حضرت عمرؓ کا معافی مانگنا

حضرت عمرؓ کا معافی مانگنا

ایک مرتبہ سیدنا بلالؓ بیٹھے ہوئے تھے، کوئی بات چلی تو عمرؓ نے کوئی سخت لفظ استعمال کر دیا، جب عمرؓ نے سخت لفظ استعمال کیا تو بلالؓ کا دل جیسے ایک دم بجھ جاتا ہے اس طرح سے ہو گیا اور وہ خاموش ہو کر وہاں سے اٹھ کر چلے گئے، جیسے ہی وہ اٹھ کر گئے، عمرؓ نے محسوس کر لیا کہ انہیں میری اس بات سے صدمہ پہنچا ہے، چنانچہ عمرؓ اسی وقت اٹھے،

بلالؓ کو آ کر ملے، کہنے لگے: اے بھائی! میں نے ایک سخت لفظ استعمال کر لیا، آپ مجھے اس کےلیے معاف کر دیں، انہوں نے کہا، جی جی مگر عمرؓ کوتسلی نہیں ہو رہی تھی اس لیے کہ وہ ذرا خاموش خاموش تھے،

دل جو دکھا تھا تو جب عمرؓ نے دیکھا کہ بلال کا دل خوش نہیں ہو رہا تو بات کرنے تو بات کرنے کے بعد بلالؓ کے سامنے زمین پر لیٹ گئے اور کہا: بھائی! میرے سینے پر اپنے قدم رکھ دو! میری غلطی کو اللہ کے لیے معاف کر دو! بلالؓ کی آنکھوں سے آنسو آ گئے، امیر المومنین! میں ایسی حرکت کیسے کر سکتاہوں؟ جو بڑے حضرات تھے اپنی زندگی کے معاملے کو ایسے سمیٹا کرتے تھے.

اسلام کیا ہے

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ اوّل اس امر کی شہادت (گواہی ) دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ دوم نماز قائم کرنا، سوم زکوٰۃ دینا، چہارم حج کرنا، پنجم ماہ رمضان کے روزے رکھنا۔نری کلمہ گوئی یعنی صرف زبان سے کلمہ پڑھ لینے سے آدمی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ مسلمان وہ ہے جو زبان سے اقرار کے ساتھ \\

ساتھ سچے دل سے ان تمام باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریات دین سے ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر بات میں سچا جانے اور اس کے کسی قول یا فعل سے اللہ و رسول کا انکار یا توہین نہ پائی جائے۔گونگا آدمی کہ زبان سے انکار نہیں کر سکتا اس کے مسلمان ہونے کے لیے صرف اتناہی کافی ہے کہ وہ اشارہ سے یہ ظاہر کر دے کہ سوائے اللہ کے کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے خاص بندے اور رسول ہیں اور اسلام میں جو کچھ ہے وہ صحیح اور حق ہے۔

ضروریات دین وہ مسائل ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتا ہے جیسے اللہ عزوجل کی توحید (یعنی اسے ایک جاننا) نبیوں کی نبوت، جنت، دوزخ، حشر و نشر وغیرہ مثلاً یہ اعتقاد کہ حضور اقدس
صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا۔ جو شخص کسی ضروری دینی امر کا انکار کرے یا اسلام کے بنیادی عقیدوں کے خلاف کوئی عقیدہ رکھے اگرچہ وہ اپنے آپ کو مسلمان

کہے، نہ اسلامی برادری میں داخل ہے نہ مسلمان۔ زبان سے اسلام کا دعوےٰ اور دل میں اسلام سے انکار کرنا نفاق ہے۔ یہ بھی خالص کفر ہے۔ بلکہ ایسے لوگوں کے لیے جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے جیسے کہ قرآن اعلان فرماتا ہے جو فتح مکہ والے دن ایمان لائے ان کا ایمان نافع نہیں۔ کسی خاص شخص کی نسبت یقین کے ساتھ تو منافق نہیں کہا جاسکتا ، البتہ نفاق کی ایک شاخ

اس زمانے میں پائی جاتی ہے۔ کہ بہت سے بد مذہب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور دیکھا جاتا ہے کہ اسلام کے دعوے کے ساتھ ضروریات دین کا انکار بھی کرتے ہیں۔ارشادباری تعالیٰ ہے․وَلَقَدْنَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍوَّاَنْتُمْ اَذِلَّۃ’‘”بے شک اﷲ تعالیٰ نے میدان بدرمیں تمہاری مددکی حالانکہ تم بالکل کمزورتھے۔ارشادباری تعالیٰ ہے “بلاشبہ جنہوں نے کہاہمارارب اﷲ ہے پھراس پرثابت قدم رہے ان

پرفرشتے اترتے ہیں اور(بشارت دیتے ہیں) کہ نہ توتمہیں کسی( آنے والے خطرے) کاخوف ہوناچاہیے اورنہ ہی کسی (گذشتہ بات کا)رنج وملال اوراُس جنت کی خوشخبری سنوجس کاتم سے وعدہ کیاجاتاہے (حٰم السجدہ آیت ۲۳)

