے منہ سے نکلتے ہیں ، سرد اور خشک ہوتے ہیں جس کہ وجہ سے کافی دیر یہ فضا ء میں موجود رہتےہیں اور آسانی سے تلف نہیں ہوتے ۔

پرنس چارلس ہاسپٹل میں تحقیق کی گئی کہ ان جراثیم کا کتنا اثر پایا جاتا ہے تحقیق سے ثابت ہوا  کہ چھینک یا کھانسی کے ذریعے خارج ہونے والے جراثیم فضا میں 45 منٹ تک زندہ رہ سکتے ہیں اور چھینک سے یہ جراثیم دو فٹ کے فاصلہ تک پہنچ سکتے ہیں. تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چھینک آنےکے وقت کپڑے سے اپنے منہ کو ڈھانپنا چاہئے .یہ وہ احتیاط ہے جو سنت رسول ﷺ میں بھی ملتی ہے اور اس حوالے سے کئی احادیث بھی موجود ہیں،یعنی طبی سائنس نے 14 سو سال بعد اس کا فائدہ تسلیم کرلیا ہے.اس تحقیق کے دوران جائزہ لیا گیا تھا کہ چھینک یا کھانسی کے دوران خارج ہونے والے جراثیم کس طرح طویل المعیاد بنیادوں پر لوگوں پر اثرانداز ہوتے ہیں.تحقیق کے مطابق بیماری سے اٹھنے والے افراد اس طرح کے جراثیم سے زیادہ جلدمتاثر ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کا جسمانی دفاعی نظام کمزور ہوچکا ہوتا ہے

Leave a Reply