آج کل کی لڑکیاں وقت سے پہلے کیوں جوان ہو جاتی ہیں ایسی کون چیز ہے جو جنسی گرمی کو بڑھا دیتی ہے

آج کل کی لڑکیاں وقت سے پہلے کیوں جوان ہو جاتی ہیں ایسی کون چیز ہے جو جنسی گرمی کو بڑھا دیتی ہے

اس ساری صورتحال میں بچوں کے ساتھ ساتھ والدین بھی متفکراور پریشان دکھائی دیتے ہیں۔تبدیلی کے اس عمل پر وہ اپنے بچوں سے بات کرتے ہوئے کتراتے ہیں۔بچوں کو ذہنی الجھن سے دور رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ والدین اپنے بچے کو اعتماد میں لیتے ہوئے انکے جسم میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں پہلے سے مختصراضرور بتادیں۔اگر بچوں کو معلومات رہیں گی تو سنِ بلوغ کے تقاضوں اور مسائل کاسامناوہ بہتر طریقے سے کرسکیں گے۔

اپنے بچوں کو نفسیاتی اعتبار سے اس قابل بنائیں کہ وہ اس ساری صورتحال سے ہمت اورسمجھداری سے نمٹ سکیں۔ مشاہدے کے مطابق بلوغت کے مرحلے میں عموماً بچے تشدد پسند ہوجاتے ہیں۔ایسی صورت میں والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو بھی بچوں کو آنے والی تبدیلیوں کامقابلہ کرنے کیلئے تیار کرناچاہئے۔

بچوں میں ان تبدیلیوں کے ابتدائی مراحل کوسمجھنے کاشعورنہیں ہوتا۔والدین کو چاہئے کہ انکی صحیح رہنمائی کریں۔اگر آپ اپنے بچے کو اعتماد نہیں دیں گے توانکی کارکردگی پر برااثر پڑسکتاہے۔

اگر آپ اپنے بچوں کو کم عمر سمجھتے ہوئے ان سے اس بارے میں بات نہیں کریں گے تو ممکن ہے کہ وہ آپ کے بجائے کسی اور کا سہارا لیں جو شاید انکی بہتر گائیڈ لائن کے لئے مناسب نہ ہو ۔

بچوں کی غذاکاخاص خیال رکھیں۔بچے بھی فصل کی طرح ہیں۔اگر ٹھیک طرح سے آبیاری کی جائے گی تو بے شک فصل اچھی رہے گی۔

اس ساری صورتحال میں بچوں کے ساتھ ساتھ والدین بھی متفکراور پریشان دکھائی دیتے ہیں۔تبدیلی کے اس عمل پر وہ اپنے بچوں سے بات کرتے ہوئے کتراتے ہیں۔بچوں کو ذہنی الجھن سے دور رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ والدین اپنے بچے کو اعتماد میں لیتے ہوئے انکے جسم میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں پہلے سے مختصراضرور بتادیں۔اگر بچوں کو معلومات رہیں گی تو سنِ بلوغ کے تقاضوں اور مسائل کاسامناوہ بہتر طریقے سے کرسکیں گے۔

اپنے بچوں کو نفسیاتی اعتبار سے اس قابل بنائیں کہ وہ اس ساری صورتحال سے ہمت اورسمجھداری سے نمٹ سکیں۔ مشاہدے کے مطابق بلوغت کے مرحلے میں عموماً بچے تشدد پسند ہوجاتے ہیں۔ایسی صورت میں والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو بھی بچوں کو آنے والی تبدیلیوں کامقابلہ کرنے کیلئے تیار کرناچاہئے۔

بچوں میں ان تبدیلیوں کے ابتدائی مراحل کوسمجھنے کاشعورنہیں ہوتا۔والدین کو چاہئے کہ انکی صحیح رہنمائی کریں۔اگر آپ اپنے بچے کو اعتماد نہیں دیں گے توانکی کارکردگی پر برااثر پڑسکتاہے۔

اگر آپ اپنے بچوں کو کم عمر سمجھتے ہوئے ان سے اس بارے میں بات نہیں کریں گے تو ممکن ہے کہ وہ آپ کے بجائے کسی اور کا سہارا لیں جو شاید انکی بہتر گائیڈ لائن کے لئے مناسب نہ ہو ۔

بچوں کی غذاکاخاص خیال رکھیں۔بچے بھی فصل کی طرح ہیں۔اگر ٹھیک طرح سے آبیاری کی جائے گی تو بے شک فصل اچھی رہے گی۔

Leave a Reply