تین کھجوریں روزانہ صرف 12 دن تک کھائیں اور جسم میں ایسی تبدیلی دیکھیں کہ آپ ششدر رہ جائیں

تین کھجوریں روزانہ صرف 12 دن تک کھائیں اور جسم میں ایسی تبدیلی دیکھیں کہ آپ ششدر رہ جائیں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کھجور کے انسانی صحت پر خوشگوار اثرات اور اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور جدید سائنس بھی اس بات کو قبو ل کرتی ہے کہ کھجور میں موجود فائبر اور دیگر اجزاء ہمارے لئے بہت ہی زیادہ مفید ہیںاور میگنیز پایا جاتاہے۔

B6کھجور میں کاپر،پوٹاشیم،فائبر،میگنیشیم ،وٹامن اگر آپ دن میں تین کھجوریں کھائیں تو آپ کے جسم پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے اورآپ کا جسم بیماریوں سے محفوظ ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ دل، جگر، اور دماغ کو تقویت ملے گی اور خود کو ترو تازہ اور توانا محسوس کریں گے۔

طبی ماہرین کے مطابق کھجورکا استعمال سنت رسول ﷺ بھی ہے اور اسے 12روز تک استعمال کرنے سے صحت کے بہت سے مسائل سے چھٹکارا مل جاتا ہے ۔نظام انہضام پر اثرات:اگر آپ کو قبض،تیزابیت،معدے یا انتڑیوں کی تکلیف ہے تو آپ کو کھجور ضرور کھانی چاہیے۔

اس میں موجود فائبر ہمارے معدے کے لئے بہت ہی زیادہ فائدہ مند ہے۔دردوں سے نجات:کھجوروں میں میگنیشیم پایا جاتا ہے جس کی وجہ سوجن پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے اور جسمانی دردیں بھی کنٹرول میں رہتی ہیں۔مختلف تحقیق میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ کھجور کھانے سے جسم میں سوجن کم ہونے کے ساتھ درد میں آرام آتا ہے۔

اب یہ آپ رضی اللہ تعالی عنہہ یہ بتائیے کہ مجھ اورآپ رضی اللہ تعالی عنہہ میں کیا فرق ہے… کھانا، پینا، پہننا آپ رضی اللہ تعالی عنہہ کے ساتھ بھی لگا ہوا ہے اور میرے ساتھ بھی…میں بھی خوش ہوں، آپ رضی اللہ تعالی عنہہ بھی پھر مجھے آپ رضی اللہ تعالی عنہہ کے اللہ کو ماننے یا کلمہ پڑھنے کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی؟”آپ رضی اللہ تعالی عنہہ مسکرا دیئے بڑی نرمی سےبڑی نرمی سے فرمایا.”فرض کرو کہ میدان حشر بپا ہے خدا اور اس کی خدائی وہاں پہ موجود ہے، نہ ماننے والوں کو جہنم میں اور ماننے والوں کو جنت میں داخل کیا جا رہا ہے، اب تم صرف ہاں اور ناں میں جواب دو’’ وہاں گھاٹے میں تم یا میں؟”وہ بلا تامل بولا’’یقیناً میں گھاٹے میں ہوں کہ اللہ کو نہیں مانتا‘‘اب آپ رضی اللہ تعالی عنہہ پھر فرمانے لگے.”اب فرض کرو کہ بقول تمہارے کہ اللہ کا وجود نہیں’’تو پھر کیا صورت ہوئی‘‘ یعنی کوئی نہ تمہیں نقصان اور نہ مجھے کوئی گھاٹا”.وہ بلا تامل بولا”بالکل درست”آپ رضی اللہ تعالی عنہہ مسکرائے اور فرمانے لگے.”پہلی صورت میں تم گھاٹے میں تھے، دوسری صورت میں ہم دونوں برابر تو کیا یہ نفع کا سودا نہیں کہ ہم مان لیں کہ اللہ وحدہُ لا شریک ہے تاکہ کسی کو بھی نقصان گھاٹے کا احتمال ہی نہ رہے.”وہ مشرک یہ کھلی دلیل سن کر ایمان لے آیا.سبحان اللہ یہ تھے رب کے شیر اور عظمت کی بلنیوں پر فائز ایک عظیم انسان اور اس امت کے لیے ایک بہترین نمونہ بھی۔۔۔

