یہ آدمی برچانیہ سے آیا اور پورا سال میری جوان بیٹی کے ساتھ گن پوائنٹ پر یہ شرمناک کام کرتا رہا اور پھر۔ پاکستانی باپ نے ایسی ایسی تفصیل بیان کر دی کے ہر شہری کانپ اٹے

یہ آدمی برچانیہ سے آیا اور پورا سال میری جوان بیٹی کے ساتھ گن پوائنٹ پر یہ شرمناک کام کرتا رہا اور پھر۔ پاکستانی باپ نے ایسی ایسی تفصیل بیان کر دی کے ہر شہری کانپ اٹے


یہ آدمی برچانیہ سے آیا اور پورا سال میری جوان بیٹی کے ساتھ گن پوائنٹ پر یہ شرمناک کام کرتا رہا اور پھر۔ پاکستانی باپ نے ایسی ایسی تفصیل بیان کر دی کے ہر شہری کانپ اٹے

سرگودھا (ویب ڈیسک) انگلینڈ نیشنلٹی ہولڈر ارب پتی کشمیری نوجوان کی اپنے دوستوں کے ہمراہ مزدو رشخص کی 17سالہ کنواری بیٹی سے اسلحہ گن پوائنٹ پر خوفزدہ کرتے ہوئے عرصہ ڈیڑھ سلا سے مسلسل زیادتی، متاثرہ لڑکی کے والد کی علاقہ کے لوگوں سے مسلسل ہونے والے ظلم سے چھٹکارہ دلوانے کی فریاد، کسی بھی طرف سے شنوائی نہ ہونے پر تھانہ سٹی جوہر آباد مقدمہ کے اندراج کے لئے درخواست، تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود ملزمان گرفتار نہ ہوسکے۔

تفتیشی سب انسپکٹر اور ایس ایچ او کی ملزمان کی بجائے متاثرہ لڑکی کے والد اور رشتہ داروں کے خلاف کارروائی، زبردستی کئی روز حالات میں بند رکھا، متاثرہ لڑکی اور اس کے والد پر صلح کیلئے دباﺅ اور زبردستی بیان حلفی لکھوالیا، ڈی پی او خوشاب وقاص حسن نتھوکہ بھی ملزمان کا سرپرست بن گیا، ملزمان کو پروٹوکول اور متاثرہ لڑکی کو دھمکیاں، پی آر او سرگودھا ڈویژن کو انصاف کے لئے درخواست دینے پر ایس پی صدر جوہر آباد انکوائری آفیسر مقرر، ایڈیشنل سیشن جج سے دو دفعہ ضمانتیں خارج ہونے کے باوجود پولیس ملزمان گرفتار نہ کرسکی۔

روزنامہ خبریں کے مطابق جوہر آباد مزدور کالونی کی رہائشی (ن) بی بی نے اپنے والد کے ہمراہ ظلم کی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ ہم غریب لوگ ہیں، میرا والد مزدوری کرتا ہے، ہماری کالونی کے ساتھ ہی کشمیریوں کے 400 گھروں پر مشتمل کالونی ہے جن کی اکثریت انگلینڈ کی نیشنلٹی ہولڈر ہے اور یہ سب ارب پتی لوگ ہیں، ان کا بگڑا ہوا نوجوان موسیٰ ولد مجید قوم کشمیری اپنے ساتھیوں احمد حیات ولد مظفر خان اور فاروق جوئیہ کے ہمراہ زبردستی مجھے گن پوائنٹ پر زیادتی کا نشانہ بناتا آرہا ہے اور زیادتی کرنے کے ساتھ ساتھ مجھ پر تشدد بھی کرتا آرہا ہے۔ میرے والد نے اس ظلم کی بابت تمام کشمیری اکابرین کو آگاہ کیا لیکن کسی نے بھی ہماری نہ سنی، بالآخر معروف خان کشمیری جو کہ میرے والد کا دوست ہے، نے اس ظلم و ستم پر ہمارا ساتھ دیا اور ہم نے تھانہ جوہر آباد سٹی مقدمہ کے اندراج کے لئے درخواست دی چونکہ ملزمان ارب پتی لوگ ہیں اور سیاسی اثر و رسوخ بھی رکھتے ہیں اس لئے پولیس نے ٹال مٹول شروع کردی اور بالآخر تین دن بعد مقدمہ درج کیا لیکن تین ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود پولیس ملزمان گرفتار نہ کرسکی جبکہ ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت سے بھی دو دفعہ ضمانتیں خارج ہوچکی ہیں جبکہ پولیس ملزمان کے خلاف کارروائی کی بجائے ہماری دشمن بن چکی ہے۔

میرے والد اور عزیز و اقارب کو کئی دن حوالات میں بند رکھا اور صلح کے لئے دباﺅ ڈالا اور زبردستی بیان حلفی بھی لکھوائے اور ناجائز مقدمات میں پھنسناے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ڈی پی او وقاص حسن نتھوکہ کو ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے درخواست دی تو وہ بھی ملزمان کا سرپرست بن گیا اور تاحال تبدیل ہونے کے باوجود تفتیشی سب انسپکٹر اعجاز بھٹی اور ایس ایچ او عنایت اللہ خان کو ملزمان کی سفارش کررہے ہیں جبکہ پی آر او سرگودھا کو درخواست دینے پر انہوں نے ڈی ایس پی صدر جوہر آباد کو انکوائری آفیسر مقرر کردیا ہے۔ نورین بی بی نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اور چیف جسٹس آف پاکستان سے از خود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

پوسٹ کو شئر  کریں

Leave a Reply