فرانس میں اب گڑیا جسم فروشی کے لئے استعمال ہوگی

فرانس میں اب گڑیا جسم فروشی کے لئے استعمال ہوگی

یورپ کے بہت سارے ممالک میں اب بھی منظم طریقہ سے جسم فروشی کا کاروبار ممنوع ہے ان ممالک میں فرانس بھی شامل ہے جہاں منظم جسم فروشی کا کاروبار ممنوع ہے اور اس پر سخت سزائیں مقرر ہے لیکن اب لوگوں کی حد سے بڑھتی ہوئی طلب کو دیکھ کر حکومت نے ایک انوکھا فیصلہ کیا ہے
فرانس کے قانون کے مطابق جسم فروشی کا منظم کاروبار غیر قانونی ہے لیکن دارالحکومت پیرس میں قائم ہونے والے ایک قحبہ خانے کو قانون نے بھی کھل کر بے حیائی پھیلانے کا لائسنس دے دیا ہے۔ یہ فرانس میں پہلا قحبہ خانہ ہے جہاں خواتین کی بجائے جنسی گڑیائیں جسمانی لذت کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ اس قحبہ خانے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ جنسی گڑیاﺅں کا سہارا لے کر ایک بار پھر روایتی جسم فروشی کے کاروبار کی راہ ہموار کی جا رہی ہے لیکن کونسل

آف پیرس نے ان اعتراضات کو رد کرتے ہوئے جنسی گڑیاﺅں کے قحبہ خانے کو کام جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اس قحبہ خانے میں جنسی گڑیا کے ساتھ ایک گھنٹہ گزارنے کی فیس 100 ڈالر (تقریباً 10ہزار پاکستانی روپے) ہے۔ کونسل آف پیرس کے حکم پر پولیس نے اس جگہ کا دورہ بھی کیا اور تفصیلی معائنے کے بعد اپنی رپورٹ میں لکھا کہ وہ اس قحبہ خانے کے کاروبار سے مطمئن ہیں کیونکہ یہاں کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہورہی۔

کونسل کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کونسلر نکولس بونٹ اور ہاروے بیگے کا کہنا تھا کہ انہیں اس فیصلے سے شدید اختلاف اور اس پر سخت افسوس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ روایتی قحبہ خانے کو ایک نئے انداز میں مترادف کروانے کی اجازت دے رہا ہے جس کے اثرات معاشرے کے لئے اچھے نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب قحبہ خانے کے مالک جاﺅ کم لوسکی کا کہنا ہے کہ ان کے کسٹمرز کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ان کے ہاں آنے والے اکثر کسٹمر مرد ہیں لیکن بعض جوڑے بھی باقاعدگی سے ان کے قحبہ خانے میں آتے ہیں۔ قحبہ خانے کے ہر کمرے میں ایک جنسی گڑیا موجود ہے جس کے ساتھ وقت گزارنے کے لئے کسٹمر کو ایڈوانس بکنگ کروانا پڑتی ہے۔ کسٹمر اپنی مرضی کے مطابق گڑیا کے لباس اور میک اپ کا انتخاب کرتا ہے اور 100 ڈالر کی فیس اد اکرکے اس کے ساتھ ایک گھنٹہ گزارسکتا ہے۔ قانونی رکاوٹ دور ہونے کے بعد جاﺅ کم لوسکی اب فرانس کے دیگر شہروں میں بھی اسی طرح کے قحبہ خانے قائم کرنا چاہتے ہیں

Leave a Reply