’خوش رہنے کیلئے پیسے سے زیادہ ضروری یہ کام کرنا ہے‘

’خوش رہنے کیلئے پیسے سے زیادہ ضروری یہ کام کرنا ہے‘

عام تاثر پایا جاتا ہے کہ کسی کا امیر ہونا خوشی کی ضمانت ہوتا ہے لیکن برطانوی سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں اس تاثر کے برعکس ایسا انکشاف کر دیا ہے کہ سن کر آپ ششدر رہ جائیں گے. میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق آکسفورڈ اکنامکس اینڈ دی نیشنل سنٹر فار سوشل ریسرچ کے سائنسدانوں نے تحقیقاتی سروے کے نتائج میں بتایا ہے کہ ”خوشی کے حصول میں روپے پیسے کی اتنی اہمیت نہیں ہے.

اس کی بجائے خوشی کے حصول کا دارومدار پرسکون نیند اور بھرپور ازدواجی تعلق پر ہے. جو شخص پوری اور پرسکون نیند لیتا ہے اور اس کی جنسی زندگی بہترہے وہ زندگی میں ان لوگوں سے کئی گنا زیادہ خوش ہوتا ہے جن کے پاس پیسے کی تو ریل پیل ہو

لیکن مذکورہ دونوں چیزوں سے وہ محروم ہوں.“ رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے اس تحقیقاتی سروے میں 8ہزار 250لوگوں سے ان کی مالی حیثیت، نیند کی عادات اور جنسی زندگی کے متعلق سوالات کیے اور ان کی خوشی کے معیار کا جائزہ لے کر ان کا تجزیہ کیا اور نتائج مرتب کیے، جن میں معلوم ہوا کہ جن لوگوں نے بتایا کہ وہ باقاعدگی سے پرسکون نیند لیتے ہیں ان میں خوشی کا معیار سب سے زیادہ بلند تھا. دوسرے نمبر پر جو لوگ اپنی جنسی زندگی سے مطمئن تھے، ان میں خوشی کا معیار بہتر تھا.

نتائج میں یہ بھی معلوم ہوا کہ مہنگی گاڑیوں اور دیگر اشیاءکی بجائے فیملی، دوست اور جاب سکیورٹی جیسے عوامل خوشی کے حصول پر زیادہ اثرانداز ہوتے ہیں.تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ آئیان مولیرن کا کہنا تھا کہ ”ہماری تحقیق میں یہ بات ابھر کر سامنے آئی ہے کہ خوشی کے حصول کے لیے جیب کا امیر ہونے کی بجائے رشتوں میں امیر ہونا زیادہ اہم ہے، وہ ازدواجی رشتہ ہو، فیملی ہو یا دوست ہوں. جس شخص کے رشتے جتنے زیادہ مضبوط ہوں گے وہ اتنا ہی زیادہ خوش ہو گا.“

اﷲ تعالیٰ کی ایک خاص رحمت

اﷲ تعالیٰ نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا آپ کی تعلیمات اور طرز زندگی ہم سب کے لئے ایک بہترین نمونۂ ہے یہ ہم مسلمانوں پر اﷲ تعالیٰ کی ایک خاص رحمت ہے آج کل ہم نے اسلامی تعلیمات اپنے آپ کو بہت دور کر لیا ہے جس کی وجہ سے ہماری زندگی سے سکون ختم ہو چکا ہے ہمارے لئے آپ کی زندگی ایک بہترین راہ حیات ہے آپ نے آج سے

چودہ سو سال پہلے جو جو باتیں کیں تھیں وہ سب آہستہ آہستہ سچ ہو رہی ہیں ہمیں چاہیے کہ آپ کے فرمان کے مطابق زندگی گزاریں جس سے ہماری آخرت اور دنیا دونوں سکون سے گزر
جائیں اور اس کی بدولت بہت سی بیماریوں سے بھی نجات ملے نماز پڑھنے سے انسان بہت سی ذہنی اور جسمانی امراض سے محفوظ رہتا ہے ہمیں چاہیے کہ قرآن مجید کو ترجمے کے ساتھ

پڑھیں جس سے ہمیں اﷲ تعالیٰ کے حکم کے درست طریقے کا پتہ چلتا ہے اور اس سے انسانوں ۔ رشتے داروں کے حقوق کا بھی پتہ چلتا ہے کہ کس کس کے کیا فرائض ہیں اس کے علاوہ سکون قلب بھی میسر ہوتا ہے اسی طرح وضو کرنے سے بھی بہت سی جلدی امراض سے نجات ملتی ہے آج کل کے دور میں ہم اور ہمارے بچے اسلامیات سے دور ہوتے جا رہے ہیں جس کی

