کم عمر لڑکی سے شادی کے فوائد

کم عمر لڑکی سے شادی کے فوائد

ایک تحقیق کے مطابق اپنے سے پندرہ سال کم عمر لڑکی سے شادی کرنے سے انسان کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے او ر اسکی صحت اچھی رہتی ہے۔ جب سے یہ خبر مارکیٹ میں آئی ہے تب سے تمام بتیسی نکالے، کنوارے ، رنڈوے ، بیمار، لاغر، چمکتی چندیا والے اور موٹے پیٹ والے حضرات بھی گرلز پرائمری اسکول کے باہر گھومتے پھرتے گھرتے نظر آتے ہیں، اور باپ صاحب بیٹے کے سر پر سہرا

سجانے یا بیٹیاں بیاہنے کی بجائے اپنا سہرا دہرانے کے گھن چکر میں پڑ گئے ہوتے ہیں تاکہ گری ہوئی صحت بحال ہو سکے۔اس تلاش بسیار برائے لڑکی چھوٹی عمر میں ان شوقین حضرات کو اگر کبھی کچھ ایذا رسانی یا چھوٹی موٹی سنگ باری سے بھی گزرنا پڑے تو یہ تمام درد ہنس ہنس کر سہ جاتے ہیں۔ ویسے یار اگر چھوٹی عمر کی عمر کی چھوٹی عمر کی لڑکی سے شادی کرنے سے ہی صحت اچھی رہتی ہے تو پھر مختلف امراض کے ڈاکٹر اور حکماء حضرات کی کیا ضرورت؟

یوروپین لوگوں کے بارے میں اس تحقیق نے کچھ نہ کہا ہے جو کہ شادی کی زحمت ہی دو تین بچے پیدا کرنے کے بعد کرتے ہیں اور خاص طور پر انگریز اداکار اور اداکارائیں جو کہ ہر سال چھ ماہ بعد شوہر یا بیوی ایسے بدلتے ہیں جیسے ہمارے نام نہاد جمہوری حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں۔۔۔۔۔ تا ہم معروف آنجہانی اداکارہ الز بتھ ٹیلر

آپ تصور کریں کہ ایک پچاس سالہ بوڑھا بابا ایک پندرہ سالہ لڑکی یعنی بیوی بغل میں داب کر ساتھ مٹر گشت پر ہو تو کیسا لگے گا؟ لوگ دیکھ کر یہی کہیں گے نہ کہ ابا بیٹی ساتھ جا رہے ہیں ۔ یا یہ کہ کیا قسمت ہے یار! یا پھر لنگو ر کی بغل میں حور! یا بڑے میاں دیوانے! یا منہ میں نہیں دانت ، پیٹ میں نہیں آنت اور لیے چلے راکھی ساونت یا ملکہ شراوت !یا یہ کہ کیا جوے میں جیتی؟

یا یہ کہ کتنے میں خریدی، وغیرہ وغیرہ۔ کبھی کبھی کچھ منچلے کچھ نازیبا الفاظ بھی استعمال کر جاتے ہیں مگر بڑے میاں نہ تو جواب دے سکتے ہیں اور ہی انکے پیچھے مارنے کو دوڑ سکتے ہیں کیونکہ اس عمر میں تو چلنا ہی محال ہوتا ہے، کسی کے پیچھے بھا گنا تو دور کی بات ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بڑے میاں کی کم عمر دلہن کو ئی چھین کر لیجاتا ہے اور پھر کہیں غلطی سے برآمدگی کے لیے پولیس کے ہتھے چڑھ گئے تو نکاح نامہ ہونے کے باوجود بھی ثابت نہیں کر پائیں گے کہ وہ حقیقی میاں بیوی ہیں؟۔
اور واقعی ایسا ہوتا ہے۔۔۔

Leave a Reply