عائشہ گلالئی انہوں نے کہا کہ نوازشریف کرپشن کےدفاع میں لوگوں کو لڑوارہے ہیں۔ عائشہ گلالئی نے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’چیف جسٹس صاحب جو عدلیہ کو گالیاں دے، اسے جیل میں ڈال دیں‘۔ خیال رہے کہ 16 فروری کو عائشہ گلالئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے انہیں اور ان کے والد کو فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کی شرط پر سینیٹ انتخابات کے لیے ٹکٹ دینے کی پیشکش کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کے خلاف بات کرنا میری نظر میں غداری کے برابر ہے، اور نواز شریف عمران خان سے بھی زیادہ خطرناک شخص ہیں۔ یاد رہے کہ یکم اگست 2017 کو عائشہ گلالئی نے پریس کانفرنس کے دوران تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی چیئرمین عمران خان پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔

عائشہ گلالئی کا کہنا تھا، ’میں پہلے پیپلز پارٹی کا حصہ تھی جہاں خواتین کی عزت کی جاتی ہے، لیکن تحریک انصاف میں کچھ اور ہی ماحول دیکھا، پی ٹی آئی کے ماحول سے بہت سی خواتین پریشان ہیں جبکہ تحریک انصاف میں عزت دار خواتین کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘انہوں نے پارٹی چیئرمین سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’عمران خان پر مغربی ماحول کا اثر ہے، وہ شاید پاکستان کو انگلینڈ سمجھتے ہیں اور پاکستان میں مغربی ثقافت لانا چاہتے ہیں، ان کا اپنی عادتوں پر کنٹرول نہیں اور وہ غلط ٹیکسٹ میسجز کرتے ہیں۔‘ عائشہ گلالئی نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک پر بھی الزامات لگاتے ہوئے انہیں صوبے کا ڈان قرار دیا تھا۔ واضح رہے کہ عائشہ گلالئی وزیر نے جنوبی وزیرستان میں انسانی حقوق کی کارکن کی حیثیت سے اپنے سیاسی کریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے 2012 میں پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا اور 2013 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر وفاق کے زیر انتظام علاقے (فاٹا) سے خواتین کی خصوصی نشست سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔ اس سے قبل عائشہ گلالئی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کا حصہ بھی رہ چکی ہیں۔

ہبل انسان کی شکل میں تھا۔ اس کو اہل مکہ سب سے بڑا اور اہم بت سمجھنے لگے۔ ہبل کا دایاں ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا۔ قریش مکہ نے وہ سونے کا بنوا کر لگا دیا۔ ہبل کے علاوہ عرب کے قدیم بتوں میں سے منات ہے۔ یہ مشلل میں رکھا گیا تھا۔ پھر طائف میں لات اور اس کے بعد وادئ نخلہ میں عزیٰ نامی بت وجود میں آیا۔ یہ تینوں عرب کے بڑے بت تھے۔ اس کے بعد حجاز کے ہر خطے میں بت اور بت پرستی و شرک نے قدم جما لیے۔[1] قوم نوح کے بت بخاری شریف کی حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل عرب قوم نوح کے بتوں کی پوجا کرتے تھے۔[2] کہا جاتا ہے کہ عمرو بن لحی کے تابع ایک جن تھا۔ اس نے عمرو بن لحی کو جدہ میں دفن قوم نوح کے بتوں یعنی ود، سواع، يغوث، یعوق اور نسر کے بارے میں بتایا۔ چنانچہ عمرو بن لحی ان بتوں کو نکال لایا اور حج کے ایام میں انہیں مختلف قبائل کے حوالے کیا۔ یوں ہر قبیلے اور ہر گھر کا اپنا اپنا بت ہو گیا۔[1]

دوسرے نمبر پر میرینا چیپ مین سامنے آتی ہے جس کو بندروں نے پالا اور پروان چڑھایا۔ 1954میں محض پانچ سال کی عمر میں میرینا چیپ مین کو اغوا کر لیا گیا، میرینا کولمبیا میں اپنے خاندان کے ہمراہ مقیم تھی جب اسے اغ

Leave a Reply