18 سالہ کینسر کی مریض جاتے جاتے یہ

18 سالہ کینسر کی مریض جاتے جاتے یہ

کینیڈا کی رہائشی  18سالہ لڑکی کینسرکے موذی  مرض میں مبتلا ہو کر دنیا سے چلی گئی  لیکن جاتے ہوئے دنیا کو ایک ایسے کام ہر لگا گئی جس کی جنتی چاہے تعرفی کی جائے لیکن وہ کم ہونگی ۔رپورٹ کے مطابق  نیو برنز وک کے جو کہ کینیڈا کا صوبہ ہے اس کے  شہر ریورویو کی رہائشی  رابیکا شوفیلڈ کو کم عمری میں دماغ کی بیماری ہوگئی جو کہ آگے جاکر کینسر میں بدل گئی  جس کا اس نے کئی سال تک مقابلہ کیا لیکن گزشتہ دنوں زندگی کی بازی ہار گئی

رابیکا نے ایک انوکھا کام شروع کیا تھا وہ بستر مرگ پر ہونے کے باجود لوگوں  کو اچدھے کام کرنے کی ترغیب دیتی تھی ۔ اس کی خواہش تھی کہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے اور ایک دورے کے کام آئے جس کا وہ وقتا فوقتا انٹرنیٹ پر اظہار بھی کرتی تھی ۔ اس کی یہ مہم اس قدر مقبول ہوئی کہ لوگوں نے ’رابیکا ٹولڈ می ٹو‘ کے ہیش ٹیگ کے تحت اس کے کام کو آگے بڑھانا شروع کر دیا اور آج یہ ٹرینڈ سرفہرست جا رہا ہے۔ اس ہیش ٹیگ کے تحت لوگ بتا رہے

ہیں کہ انہوں نے رابیکا کے کہنے پر کیا اچھا کام کرنا شروع کیا ہے۔ رابیکا کے والدین کا کہنا ہے کہ ”بیٹی کے نوجوانی میں چلے جانے کا دکھ تو کسی صورت کم نہیں ہو سکتا لیکن اس کے بوئے ہوئے اچھائی کے بیج کو اس قدر پھلتے پھولتے دیکھ کر ہمارے دکھ میں بہت کمی آئی ہے۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ مہربانی کا سلوک کرتی تھی اور ایسے کام کرتی تھی جن کا اتنی سی عمر میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔“

Leave a Reply