مردانہ کمزوری کس عمر میں لگ جاتی ہے

مردانہ کمزوری کس عمر میں لگ جاتی ہے

لوگوں کے خیال میں مردانہ کمزوری شروع ہونے کی عمر 40 کے بعد آتی ہے لیکن جدید تحقیق سے ثابت ہوا کہ مردانہ طقت کے عروج کا زمانہ 22 سال کا ہے اس میں مرد کے اندر بہت زیادہ بچے پیدا کرنے کی استعداد ہوتی ہے اس کے بعد مردانہ کمزوری شروع ہوجاتی ہے ۔ اور مرد کے پانی میں سپرم کی مقدار کم ہونے لگ جاتی ہے ۔ اسی وجہ سے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بچوں کی شادی کی صحیح عمر 18 سال ہے اس دوران ان کی شادی کر دینی چاہئے تا کہ وہ زندگی میں اچھی طرح لطف لینے کے بعد اپنی زندگی آگے بڑھا سکے ۔


21 سال میں اکثر نوجوان یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے کے قریب ہوتے ہیں اور کچھ ملازمت کا آغاز بھی کردیتے ہیں۔ اس لئے جتنا جلدی ہو سکے ان کو رشتہ ازدواج میں باندھ دینا چاہیے اور ویسے بھی 18 سے 22 سا ل کی عمر میں شادی کرنے سے لڑکے اور لڑکیاں بہت سی برائیوں سے بچ جاتے ہیں۔ جلد شادی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے نوجوان غلط کاریوں میں پڑ جاتے ہیں ۔ جس وجہ سے ان کو بہت سے جنسی مسائل کا سامنا کرنا پڑنا ہے اور ان تمام مسائل کابہترین حل صرف اچھی بیوی ہے، مرد کو کسی بھی قسم کا جنسی مسئلہ ہو وہ اپنی بیوی کی مدد سے اسے حل کر سکتا ہے۔ مردوں کے جتنے بھی جنسی مسائل ہیں ان کو پوری دنیا صرف بیوی ہے جو بڑی آسانی کے ساتھ ٹھیک کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مردانہ طاقت اور جنسی کمزوری کو ختم کرنے کے لئے ایک زبردست نسخہ بھی درج ذیل ہے۔


مردانہ کمزوری کے خاتمے کے لیے زبردست نسخہ
پیاز کا رس : 6 کھانے کے چمچ
شہد خالص : 3 کھانے کے چمچ
ترکیب اور طریقہ استعمال
پیاز کا رس کسی برتن میں ڈالیں اور اس میں شہد شامل کر کے اچھی طرح مکس کرلیں اور اس برتن کو چولہے پر رکھیں اور گرم کریں ۔ جب دونوں اجزاء اچھی طرح مکس ہو جائیں اور گاڑھا سا قوام بن جائے تو اسے اتار کر ٹھنڈا ہونے دیں اور کسی بوتل میں ڈال کررکھ لیں اور اسے روزانہ ایک چمچ تازہ گائے کے ایک گلاس دودھ کے ساتھ صبح کے وقت نہا ر استعمال کریں ۔ اس کا استعمال کم ازکم ایک ماہ تک جاری رکھیں ۔ انشاء اللہ اس کے استعمال سے مردانہ کمزوری اورہر طرح کے مردانہ جنسی مسائل کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔

Leave a Reply