بابری مسجد کے بعد اب ایک اور سجد کو گرانے کی تیاری

بابری مسجد کے بعد اب ایک اور سجد کو گرانے کی تیاری

انڈیا جو خود کو ایک سیکولر ملک کہتا ہے اس میں مسلمانوں سمیت تمام دوسرے مذہب کے ماننے والوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور کوئی بھی ان کے ظلم و ستم سے محفوظ نہیں ہے ۔ مسلمانوں کے جان و مال کے ساتھ ان کی مسجدیں بھی محفوظ نہیں ہے ۔ بابری مسجد کے گرانے کے بعد اب ایک اور مسجد کوبھی گرانے کی تیاری ہو رہی ہے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی مسجد کو3 مہینے میں ہٹانے کے فیصلے کیخلاف مسجد انتظامیہ نے سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مسجد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کی مسجد سنی سینٹرل وقف بورڈ میں درج ہے اور یہاں 1981سے باقاعدہ نماز ہو رہی ہے۔

ایسے میں مسجد کو قانونی طور سے بچانے کی پوری کوشش کی جائیگی۔ معروف قانون دان اور سینئر ایڈووکیٹ روی کرن جین ہائی کورٹ کی مسجد کا مقدمہ سپریم کورٹ میں لڑیں گے۔الہ آباد ہائی کورٹ کی مسجد کے وجود کی قانونی لڑائی اب لمبی کھینچنے والی ہے۔

لیکن یہ خبر سن کر مسلمان کافی پریشان ہےکیونکہ یہ مسجد کافی سالوں سے آباد ہے اور مسلمان یہاں جمعہ بھی ادا کرتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انہیں یہاں کی ہندو حکومت سے کوئی توقع نہیں کیونکہ ان معاملات میں کورٹ بھی ہندوں کا ساتھ دیتی ہے

Leave a Reply