استخارہ کرکے ہر الجھے معاملہ کا حل

استخارہ کرکے ہر الجھے معاملہ کا حل

استخارہ کرکے کسی بھی معاملے میں اللہ سے ہدایت ورہ نمائی حاصل کرنے کا علم و عمل بے حد مقبول ہوچکا ہے.زیادہ تر لوگ کسی صاحب علم سے استخارہ کراتے ہیں لیکن چاہیں تو وہ خود بھی یہ کام کرسکتے ہیں.

اس کے لئے استخارہ کرنے کے لئے غسل اور وضوکر کے صاف لباس پہنناضروری ہے. قبلہ رخ کھڑے ہو کر نہایت عاجزی کے ساتھ درج ذیل دعا مانگ کرقبلہ رخ چہرہ کرکے سو جائیں تو ان شاءاللہ اس عمل کی وجہ سے ساری صورتحال خواب میں نظر آجائے گی اور اس سے نجات حاصل کرنے کا بہتر حل بھی معلوم ہوجائے گا .ایک سے سات دن کے مسلسل عمل سے ساری

صورتحال واضح ہو جائے گی اورنجات کا راستہ بھی مل جائے گا .اوّل و آخر درود ابراہیمی 41بار پڑھ لیں اب درج ذیل ورد 101 مرتبہ پڑھنے کے بعد مذکورہ طریقے سے دعا مانگ کر وضو کی حالت میں قبلہ رخ سو جائیں .ان شاءاللہ خواب میں ہربات سے آگاہی ہو جائے گی .

اللھم خرلی و اختر لی ولا تکلنی الی اختیاری
دعا : ” اے اللہ ! تیری ذات یکتا و اعلیٰ ہے اور تیری ذات ہی عالم غیب ہے.تیرے سامنے کائنات کھلے کاغذ کی مانند ہے اور کائنات کے ہر فاعل کا ہر فعل بھی تیرے سامنے عیاں ہے .

میں اپنے کاروباری معاملات میں با لکل بے بس ہو گیا ہوں تُو میرے حال پر اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے رحم فرما اور مجھے اس بات سے آگاہ فرما کہ میرا کام کس کوتاہی کی وجہ سے بند ہوا ہے ےا کس تیرے نافرمان بندے کی جادوگری کی وجہ سے بند ہوا ہے اور اس سے مجھے نجات کی راہ بتا دیں ےا اللہ میری مدد فرما“ .

..

خیال منصب سوچنا چاہیے

کہتے ہیں ایک بادشاہ نے خواب دیکھاکہ وہ درختوں سے پتے توڑ توڑ کر نیچے پھینک رہا ہے۔اس نے تعبیر پوچھنے کی خاطر ایک نجومی کو اپنے دربار میں آنے کا حکم دیا۔نجومی آیا تو بادشاہ نے اس کو خواب سنا کر تعبیر پوچھی۔نجومی خواب سن کر گویا ہوا کہ الامان بادشاہ سلامت الامان! آپ نے رنج و ملال سے بھرا خواب دیکھا ہے۔آپ کے تمام رشتہ دار اور دوست احباب

مر جائیں گے اور آپ خود اپنے ہاتھوں سے اُن سب کے جنازے اٹھائیں گے اور انہیں دفنائیں گے۔بادشاہ تعبیر سنتے ہی جلال میں آ گیا اور کہنے لگا کہ میری زندگی میں تو رنج و ملال بعد میں آئیں گے لیکن تمہاری زندگی کے سارے غم آج سے ختم ہوئے۔یہ کہتے ہی جلاد کو حکم دیا کہ اس منحوس نجومی کا سر قلم کر دیا جائے۔اس کے بعد کسی دوسرے نجومی کو دربار میں پیش ہونے کا حکم ملا۔وہ نجومی پہلے نجومی کے انجام سے واقف تھا۔وہ خواب سنتے ہی محو کلام ہوا، ماشاء اﷲ ماشاء اﷲ !بادشاہ سلامت آپ کا اقبال بلند ہو ،کیا خوشیوں سے بھرپور خواب دیکھا ہے۔