حضرت رافع بن خدریجؓ سے روایت ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ یاکوئی اورفرشتہ نبی کریمﷺکے پاس آیااورعرض کیا’’یارسول اﷲﷺ!آپ اپنے لوگوں کے درمیان اہل بدرکوکیامقام دیتے ہیں ۔اصحاب نے کہاوہ ہم سب میں بہترہیں اس فرشتے نے جواب دیاکہ ہمارے نزدیک بھی جوفرشتے بدرمیں حاضرہوئے وہ سب سے بہترہیں ۔(ابن ماجہ)

ماہ رمضان المبارک بڑی عظمت والامہینہ ہے ۔اس ماہ مقدس کے بارے میں ارشادباری تعالیٰ ہے “رمضان وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن کریم نازل کیاگیا”یہ مقدس مہینہ شروع ہوتے ہی ہمارے دلوں میں اس واقعے کی یادتازہ ہوجاتی ہے جسے تاریخ “غزوہ بدر ـ ” کے نام سے یادکرتی ہے ۔بدرایک کنوئیں کا نام ہے جومدینہ طیبہ سے تقریباً80میل کے فاصلے پرواقع ہے ۔یہ کنواں بہت ہی

مشہورتھااس لئے اس کے آس پاس کی آبادی دیہات کوہی بدرکہاجاتا جہاں پریہ غزوہ ہوا تھا۔یہ کنواں مسمی بدرابن عامرنے کھوداتھا۔رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کے بعدپہلے ہی رمضان کی17تاریخ2؁ ہجری جمعہ کومیدان بدرتاریخ اسلام کاانتہائی دردناک اوردلوں کوہلا کر رکھ دینے والا سانحہ رونماہوا۔قرآن کریم نے جن واقعات کواپنے اوراق میں محفوظ کیاہے ان میں سے غزوہ بدر

بھی ہے ۔تاکہ قیامت تک مسلمانوں کے ذہنوں میں اس کی یادتروتازہ رہے مسلمانوں کے مکہ سے ہجرت کرجانے کے بعدبھی کفارمکہ نے ان کاپیچھانہ چھوڑا۔کفارکی ہروقت یہی خواہش ہوتی کہ مسلمان کہیں بھی امن وسکون سے نہ رہ سکیں ۔کفار مسلمانوں کومختلف طریقوں سے تنگ کرتے رہے ۔آخرمسلمانوں کومدینہ طیبہ میں پناہ گاہ مل گئی قریش کے لوگوں نے مدینہ کے اردگردچھاپے مارے

اورمسلمانوں کے مویشی لوٹناشروع کردیے ان حالات میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کوجہادکی اجازت دے دی جس کے نتیجے میں کفرواسلام کایہ پہلامعرکہ بدر کے مقام پرپیش آیا۔کفارمکہ اپنے سردارابوسفیان کی قیادت میں ملک شام سے تجارتی سامان لے کرواپس آرہے تھے اس قافلے میں ہزار اونٹوں پرپچاس ہزار دینارکی مالیت کاسازوسامان لداہواتھاقریش کی سب بڑی طاقت ان کی یہی

تجارت اورتجارتی سامان تھاجومسلمانوں کے خلاف استعمال ہوتاتھا۔آقاﷺصحابہ کرام علہیم الرضوان کی جماعت لیکران کے مقابلہ کے لئے روانہ ہوئے تاکہ اس قافلے کامقابلہ کرکے قریش کی طاقت توڑدی جائے ۔ رسول اکرم ﷺ اﷲ کے حکم سے تین سوتیرہ صحابہ کرام علہیم الرضوان کولے کرروانہ ہوگئے لیکن یہ جنگ کے لئے پوری طرح تیارہوکرنہ نکلے تھے پورے اسلامی لشکرمیں

سواری کے لئے ستر اونٹ دوگھوڑے چھ زرہ آٹھ تلواریں تھیں ۔جب ابوسفیان کومسلمانوں کے مدینے سے نکلنے کاعلم ہواتو اس نے فوراًقریش مکہ کوپیغام بھیجوادیاکہ مددکے لئے پہنچو ورنہ تجارتی قافلہ مسلمانوں کے ہاتھوں لٹ جائے گا۔اس قافلہ میں قریباً مکے کے تمام گھرانوں کاسامان شامل تھاکفارمکہ نے ایک ہزار افرادکالشکرتیارکرکے ابوجہل کی قیادت میں مدینے پرحملے کے لئے نکل پڑے

ان کے پاس ایک سوگھوڑے چھ زررہ اورسینکڑوں اونٹ تھے ۔ادھرابوسفیان بدرکے راستے سے کتراکردوسرے راستے سے بخیریت مکہ معظمہ پہنچ گئے اورکفارکوپیغام بھجوایاکہ قافلہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے بچ گیاہے تم واپس آجاؤلیکن کفارمکہ اپنی طاقت پرنازکرتے رہے اور بدرکے قریب پڑاؤڈال دیا۔چنانچہ اسلامی لشکربھی بدرکے قریب پہنچ کررک گیا۔ادھرمسلمانوں نے حضورﷺسے عرض کیاکہ ہم تو قافلہ روکنے کے لئے آئے تھے اس عظیم الشان جنگ کے لئے تیارنہ تھے آقاﷺکویہ عرض

Leave a Reply