اگر سعودی گورنمنٹ نے ایسا نہ کیا تو لاکھوں لوگوں کی جانیں

اگر سعودی گورنمنٹ نے ایسا نہ کیا تو لاکھوں لوگوں کی جانیں

 

گزشتہ دو سالوں سے سعودی عرب کے پڑوس  یمن میں خانہ جنگی چل رہی ہے ۔ جس میں بر سر اقتدار  خاندان کا بادشاہ سعودی عرب کا حلیف ہے ۔   اور اس جنگ میں سعودی عرب بھی مکمل طور پر  یمنی صدر کی حمایت کر رہا ہے جس میں اسلحہ کی ترسیل کے ساتھ فوجی کاروائی بھی شامل ہے ۔

گزشتہ مہینے یمن سے ایک میزائل فائر کیا گیا جس کے ذریعے ائیر پورٹ کو نشانہ بنایا جانا تھا لیکن میزائل ڈیفنس سسٹم کی وجہ سے میزائیل کو ہوا میں تناہ کر دیا گیا ۔ اس کے اگلے روز ہی سعودی عرب نے یمن کا پوری دنیا سے زمینی، سمندری اور فضائی رابطہ کاٹ دیا۔ اب اس حوالے سے اقوام متحدہ نے انتہائی خوفناک خبر سنا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ”یمن میں اشیائے خورونوش اور ادویات وغیرہ کی شدید کمی واقع ہو گئی ہے اور اگر اس کا باقی دنیا سے رابطہ فوری بحال نہ کیا گیا تو وہاں تاریخ کا ایسا خوفناک قحط پڑے گا کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں اس کی مثال نہیں ملے گی۔“ رپورٹ کے مطابق طویل جنگ کے باعث یمن کی 70لاکھ آبادی پہلے ہی شدید غذائی قلت کا شکار ہو چکی ہے۔ اس لئے اگر سعودی حکومت نے اپنا محاصرہ ختم نہ کیا تو لاکھوں جانوں کے ضیاع کا خطرہ ہے

Leave a Reply