’عرب ملک میں ملازمت حاصل کرنے والی لڑکیوں پر یہ شرط لگائی جاتی ہے کہ آنے سے پہلے ہی یہ چیز استعمال کرنا شروع کردیں

’عرب ملک میں ملازمت حاصل کرنے والی لڑکیوں پر یہ شرط لگائی جاتی ہے کہ آنے سے پہلے ہی یہ چیز استعمال کرنا شروع کردیں

جہاں دیکھو ہوس کا ننگا ناچ ہے شرم اکثر و قات ایسے واقعات سننے کو اور دیکھنے کو ملتے ہیں کہ انسان پڑھ کر خود شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہے ، اقبال نے شاید اسی وجہ سے کہا تھا کہ یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والوں پر کئی شرائط تو عائد کی جاتی ہیں لیکن اب مشرق وسطیٰ میں نوکری کے لیے جانے والی خواتین پر ایک ایسی شرمناک شرط عائد کیے جانے کا انکشاف منظرعام پر آ گیا ہے کہ سن کر ہی انسان کا رنگ لال ہو جائے۔ دی گارڈین کے مطابق یہ خبر سری لنکا سے سامنے آئی ہے جہاں ٹریول ایجنٹ عرب ممالک جانے والی خواتین کو حکم دیتے ہیں کہ وہ سفر سے کچھ عرصہ قبل ہی مانع حمل ادویات کھانی شروع کر دیں۔


ایک ایجنٹ نے بتایا ہے کہ ’’ہم عرب ممالک میں ان خواتین کی خدمات حاصل کرنے والوں کو گارنٹی دیتے ہیں کہ وہاں جانے کے بعد تین ماہ تک یہ حاملہ نہیں ہوں گی۔ ان خواتین کو گھریلو ملازم کی نوکری کے لیے بھیجا جاتا ہے اور جو خاتون حاملہ ہو اسے وہاں نوکری پر نہیں رکھا جاتا، جس کی وجہ سے ہم خواتین کو جانے سے پہلے ہی مانع حمل ادویات کے استعمال کی ہدایت کرتے ہیں۔‘‘مائیگرنٹس نیٹ ورک کی کوارڈی نیٹر راہینی بھاسکرن کا کہنا تھا کہ ’’ایجنٹ خواتین کو ادویات کھانے کے حکم کے علاوہ خود بھی مانع حمل ٹیکے لگواتے ہیں۔ ان خواتین کو یہ معلوم تک نہیں ہوتا کہ انہیں یہ ٹیکے کیوں لگائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان ایجنٹوں کے ہاتھوں ان خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی بھی معمول کی بات ہے۔ اکثر خواتین تو سمجھتی ہیں کہ باہر جانے کے لیے ایجنٹوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا لازمی ہے۔ ان خواتین کو ہر مرحلے پر جسمانی و جنسی استحصال کا سامنا کرناپڑتا ہے۔‘نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کیجئیے

Leave a Reply