شادی کی پہلی رات میرے شوہر نے مجھ سے ایسی چیز مانگ لی

شادی کی پہلی رات میرے شوہر نے مجھ سے ایسی چیز مانگ لی

ہم ٹی وی کے پروگرا م میں خاتون کالر نے فون پراپنے خاوند کی جانب سے کیے جانے والے مظالم کی داستان سناتے ہوئے بتایا کہ شادی کی پہلی رات اس کے شوہر نے فیس بک پاس ورڈ مانگا اور میرے تمام دوستوں کو انتہائی خراب میسج بھیج دیے اور بعد میں مجھے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اب سے تمہارے دوستوں کے میسج اگر موصول ہوئے تو وہ دن تمہاری زندگی کاآخری دن ہو گا۔۔جاری ہے

تفصیلات کے مطابق خاتون کالر ٹی وی پروگرام کی ہوسٹ سے گفتگو کے دوران مسلسل رو رہی تھی اور اس کی باتیں سن کر پروگرام میں بھی ایک دم خاموشی چھا گئی تھی،خاتون نے اسی دوران بتایا کہ اس کی شادی کو چھ مہینے ہو گئے ہیں ،شادی سے پہلے زیادہ اچھی زندگی تھی ،دوستوں کے ساتھ گھومتی تھی اور ماں باپ کی اکلوتی بیٹی ہوں ، انہوں نے جو چاہا دیاہے ،شادی سے پہلے اپنی زندگی میں کسی قسم کی اونچ نیچ نہیں دیکھی تھی لیکن پھر ایک شخص میری زندگی میں آیا اورمیں نے کبھی نہیں سوچاتھا کہ میری اس سے شادی ہوگی ۔خاتون کا کہناتھا کہ وہ شخص میرے پیچھے پڑ گیا اور مجھے تحفے دینے لگا،وہ بہت زیادہ کیرنگ تھا ،۔جاری ہے

میں ایسے شخص کے ساتھ شادی نہیں کرسکتی ،گھر والوں نے مجھ پر شادی کیلئے زورڈالنا شروع کر دیا جبکہ خاندان والے بھی شادی کے حوالے سے میرے پر زور ڈالنے لگے۔خاتون کا کہناتھا کہ اسی دوران اس شخص کے گھر سے بھی میرے لیے رشتہ آ گیا،میں نے سوچا شادی کے بعدوہ ٹھیک ہو جائیں گے،شادی کو ابھی صرف چھ مہینے گزرے ہیں مجھے لگ رہاہے یہ چھ مہینے نہیں یہ چھ سال ہیں ،شادی کی پہلی رات اس نے مجھ سے کہا کہ اپنی فیس بک کا پاس ورڈ دو ،میں نے خاموشی سے اپنے فیس بک اکاﺅنٹ کا پاسورڈ دیدیا اور اس نے میرے سارے دوستوں کو بہت خراج میسج کیے ان کو بلاک اور ڈیلیٹ کر دیااور مجھے دھمکی دیتے ہوئے کہا۔جاری ہے

کہ اگر آئندہ تمہارے موبائل پر کسی لڑکے کے نمبر سے یا کسی اورکا میسج دیکھا تو وہ دن تمہاری زندگی کا آخری دن ہوگا۔خاتون کا کہناتھا کہ میرے شوہر نے میراپانچ سال پرانا نمبر بند کروا دیا اور مجھے نیا موبائل نمبر لا کر دے دیدیا اور کہا کہ اس نمبر سے میں صرف اپنے ماں باپ سے بات کرسکتی ہوں اس کے علاوہ اس نمبر سے کسی کو فون نہیں کرنا ، میں نے ہر چیز خاموشی تسلیم کر لی ۔خاتون کا کہناتھا کہ شادی کے بعد اگر ہم گھر سے باہر کھانا کھانے جاتے تو راستے میں۔جاری ہے

اگر کوئی شخص مجھے گھور کر دیکھتا تو میرا شوہر اسے کچھ کہنے کی بجائے مجھے گھر واپس آنے پر تشدد کا نشانہ بناتا ہےاور رات کو جب بھی مباشرت کرتا تو ہر وقت غلط طریقوں سےمیری گانڈ مارتا جب میں کہتی کہ فرج میں ڈال لو اپنا تو کہتا کہ میری مرضی اور مجھ پر جنسی تشدد بھی کرتا تھا

میں ٹیکسی میں اکیلی بحریہ ٹائون جارہی تھی کہ اچانک ڈرائیورنے ویرانے میں گاڑی روک دی اور ٹیکسی ڈرائیورنے ویرانے میں گاڑی روک دی اور اپنے فون پر فحش فلم لگا کرکہنے لگا کہ ویڈیو دیکھیں ڈیجٹیل ٹیکسی سروس کے بے انتہا فوائد موجود ہیں مگر اس ہجوم میں کچھ کالی بھیڑیں بھی شامل ہیں جنہوں نے لوگوں کی زندگی کو مشکل بنا دیاہے ،ایسی صورتحال میں کمپینز کا کام ہے .جاری ہے .

