ایک ایسا شخص جس نے تنہا سمندر کی سختیوں کا ایک سال تک مقابلہ کیا اور پھر

ایک ایسا شخص جس نے تنہا سمندر کی سختیوں کا ایک سال تک مقابلہ کیا اور پھر

سمندر یں گم ہوجاے والے لوگوں  کی کہانیاں تو سنی ہوگی آج ہم آپ کو ایک ہمت والے شخص کی کہانی سناتے ہیں جس نے ایکلے سمندر میں کئی مہینے گزار دئے

یہ دردناک  کہانی ایک آئل ٹینکر پر تعینات بھارتی کیپٹن نرمل سنگھ راوت کے ساتھ پیش آیا ہے، جنہوں نے پورا ایک سال سمندر میں موجود آئل ٹینکر پر گزارا ۔نرمل سنگھ کے پاس اس تمام عرصے کے دوران بہت تھوڑی مقدار  میں کھانا تھا جسے تھوڑا تھوڑا کھا کر وہ زندہ رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سمندر میں ایک سال انہوں نے صرف اپنے والدین اور چھوٹے بھائی کو دوبارہ دیکھنے کی امید کے سہارے گزارا

رپورٹ کے  مطابق شارجہ کے ساحل سے پانچ ناٹیکل میل کی دوری پر آئل ٹینکر ایم ٹی حامد 2 کو اس کے مالک نے  عملہ سمیت وہاں چھوڑ دیا تھا کینکہ اس کے پاس ادائگی کے لئے رقم بالکل نہیں تھی اس آئل ٹینکر میں ان پر کیا بیتی، اس کی تفصیلات اس وقت سامنے آئیں جب منگل کے روز ایک ریسکیو ٹیم نے 27 سالہ نرمل سنگھ کو ریسکیو کیا۔ گزشتہ شام انہیں بھارتی ریاست اتر اکھنڈ میں واقع ان کے آبائی شہر دیرادون روانہ کر دیا گیا ہے۔

 

 

نرمل سنگھ نے میڈیا کو  بتایا ”میں 3 دن میں صرف ایک بار کھانا کھاتا تھا ۔ کیونکہ میرے پاس کھانا اور پانی بہت کم تھا ۔ ایک موقع پر تو سخت گرمی کے دوران میں 50 گھنٹوں تک پانی کے بغیر گزارا کرتا رہا۔ اس دوران میں حکام سے مسلسل رابطہ میں تھا ۔ گرمی کے مہینے میں جہاز کے اندر نمی اور حبس بے حد بڑھ جاتا تھا جس کے باعث مجھے باہر جہاز کے عرشے پر سونا پڑتا تھا۔میں نے اس بحری جہاز پر ملازمت جولائی 2016ءمیں شروع کی اور مجھ سے 2000ڈالر (تقریباً دو لاکھ پاکستانی روپے) کی تنخواہ کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن مجھے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد بھی ملازمت کا کنٹریکٹ نہیں دیا گیا تھا۔ دیگر ملازمین سے بات چیت کی تو مجھے معلوم ہوا کہ میں دھوکے کا شکار ہوچکا تھا کیونکہ انہیں بھی گزشتہ 14 سے 17 مہینوں سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں ۔

نرمل سنگھ کو اس وقت مدد ملنے کی امید ہوئی جب  ان کا رابطہ بھارتی سماجی کارکن گریش پانت سے ہوا۔ ان کی انتھک کوشش سے ان کو اس بحری جہاز سے رہائی نصیب ہوئی ۔

Leave a Reply