حمل کے دوران مباشرت کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

حمل کے دوران مباشرت کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

حمل کے پہلے 6 ماہ تک عام حالات کی طرح مباشرت کی جا سکتی ہےجتنی بار پہلے ہوتی رہی ہے، البتہ آخری ماہ پرہیز کرنا زیادہ بہتر ہےاس دوران میں بیوی خاوند کو متبادل طریقوں سے سکون مہیا کر سکتی ہےحمل کے دوران میں خصوصاََ آخری مہینوں میں مباشرت کا مشنری طریقہ عورت نیچے والے طریقے کو بالکل ترک کر دیا جائے

البتہ ابتدائی دنوں میں ایک دو ماہ میں یہ طریقہ استعمال کیا جا سکتا ہےحمل کے دوران میں مباشرت کی سب سے بہتر پوزیشن پہلو بہ پہلو ہے اسکے علاوہ آگے پیچھے اور عرت اوپر والاطریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہےحمل کے آخری چند ھفتوں کے دوران میں مشنری طریقہ اختیار کرنے سے جھلی قبل از وقت پھٹ جاتی ہے اور بچے کی پیدائش قبل از وقت ہو جاتی ہے۔

ڈلیوری کے بعد عورت کے جنسی ردِ عمل میں 50 فیصد کمی آ جاتی ہے مگر 3 ہفتوں کے بعد اسکی جنسی خواہش واپس آ جاتی ہےاور وہ نارمل ہو جاتی ہے جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ ماسٹر ایند جانسن کے مطایق ڈلیوری کے 3 ہفتے بعد مباشرت کی جا سکتی ہے لیکن اگر عورت کو اگر عورت خون آ رہا ہو یا آپریشن ہوا ہو تو خون کے بند ہونے اور زخم کے مندمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔

Leave a Reply