شوہر کے مطالبے پر بیوی مباشرت سے نہ بھاگےکیونکہ

شوہر کے مطالبے پر بیوی مباشرت سے نہ بھاگےکیونکہ

رانے وقتوں کی شادیوں میں دعوت نامے انتہائی اہتمام کے ساتھ گھر گھر جا کر تقسیم کیے جاتے تھے۔ کھانا پکانے والے باورچی بڑی اہمیت کے حامل ہوتے تھے، ان کا انتخاب جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا تھا۔ بیاہ شادیوں پر کھانے پکانے والے باورچی بڑے ماہر خانساماں ہوتے تھے۔ جہاں پلاؤ اور قورمہ پکایا جاتا تھا وہاں زردے کی دیگیں ضرور پکائی جاتی تھیں۔

دیگیں پکانے والے عام طور پر نائی ہوتے تھے۔ وہ آتے ہی ایک مطالبہ ضرور کرتے کہ زردے کی پچھ یعنی ابلے ہوئے زردے کا پانی نکالنے کےلیے ایک چارپائی لا دیں۔ وہ اپنی طرف سے لائی ہوئی کسی بوری کا چوڑا ٹکڑا چارپائی پر الٹا کرکے یا ویسے سیدھی چارپائی پر ہی بچھا دیتے۔ جب دیگ میں زردے کے چاول خوب کھولنے لگتے تو دیگ کو چارپائی پر الٹا دیا جاتا۔ زردے کا زرد پانی بوریئے کے ٹکڑے میں سے چھن کر نیچے بہہ جاتا اور زرد چاول بوری کے اوپر رہ جاتے۔

انسانی جسم پر ظاہر ہونے والے غیر معمولی نشانات بعض اوقات جسم کے اندر خطرناک بیماریوں کو ظاہر کرتے ہیں اور اس سے لاپرواہی بعض اوقات بڑی بیماریوں کو جنم دے سکتی ہے اسی لیے ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر بازو پر تل کے نشان ایک خاص مقدار سے زیادہ ہوجائیں

تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کینسر جیسی مہلک بیماری کا شکار ہیں. جلدی بیماریوں سے متعلق برطانوی میگزین میں شائع ہونے والی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کسی کے بازو پر 11 یا اس سے زائد تل موجود ہوں تو اس بات کا خطرہ ہے کہ ایسا شخص جلد کے کینسر کی بیماری میلانوما کا شکار ہو سکتا ہے

اس لیے اسے فوری اپنا کینسر کا ٹیسٹ کرانا چاہئے.تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دائیں ہاتھ پر تلوں کی گنتی کرنے سے پورے جسم کے تلوں کی تعداد کا بھی پتا کیا جا سکتا ہے.برطانیہ میں ہر سال تقریباً 13 ہزار افراد جلد کے سرطان میلانوما سے متاثر ہوتے ہیں یہ بیماری عام طور پر بدن میں پائے جانے والے

غیر معمولی تل سے پھیلتی ہے اسی لیے میلانوما ہونے کے خطرے کا تعلق تلوں کی تعداد سے ہے، یعنی اگر کسی کو بہت زیادہ تل ہیں تو اسے اس بیماری سے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ بھی ہے.
سانپ جیسی خوفناک چیز کا تصور کر کے ہی اکثر لوگ کانپ اٹھتے ہیں لیکن اس آسٹریلوی خاتون کے خوف کا اندازہ کیجئے جس کی رات گئے آنکھ کھلی تو اپنے ساتھ بستر پر ایک بھاری بھرکم ناگ کو بھی آرام کرتے ہوئے پایا۔

ویب سائٹ ورلڈ وائڈ وئیرڈ نیوز کے مطابق رونگٹے کھڑے کر دینے والا یہ واقعہ سن شائن کوسٹ کے علاقے میں رہائش پزیر ایک خاتون کے ساتھ پیش آیا۔ سانپ پکڑنے کے ماہر سٹوارٹ مکینزی کا کہنا ہے کہ انہیں رات کے تین بجے ایک خاتون کا پیغام موصول ہوا کہ اس کے بستر پر ایک بڑا سانپ بیٹھا ہے اور وہ اسے پکڑنے کے لئے فوراً پہنچیں۔

سٹوارٹ نے بتایا کہ وہ جب خاتون کے کمرے میں پہنچے تو دیکھا کہ یہ ایک بڑا ناگ تھا جو بستر پر کنڈلی مارے بیٹھا تھا۔ خاتون کا کہنا تھا کہ اسے بستر پر آہٹ کا احساس ہوا تھا اور لگا کہ وہاں کوئی اور بھی موجود تھا لیکن بتی جلائی تو پتا چلا کہ یہ ایک خوفناک سانپ تھا۔ اس کا کہناتھا کہ یہ سانپ اس کے گھر میں ہی رہ رہا تھا لیکن اسے یہ امید نہیں تھی کہ وہ اس کے بستر پر ہی چلا آئے گا۔

سٹوارٹ نے اس سانپ کی تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی اور ساتھ ہی لوگوں کو خبردار کیا کہ اگروہ اپنے کمرے کی کھڑکی کھلی رکھتے ہیں تو اس بات کا ضرور اہتمام کریں کہ اس میں جالی لگی ہو، ورنہ سانپ یا اس جیسی کوئی بھی اور چیز کمرے میں داخل ہونے کا خطرہ موجود رہے گا۔