مغربی معاشرہ شخصی آزادی اور روشن خیالی کے جنون میں اندھا دھند آگے بڑھ رہا ہے اور پھر ا ن قباحتوں کی بلندی کو چھونے کے بعد یہ معاشرہ خود کو انتہائی پستی میں گرا ہوا بھی محسوس کرتا ہے۔ ایسا ہی یورپی ملک جرمنی میں ہوا جہاں ایک ہوم ٹیوٹر اور ایک طالبہ کی شرمناک کہانی منظر عام پر آگئی۔

ایک غیر ملکی نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق جرمنی کے شہربرلن کے جنوب مغربی علاقے پوسٹ ڈیم میں مقیم ایک میاں بیوی نے اپنی بیٹی کو میوزک کی تعلیم دینے کےلئے ایک ہوم ٹیوٹر کا اہتمام کا کیا اور پھر جو ہوا اس کا انکشاف خود اس گھر کی ملازمہ نے کر دیا ۔اس خاتون ملازمہ الزبتھ کا کہنا ہے کہ 45سالہ مارک گرین وچ اور اس کی اہلیہ بلینڈا نے اپنی 19سالہ بیٹی بریتھ ویٹ کےلئے ایک مشہور میوزک ٹیچر فرینکلن کی خدمات حاصل کیں ۔فرینکلن بڑی با قاعدگی سے روزانہ بریتھ ویٹ کے کمرے میں جا کر اسے گٹار بجانے اور گلوکاری سکھانے کا کام کرتا رہا۔

مارک اور اس کی بیوی قریب قریب ہر شام ہی یا اپنے رشتہ داروں کے ہاں چلے جاتے یا پھر وہ کسی تفریحی مقام پر چلے جاتے۔اور پھر اکثررات کا کھانا باہر سے کھا کر آتے۔ الزبتھ کہتی ہے کہ ایک روز اس نے گھر کی صفائی کاکام مکمل کیا تو گھر پر سوائے بریتھ ویٹ اور اس کے استاد کے کوئی بھی نہ تھا۔

بعد ازاں ماں نے عدالت کو بھی بیان ریکارڈ کروایا کہ میرا بیٹا اور بیٹی ابوظہبی میں بطور میاں بیوی رہ رہے ہیں ۔اخبار ڈیلی الاتحاد کا کہنا ہے کہ ماں اس وقت اپنے بیٹے اور بیٹی کے درمیان شادی شدہ زندگی کا پول کھولنے پر مجبور ہو گئی جب اسے اس کے بیٹے نے گھر سے نکال دیا ۔

ایمریٹس 24/7کے مطابق اپیلوں کی سماعت کے دوران ان بہن بھائی نے آپس میں شادی شدہ تعلق ہونے کے الزام کی تردید کی ہے ۔ بد بخت بھائی نے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کرتے ہوئے عدالت کو بتایا ہے کہ اس کے اور اس کی بہن کے درمیان کوئی معاشقہ یامحبت نہیں ۔ اپیل میں کہا گیا کہ اس نے اپنی بہن سے یو اے ای سے باہر ایشین ملک میں شادی کی تاکہ اسے یہاں لا سکوں۔

غربی دنیا سے تو متنازعہ اور شرمناک رشتوں کی خبریں وقتاََ فوقتاََ سامنے آتی رہتی ہیں لیکن صد افسوس ،صد استغفار کہ ایک عرب ملک میں ایشیائی بہن بھائی نہ صرف شرمناک بندھن میں بندھ گئے بلکہ قانونی اور دستاویزی طور پر شادی بھی رچا لی ۔

اماراتی میڈیاکے مطا بق ابوظہبی کی ایک عدالت نے ایک ایشیائی بھائی اور اس کی سوتیلی بہن کو آپس میں شادی کرنے کا جرم ثابت ہونے پر چھ برس کی قید کی سزا سنا دی ہے ، ان بہن بھائی پر جعل سازی سے دستاویزات بدلنے کا بھی الزام ہے ۔ صد شرمناک بات یہ ہے کہ پولیس نے ان کی ماں کی شکایت پر بہن بھائی کو گرفتار کیا ۔