وجہ سے ہماری زندگی سے سکون ختم ہو گیا ہے اور بہت سے مسائل نے جنم لے لیا ہے جیسے گھریلو جھگڑے، حرس و حوس ،نااتفاقی ،بے راہ راوی ،عزت و احترام کا نہ ہونا ،والدین کی نافرمانی وغیرہ وغیرہ اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے ہمارے بچے بھی ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیں اس لئے ہم میں قوت برداشت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے ہم لوگ ویسے تو بہت سے

اسلامی تہوار مناتے ہیں لیکن حکم خدا وند تعالیٰ کے مطابق زندگی گزارنے سے قاصر کیوں ہیں اس کے بارے میں بھی ہمیں ضرور سوچنا چاہیے مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ہمیں چاہیے کہ آپ کے طرز زندگی پر عمل کر کے ایک سچے مسلمان ہونے کا حق ادا کریں ہم اپنے آپ کو ایسا بنائیں کہ مرنے کے بعد بھی لوگ یاد رکھیں

چلتے رہیں گے قافلے میرے بغیر بھی یہاں
ایک ستارہ ٹوٹ جانے سے فلک سونا نہیں ہوتا اس کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان ناخوشگوار تعلق کے اثرات ان کے بچوں پر بھی پزتے ہیں جس سے ان کی تعلیم و تربیت کے

سانھ ساتھ ان کی اخلاقیات اور اسلامیات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بچوں کی زندگی تباہ وبرباد ہو جاتی ہے وہ گلی محلے میں آوارہ ہو جاتے ہیں اس میں ان کے مستقبل پر بھی بہت برے اثرات پزتے ہیں میں نے جہاں تک دیکھا ہے کہ لوگ تو جائیداد کی وجہ سے اپنی بیٹییوں کی شادی تک نہیں کرتے صرف اور صرف اپنی ناک کو اونچا رکھنے کے لئے اپنے بچوں

کے جزبات سے کھیل جاتے ہیں جس کی وجہ سے آج کل پتہ نہیں کتنی لزکیاں گھروں میں بیٹھی بیٹھی بوزھی ہو گئی ہیں کچھ تو خدا کا خوف کرو کیوں ہم ایسا کر رہے ہیں اور آگے سے جواب دیتے ہیں کہ کوئی اچھا رشتہ نہیں ملتا کیونکہ ہماری سوچ منفی ہے اور ہم ہر کسی کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں حالانکہ کسی انسان کو برا بنانے میں معاشرہ کی بھی اہم کردار ہوتا ہے

بچے پیار کے بھوکے ہوتے ہیں اور ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ اپنے بچوں کے ساتھ گزار سکیں انگریزی میں کہاوت ہے کہ ۔ ہاتھ کی ساری انگلیاں برابر نہیں ہوتی۔ آج کل ہمارے معاشرے کی سب سے بزی لعنت جہیز کی بھی ہیں بہت سی غریب لڑکیوں کی زندگی کی ساری خوشیوں پر پانی پھر جاتا ہے کیونکہ اس کے والدین اتنا جہیز میسر نہیں کر پاتے جتنی لڑکے والوں کی طلب

ہوتی ہے آ ج کل کے دور میں یہ ایک عام رسم بن گئی ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں بہت سے مسائل پیدا ہو گئے ہیں ہمیں جہاں سے زیادہ آفر ہوتی ہے ہم وہاں چلے جاتے ہیں کوئی کسی کے جزبات کی قدر نہیں کرتا بس نفسانفسی کا دور دورہ ہے ہمارے بچے چاہے کچھ بھی نا کرتے کے قابل ہوں لیکن ہماری لڑکی والوں سے فرمائشیں بہت زیادہ ہوتی ہیں جس کی وجہ سے بہت

سی لڑکیوں اور لڑکوں کی عمر گزر جاتی ہے میڈیکل کے حوالے سے بھی وقت پر شادی نہ ہونے سے بہت سی امراض پیدا ہوتی ہیں ان امراض میں مرد اور عورتیں دونوں مبتلہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سب سے بڑا مسئلہ اولاد کا نا ہونا ہوتا ہے جس کی وجہ سے بہت سی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں کبھی کسی کو بے کار نا سمجھو نہ یاد رکھو کہ بند گھڑی بھی دن میں دو بار بالکل

ٹھیک ٹائم دیتی ہے اب ہم آتے ہیں ہمارے پیارے مذہب اسلام کی طرف ۔ یہ ربیع الاول کا بڑا بابرکت مہینہ ہے کیونکہ اس میں ہمارے پیارے نبی کریم اس دنیا میں تشریف لائے
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

Leave a Reply