’11 سال پہلے مجھے پرکشش نوکری کا لالچ دے کر سرحد پار سے لایا گیا لیکن یہاں اس معذور آدمی سے شادی کروادی گئی، تب سے یہ مسلسل مجھے۔۔۔‘

’11 سال پہلے مجھے پرکشش نوکری کا لالچ دے کر سرحد پار سے لایا گیا لیکن یہاں اس معذور آدمی سے شادی کروادی گئی، تب سے یہ مسلسل مجھے۔۔۔‘

11 سال پہلے مجھے پرکشش نوکری کا لالچ دے کر سرحد پار سے لایا گیا لیکن یہاں اس معذور آدمی سے شادی کروادی گئی، تب سے یہ مسلسل مجھے۔۔۔‘<br/>شمالی کوریا میں عوام کی مفلوک الحالی کی کئی کہانیاں منظرعام پر آ چکی ہیں۔ وہاں غربت کا یہ عالم ہے کہ انسانی سمگلر لڑکیوں کو نوکریوں کا جھانسہ دے کر بڑی تعداد میں دیگر ممالک میں سمگل کر رہے ہیں،
<p>بعدازاں جن کا ٹھکانہ کوئی قحبہ خانہ یا کسی خریدار کی قید ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک لڑکی نے فوکس نیوز کو اپنی روح فرسا داستان سناتے ہوئے بتا یا ہے کہ ”مجھے ایک شخص نے پرکشش نوکری کا لالچ دیا اور شمالی کوریا سے چین لے آیا۔ یہاں لا کر اس نے مجھے ایک معذور شخص کے ہاتھ فروخت کر دیا جس نے زبردستی مجھ سے شادی کر لی۔“</p>
<p>لڑکی کا کہنا تھا کہ ”جب 11سال قبل میں چین آئی تو میرے دو بچے تھے جنہیں میں شمالی کوریا میں ہی چھوڑ آئی۔ اب اتنے سال ہو گئے میں یہاں اس قید میں ہوں۔ میں خوف کے مارے گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتی کہ چینی پولیس مجھے گرفتار کر لے گی اور واپس شمالی کوریا بھیج دے گی جہاں ایک اذیت ناک زندگی میری منتظر ہو گی۔</p>
<p>یہاں چین میں میرے ہمسائے بھی میرے غیرملکی ہونے کی وجہ سے مجھ سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ اپنی تکالیف سے زیادہ مجھے اپنے بچوں سے بچھڑ جانے کا دکھ ہے جنہیں میں اس امید پر چھوڑ کر آئی تھی کہ اچھی نوکری ملنے پر کسی طرح انہیں بھی یہاں بلا لوں گی۔“</p>
<p>فوکس نیوز کے مطابق شمالی کوریا کی ایسی ہزاروں لڑکیاں ہیں جو بیرونی ممالک ، بالخصوص چین میں اذیت ناک زندگی گزار رہی ہیں۔ ان میں سے اکثر کے بچے شمالی کوریا میں موجود ہیں لیکن وہ یہاں قیدیوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انسانی سمگلر ان خواتین کو ورغلا کر لاتے ہیں اور پھر 14ہزار یوآن (تقریباً 2لاکھ 32ہزار روپے)تک کی قیمت میں انہیں فروخت کر دیتے ہیں۔</p>
<p>لفظ ’معجزانہ‘ کا مطلب اسی وقت واضح ہوسکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ اس سے قبل جو چند بڑے بڑے زلزلے دنیا میں آئے، ان کی شدت اس زلزلے جیسی ہی تھی۔ مثلاً ہیٹی میں 10 جنوری 2010 میں آنے والے زلزلے میں 3 لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہوئے تھے اور اس کی شدت 7.0 تھی۔ اکتوبر 2005 کے کشمیر کے زلزلے کی شدت 7.6 تھی اور اس میں مرنے والوں کی تعداد لاکھ سے اوپر تھی۔ سن 1935 میں کوئٹہ میں آنے والے زلزلے کی شدت 7.7 تھی اور اس زمانے میں 60 ہزار کی تعداد میں لوگ مارے گئے تھے۔ جبکہ سن 2001 جنوری میں گجرات، انڈیا کے زلزلے کی شدت 7.6 تھی جس میں 20 ہزار لوگ مارے گئے تھے۔</p>
<p>موجودہ زلزلے کی زد میں کراچی جیسا گنجان آباد شہر بھی تھا جس کی آبادی کوئی دو کروڑ کے قریب ہے۔ یہاں لوگ بلند عمارات میں رہتے ہیں جن میں شاذ ہی کوئی زلزلہ پروف ہے۔ اوپر سے غیر معیاری تعمیراتی سامان سے بنی عمارتیں اتنی مخدوش ہیں کہ شدید زلزلے کی صورت میں ان کا گر پڑنا یقینی ہے۔ اللہ تعالیٰ اگر اپنے فضل سے اس آفت کو نہ روک دیتے تو اس زلزلے میں اتنی بڑی تباہی آتی کہ دنیا تمام سابقہ زلزلوں کو بھول جاتی۔ بیس تیس لاکھ لوگوں کا مرجانا، اتنی ہی تعداد کا زخمی اور معذور ہوجانا اور باقی لوگوں کا بے گھر ہوجانا یقینی تھا۔ اللہ ہم پر مہربان ہے۔</p>
<p>اماراتی میڈیاکے مطا بق ابوظہبی کی ایک عدالت نے ایک ایشیائی بھائی اور اس کی سوتیلی بہن کو آپس میں شادی کرنے کا جرم ثابت ہونے پر چھ برس کی قید کی سزا سنا دی ہے ، ان بہن بھائی پر جعل سازی سے دستاویزات بدلنے کا بھی الزام ہے ۔ صد شرمناک بات یہ ہے کہ پولیس نے ان کی ماں کی شکایت پر بہن بھائی کو گرفتار کیا ۔</p>
<p>بعد ازاں ماں نے عدالت کو بھی بیان ریکارڈ کروایا کہ میرا بیٹا اور بیٹی ابوظہبی میں بطور میاں بیوی رہ رہے ہیں ۔اخبار ڈیلی الاتحاد کا کہنا ہے کہ ماں اس وقت اپنے بیٹے اور بیٹی کے درمیان شادی شدہ زندگی کا پول کھولنے پر مجبور ہو گئی جب اسے اس کے بیٹے نے گھر سے نکال دیا ۔</p>
<p>ایمریٹس 24/7کے مطابق اپیلوں کی سماعت کے دوران ان بہن بھائی نے آپس میں شادی شدہ تعلق ہونے کے الزام کی تردید کی ہے ۔ بد بخت بھائی نے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کرتے ہوئے عدالت کو بتایا ہے کہ اس کے اور اس کی بہن کے درمیان کوئی معاشقہ یامحبت نہیں ۔ اپیل میں کہا گیا کہ اس نے اپنی بہن سے یو اے ای سے باہر ایشین ملک میں شادی کی تاکہ اسے یہاں لا سکوں۔


