مرد اور عورت مباشرت کرتے وقت ایک دوسرے کے جسم کے کون کون سے حصے چوم سکتے ہیں کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں

مرد اور عورت مباشرت کرتے وقت ایک دوسرے کے جسم کے کون کون سے حصے چوم سکتے ہیں کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں

دیکھیں جہاں تک بات ہے چھونے کی تو تو ہر مرد اپنی بیوی کے پائوں سے سر تک جسم کے ہر حصے کو چھو سکتا ہے ساتھ میں ننگے بھی سو سکتے ہیں، ننگے نہا سکتے ہیں اور بیوی شوہر کی اور شوہر بیوی کی مالش کر سکتا ہے۔ اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے اور دوسری بات ہے چومنے کی تو شرمگاہوں کو بوسہ دینا یا چومنا جائز نہیں ہے شرمگاہ غلاظت سے بھر ی جگہ ہوتی ہے

اور ایک مُسلمان کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ اپنا مبارک چہرہ غلاظت سے بھری جگہ پر لگائے۔ اس کے علاوہ شوہر جس جگہ چاہے بوسہ دے سکتا ہے۔ یہ بات صرف اور صرف شرمگاہ یعنی عورت کی بچے والی جگہ اور پاخانے والی جگہ کے لیے اس کے علاوہ آپ ہر جگہ پر بوسہ دے سکتے ہیں اور چوم سکتے ہیں اس میں دودھ والی جگہ بھی آتی ہے۔ تو دوستو یہ تھا آج کا چھوٹا سا مسئلہ۔ اگر آپ کو بھی کوئی سوال پوچھنا ہے تو کمنٹ میں پوچھ سکتے ہیں اور پھر اس پر ہم ایک پوسٹ بنا کر ڈال دیں گے۔ لکین اگر آج کل کے ماحول کی بات کریں تو لوگ جو کچھ گندی فلموں میں دیکھتے ہیں رات کو ووہی اپنی بیوی یا عورت کے ساتھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کچھ عورتیں اس بات پر کچھ نہیں کہتی مگر کچھ آواز اٹھاتی ہیں تو شوہر ان کو طلاق کی دھمکی دے کر اس سے اپنی بار منوا لیتا ہے .کیوں کہ وہ لوگ دیکھتے ہیں کہ مرد اور عورت ایک دوسرے کے نفس اور فرج کو بھی چومتے اور چاٹتے ہیں اس لئے ان کو لگاتا ہے کہ شائد اس طرح زیادہ مزہ آتا ہے مگر یہ بات غلط ہے کچھ مزہ نہیں آتا ہے یہ بس ایک فساد کی بات کو جو انگریز ہم لوگوں میں پھیلا رہے آهن

Leave a Reply