اگر کسی عورت کو ہمبستری کا شوق زیادہ ہو تو اس کو کم کرنے کا اسلامی طریقہ

اگر کسی عورت کو ہمبستری کا شوق زیادہ ہو تو اس کو کم کرنے کا اسلامی طریقہ

ندگی پھر سے مکمل رفتار سے دوڑی چلی جارہی تھی۔ کام کے سلسلے میں عبدﷲ اکثر ملک سے باہر چلا جاتا اور ساتھ میں کوئی نہ کوئی کورس بھی کر آتا، اب تو احمد صاحب نے اُسے اپنے لیکچرز میں بھی بلانا شروع کر دیا تھا جہاں وہ کلاس سے کچھ باتیں کرلیتا اور یوں عبدﷲ کی شہرت دور دور تک جانے لگی۔ بِلّو ہر رات کو صرف یہ دعا مانگتی کہ اے ﷲ! میرے عبدﷲ کا خیال رکھنا، اسکی رفتار مجھے ہمیشہ پریشان کرتی ہے،</p>
<p>اس میں ٹھہراؤ لا، یہ پارہ کی طرح اچھلتا پھرتا ہے اور لوگوں کے حسد اور نظر کا شکار ہوجاتا ہے، اس کی طبیعت بہت تھر دیلی ہے اُس پہ رحم کر۔ایک دن عبدﷲ کے ایک دوست ڈاکٹر رمضان اسے ایک مفتی صاحب کے پاس لے گئے، عبدﷲ جانا نہیں چاہتا تھا اُسے اب مولوی حضرات اور مفتیانِ کرام سے ڈر سا لگنے لگا تھا مگر، اس دن وہ اپنے دوست کے اصرار پر چلا گیا۔ جب تک عبدﷲ پہنچا مفتی صاحب اپنا لیکچر ختم کر کے جا رہے تھے۔ عبدﷲ نے ان سے ملاقات کی اجازت مانگی اور دو ہفتوں کے بعد کا وقت مقرر ہوا۔ عبدﷲ دو ہفتوں بعد مقررہ وقت پر مفتی صاحب کے گھر پہنچ گیا یہ سوچتا ہوا کہ، انہیں وقت اور دن دونوں بھول چکے ہوں گے مگر مفتی صاحب موجود بھی تھے</p>
<p>اور منتظر بھی۔ مفتی صاحب کے گھر میں لگ بھگ 40 ہزار کتابیں تھیں جنہیں دیکھ کر ہی عبدﷲ کا دل بلیوں اُچھلنے لگا، اُس نے بے ساختہ کہا ۔ یہ مفتی صاحب عبدﷲ کو بہت پسند آئے، پڑھے لکھے، انگریزی بھی جانتے تھے اور کئی ممالک کا سفر بھی کیا تھا۔ نہ سیکرٹری، نہ دائیں بائیں مریدوں کا جمگھٹّا نہ تصنّع، نہ بناوٹ اور نہ ہی لفّاظی، دو چار باتیں سیدھے سادھے الفاظ میں کردیں اور بس۔ عبدﷲ کا دل ان کی جانب کھنچتا چلا گیا۔ عبدﷲ کو ان کی شخصیت اپنے مولانا عبدالرحمن صاحب جیسی لگی، اوپر سے ان کی زبان اور اُردو میں بہت چاشنی تھی۔ کچھ ہی عرصے میں اس جاب میں بھی وہی مسائل ہونا شروع ہوگئے، اس بار قصور عبدﷲ کا ہی تھا، اس کے رویے میں لچک نہ تھی، کیونکہ وہ اپنی زندگی کا ایک فکسڈ ڈاکیومنٹ بنا چکا تھا۔ لہٰذا کسی کے کہنے پر اس میں کوئی ردو بدل نہیں کرنا چاہتا تھا۔</p>
<p>مزید یہ کہ حاسدوں کی حسد کا بھی کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔ صبح شام کوئی نہ کوئی مسئلہ کوئی نہ کوئی جھوٹ جسے برداشت کرنے اور اپنی صفائی میں عبدﷲ کا پورا دن نکل جاتا۔ دراصل جھوٹ بولنا بھی ایک صلاحیت ہے جسے خدا کسی کسی کو نہیں بھی دیتا مگر عموماََ عبدﷲ کا واسطہ باصلاحیت لوگوں سے ہی پڑا۔ عبدﷲ کا اب تک مصمّم یقین ہوگیا تھا کہ پاکستان میں کسی بچے کو نفسیاتی مریض بنانا ہو تو کسی کمپنی میں جاب کروا دو۔ ایک ہی سال میں جھوٹ، مکاری، غیبت، حسد اور ظلم اسکی فطرتِ ثانیہ بن جائے گی۔ باہر ممالک میں کام میں ایمانداری ملتی ہے۔ ہمارے ملک میں مذہبیت، ﷲ کے اور رسول صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے نام پر گردنیں کاٹ دیں گے مگر اسلام پر عمل نہیں کریں گے۔ ہم اسلام کو کام نہ کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآل وسلم سارے ہیں،</p>
<p>اُمتی کوئی نہیں۔ وہ جتنا زیادہ کام کرنا چاہتا اُسے اتنی پریشانیوں اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا، وہ ہر ایک سے اُمید لگاتا کہ وہ احسان excellence کے درجے پر کام کرے گا۔ جواب ظلم میں آتا تو عبدﷲ تلخ ہوجاتا۔ عبدﷲ باقاعدگی سے مفتی صاحب کے پاس جانے گا، کبھی کچھ پوچھ لیتا، کبھی صرف جو بھی بات چیت چل رہی ہوتی وہ سن کے آجاتا اور ڈائری میں لکھ لیتا۔ ایک دن مفتی صاحب کہنے لگے

Leave a Reply