<p>غربی دنیا سے تو متنازعہ اور شرمناک رشتوں کی خبریں وقتاََ فوقتاََ سامنے آتی رہتی ہیں لیکن صد افسوس ،صد استغفار کہ ایک عرب ملک میں ایشیائی بہن بھائی نہ صرف شرمناک بندھن میں بندھ گئے بلکہ قانونی اور دستاویزی طور پر شادی بھی رچا لی ۔</p>
<p>اماراتی میڈیاکے مطا بق ابوظہبی کی ایک عدالت نے ایک ایشیائی بھائی اور اس کی سوتیلی بہن کو آپس میں شادی کرنے کا جرم ثابت ہونے پر چھ برس کی قید کی سزا سنا دی ہے ، ان بہن بھائی پر جعل سازی سے دستاویزات بدلنے کا بھی الزام ہے ۔ صد شرمناک بات یہ ہے کہ پولیس نے ان کی ماں کی شکایت پر بہن بھائی کو گرفتار کیا ۔</p>
<p>بعد ازاں ماں نے عدالت کو بھی بیان ریکارڈ کروایا کہ میرا بیٹا اور بیٹی ابوظہبی میں بطور میاں بیوی رہ رہے ہیں ۔اخبار ڈیلی الاتحاد کا کہنا ہے کہ ماں اس وقت اپنے بیٹے اور بیٹی کے درمیان شادی شدہ زندگی کا پول کھولنے پر مجبور ہو گئی جب اسے اس کے بیٹے نے گھر سے نکال دیا ۔</p>
<p>ایمریٹس 24/7کے مطابق اپیلوں کی سماعت کے دوران ان بہن بھائی نے آپس میں شادی شدہ تعلق ہونے کے الزام کی تردید کی ہے ۔ بد بخت بھائی نے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کرتے ہوئے عدالت کو بتایا ہے کہ اس کے اور اس کی بہن کے درمیان کوئی معاشقہ یامحبت نہیں ۔ اپیل میں کہا گیا کہ اس نے اپنی بہن سے یو اے ای سے باہر ایشین ملک میں شادی کی تاکہ اسے یہاں لا سکوں۔</p>
<p>ان میں سے ایک شخص نے امریکہ کے ایک اخبارکوانٹرویودیتے ہوئے بتایاکہ ہم سب بھائی اپنی اکلوتی بیوی سے ہم بستری کرتے ہیںاورکوئی بھائی کسی دوسرے بھائی سے جیلس نہیں ہوتا.سخت قانون ہونے کے باعث قانونی طورپرسب سے بڑابھائی ہی اکلوتی بیوی کاشورہوتاہے.اورسب سے حیران کن بات یہ ہے کہ کسی باپ کواپنے بچے اورکسی بچے کواپنے باپ کاپتانہیں ہوتا.ا

Leave a Reply