اس شخص کا کہنا تھا کہ خواب کے دوران اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی کسی اجنبی مرد کے ساتھ رنگ رلیاں منارہی تھی، جس پر وہ غصے سے کانپتا ہوا اٹھ بیٹھا۔ زندگی میں دو شادیاں کرنا دنیا کہ سب سے برا مثلا ہے پہلے تو یہ کام دنیا کہ مشکل ترین کام ہے لیکن اگر کوئی بہادر انسان یہ کام سر انجام دے دے تو پھر اسکا جو حال ہوتا ہے وہ آپ یہ ویڈیو دیکھ سکیں ملزم کا کہنا تھا کہ اسے یقین تھا کہ خواب میں نظر آنے والے مناظر بے وجہ نہیں تھے۔ یہ سوچ کر وہ خود پر قابو نہ رکھ پایا اور اپنی بیوی کو قتل کرنے کے لئے اس پر حملہ آور ہوگیا۔ اس نے بیوی کا گلا دبانا شروع کردیا،

ایکنی اور پمپلزکے مسائل زیادہ تر نوجوان افرادمیں جنم لیتے ہیں ،خاص کر جب ان کی عمر 12 سال سے 24 سال تک ہوتی ہے۔چہرے کی جلد پر ایکنی کی وجہ سے وائٹ ہیڈز، بلیک ہیڈز،پمپلز وغیر ہ بن جاتے ہیں،اس کے علاوہ جسم کے مختلف حصوں

جیسےکہچہرے،سینے، کندھے اور کمر پرریشیز پڑجاتے ہیں جس سے جلد کی رنگت سرخی مائل ہو جاتی ہے اور اگر ان کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ انسان میں چہرے کی خرابی کی ساتھ ساتھ خوداعتمادی کی کمی اور ذہنی تناؤ کا باعث بنتے ہیں۔چہرے پر ایکنی کی سب سے بڑی وجہ جلد میں موجود ٹاکسن کا اخراج نہ ہوپانا ہے۔

ٹاکسن کی ضرورت سے زیادہ مقدار جلد کے مساموں میں پھنس جاتی ہے اوران کو بند کر دیتی ہے جس سے چہرے کے سیلز کوآکسیجن فراہم نہیں ہو پاتی اور وہ ٹھیک سے سانس نہیں لے پاتے اور ایکنی کی شکایات سامنے آتی ہیں۔اس کے علاوہ وائٹ اور بلیک ہیڈزبننے کی سب سے اہم وجہ معدے کا ٹھیک سے کام نہ کرنا بھی ہے،بے وقت اور ضرورت سے زیادہ کھانے سے بھی ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے اور معدہ کی بیماریاں سامنے آتی ہیں جوایکنی کی وجہ بنتی ہے۔

اس کے علاوہ خوراک میں آئل ،فیٹس،سٹارچ اور چینی کا زیادہ استعما ل بھی ایکنی کی شکایات کو جنم دیتا ہے،لیکن گبھرانے والی کوئی بات نہیں ہے وائٹ اور بلیک ہیڈز کوبڑی آسانی کے ساتھ ختم کیا جا سکتا ہے۔گھر پر بڑی آسانی سے تیار ہونے والے ایک زبردست نسخہ کے ذریعے آپ خون میں موجود گندگی کو صا ف کر سکتے ہیں اور چہرے سے کیل مہاسے اور داغ دھبے ہمیشہ کے لئے ختم کر سکتے ہیں۔نسخہ کچھ یوں ہے۔

ہرے دھنیے میں تھوڑا سا پانی ملا کر اسے گرائنڈ کر لیں لیکن زیادہ گرائنڈ مت کریں۔اب ایک چھاننی لے کر اسے کسی برتن کے اوپر رکھیں اور اس پیسٹ کوچھاننی میں ڈال کر چمچ سے دبائیں تا کہ گودا چھاننی میں رہ جائے اور پانی نیچے برتن میں چلا جائے ۔

اب اس پانی میں ایک چٹکی ہلدی ڈال کر اچھی طرح مکس کر لیں اوراس مکسچر کو کسی ڈھکن بند بوتل میں ڈال کر فریج میں رکھ لیں۔ اس پانی کو روزانہ سونے سے پہلے روئی کی مدد سے چہرے پر لگائیں اورصبح اٹھ کر چہرے کوتازہ پانی سے اچھی طرح دھو لیں۔اس کا استعما ل لگاتار ایک ہفتہ تک کریں، انشاء اللہ بلیک اور وائٹ ہیڈز کامکمل طور پر خاتمہ ہو جائے گا۔

اس نسخہ میں استعمال ہونے والے اجزاء میں ہلدی ایک اینٹی آکسیڈنٹ ایجنٹ ہے جو چہرے کے سیلز کو مردہ ہونے سے روکتی ہے،جلد کو ایکس فولی ایٹ کرتی ہے اور جلد کی خدوخال کو بہتر بناتی ہے۔چہرے کی جلد میں ہونے والی سوزش کو ختم کرتی ہے۔ ایکنی اورداغ دھبوں سے نجات دلاتی ہے،چہرے کی پگمینٹیشن کو کم کرتی ہے

اورچھائیوں کو دور کرتی ہے اس کے علاوہ ہرے دھنیے میں پروٹین، فیٹس،کاربو

Leave a Reply