بعد ازاں ماں نے عدالت کو بھی بیان ریکارڈ کروایا کہ میرا بیٹا اور بیٹی ابوظہبی میں بطور میاں بیوی رہ رہے ہیں ۔اخبار ڈیلی الاتحاد کا کہنا ہے کہ ماں اس وقت اپنے بیٹے اور بیٹی کے درمیان شادی شدہ زندگی کا پول کھولنے پر مجبور ہو گئی جب اسے اس کے بیٹے نے گھر سے نکال دیا ۔

ایمریٹس 24/7کے مطابق اپیلوں کی سماعت کے دوران ان بہن بھائی نے آپس میں شادی شدہ تعلق ہونے کے الزام کی تردید کی ہے ۔ بد بخت بھائی نے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کرتے ہوئے عدالت کو بتایا ہے کہ اس کے اور اس کی بہن کے درمیان کوئی معاشقہ یامحبت نہیں ۔ اپیل میں کہا گیا کہ اس نے اپنی بہن سے یو اے ای سے باہر ایشین ملک میں شادی کی تاکہ اسے یہاں لا سکوں۔

ان میں سے ایک شخص نے امریکہ کے ایک اخبارکوانٹرویودیتے ہوئے بتایاکہ ہم سب بھائی اپنی اکلوتی بیوی سے ہم بستری کرتے ہیںاورکوئی بھائی کسی دوسرے بھائی سے جیلس نہیں ہوتا.سخت قانون ہونے کے باعث قانونی طورپرسب سے بڑابھائی ہی اکلوتی بیوی کاشورہوتاہے.اورسب سے حیران کن بات یہ ہے کہ کسی باپ کواپنے بچے اورکسی بچے کواپنے باپ کاپتانہیں ہوتا.اس شخص کاکہناتھاکہ یہ رواج ہمارے خاندان میں صدیوں سے چلاآرہاہے.

اورہم امیدکرتے ہیں کہ آنے والے وقتوں میں بھی اس رواج کواسی طرح نبھایاجائے گا.سخت قانون ہونے کے باعث قانونی طورپرسب سے بڑابھائی ہی اکلوتی بیوی کاشورہوتاہے.اورسب سے حیران کن بات یہ ہے کہ کسی باپ کواپنے بچے اورکسی بچے کواپنے باپ کاپتانہیں ہوتا.اس شخص کاکہناتھاکہ یہ رواج ہمارے خاندان میں صدیوں سے چلاآرہاہے.اورہم امیدکرتے ہیں کہ آنے والے وقتوں میں بھی اس رواج کواسی طرح نبھایاجائے گا.

یہ ٹیچر ڈیرہ دبئی کے ایک پرائیویٹ سکول میں پڑھاتا ہے۔کمسن طالبعلم کی شناخت 11 سالہ ایل وائی کے نام سے ہوئی ہے جو ششم کلاس کی طالبہ ہے۔گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق کمسن طالبہ کے ٹیچرز اس کے رویے میں کافی دنوں سے تبدیلی محسوس کر رہے تھے جبکہ اس لڑکی نے اپنے ہم جماعتوں کو بھی بتایا کہ وہ عنقریب خود کشی کرنے والی ہے۔

طالبہ کی ماں کا کہنا ہے کہ سکول انتظامیہ نے مئی میں اس سے رابطہ کیا اور اس کے بدلتے رویے اور نفسیاتی دباﺅ کے بارے میں آگاہ کیا۔دلہن پر تشدد کرنے کیلئے ساس سسر کا ہزاروں کلومیٹر طویل سفر”سکول سے شکایت آنے پر میں نے اپنی بیٹی کی نگرانی شروع کردی، جس کے بعد مجھے احساس ہوا

کہ میری بیٹی کسی قسم کے دباﺅ میں ہے اور وہ ہر وقت اپنے جسم میں درد کی شکایت کرتی رہتی ہے۔ آخر کار 5 جولائی کو مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ اس کا کمپیوٹر ٹیچر اسے واٹس ایپ پر سکول کے اوقات کے بعد فحش پیغامات بھیجتا ہے، ٹیچر نے بچی سے یہ فرمائش بھی کی کہ اپنے جسم کے مخصوص حصوں کی تصاویر اتار کر اسے بھیجے “۔

یہ انکشاف ہونے کے بعد بچی کے والدین نے سکول کے پرنسپل سے رابطہ کیا جس نے انہیں کمپیوٹر ٹیچر کے پاسپورٹ کی کاپی فراہم کردی

Leave a Reply