پروردگار نے آپ کو عمر خضر ؑ سے نوازا ہے اور آپ زندگی کی ہزاروں بہاریں اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمائیں گے۔بادشاہ نے جب یہ سنا تو چہرہ گلاب کی مانند کھِل اٹھا اور اس نے حکم صادر فرمایا کہ نجومی کے وزن کے برابر سونا تول کر دیا جائے اور شاہی خلعت سمیت اعزاز و اکرام کے ساتھ اسے رخصت کیا جائے۔ایک اور نکتہ سمجھیے۔ایک با پردہ خاتون حضرت امام ابو

حنیفہؒ کے پاس تشریف لائیں اور ایک سوال کی بابت پوچھنا چاہا۔سوال یہ تھا کہ میں چاند کی چاندنی میں چھت پر چرخہ کاتتی ہوں۔بادشاہ کی سواری جب میری گلی سے گذرتی ہے تو اس کے قافلے میں موجود مشعلوں کی وجہ سے میری چھت پر روشنی بڑھ جاتی ہے اورچرخہ ذیادہ تیزی سے چلنے لگتا ہے۔کیا اُس روشنی میں کاتے گئے سوت کی کمائی میرے لیے جائز ہے؟امام ابو حنیفہؒ نے سوال سنا تو تعجب سے سائلہ کی طرف توجہ فرمائی اور استفسار کیا کہ آپ اپنا تعارف کرائیں۔خاتون نے بصد احترام جواباً کہا کہ آپ تعارف کو چھوڑیے اور مجھے جواب مرحمت فرمایے،میں اس

سوال کی وجہ سے انتہائی تذبذب کا شکار ہوں۔آپؒ نے فرمایا کہ ہر منصب کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں لہذا جواب دینے سے پہلے آپ کے منصب کا تعین کرنا ضروری ہے۔خاتون نے فرمایا کہ اے امامؒ!میں حضرت بِشر حاؒفی کی ہمشیر ہوں۔یہ سن کر آپؒ نے فرمایا کہ آپ کا مقام و رتبہ اِس بات کا متقاضی ہے کہ آپ کو اس کمائی سے اجتناب کرنا چاہیے۔ان دو تمہیدی واقعات کے تناظر میں

اگر حالیہ دھرنے کا تجزیہ کریں تو بہت سارے پہلو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔یہ دھرناجو خالصتاًمذہب کی حمایت میں تھا، جس میں علامہ خادم رضوی صاحب نے مسئلہ ختم نبوتؐ کی نزاکت کو ناصرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے سامنے اجاگر کیااور یہ امرروز روشن کی طرح عیاں کر دیا کہ اس مسئلے پر پوری قوم متحد ہے اور اس پر کسی بھی قسم کا سمجھوتا ناممکن ہے۔اس دوران

بڑے جیّد علماء کی شعلہ بیان تقاریر بھی سوشل میڈیا کے زریعے ہر خاص و عام کے گوش گذار ہوتی رہیں جس کو ہر کوئی اپنی اپنی ذہنی استعداد کے مطابق سمجھتا رہا۔اس معاملے میں کسی کی بھی خاموشی کسی بڑے جرم سے کم تر نہیں۔لیکن ہمارے ہاں یہ رسم رواں ہے کہ ہمیشہ کسی کوتاہی کو اعتراض اور اعتراض کوبنیاد بنا کر اصل مقصد کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔یہاں بھی

علامہ صاحب موصوف کی گفتگو کو بنیاد بنا کر نا صرف ان کی کردار کشی کی جا رہی ہے بلکہ اصل مقصد کو بھی اسی اعتراض میں گم کیا جا رہا ہے۔ختم نبوتؐ پر ایمان ہر مسلمان کے ایمان کا جزو لا ینفک ہے جس سے کسی قسم کا اعراض ممکن ہی نہیں اور اس قانون سے چھیڑ خوانی پر ہر پاکستانی غمزدہ ہے۔لوگوں نے ذمہ داران کے خلاف نکل کر چھوٹی سے چھوٹی قربانی سے

لے کر جانیں دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔لیکن ہماری بد نصیبی سمجھ لیجیے کہ جو بھی حق کا سفیر بن کر نکلتا ہے اوریہ توفیق باذن اﷲ سے ہی ممکن ہوتا ہے اس کے حوالے سے ہمیں سمجھنا چاہیے کہ وہ شخص جسے یہ توفیق ملے اسے فرشتہ ہی نہ سمجھ لیں بلکہ انسان ہی رہنے دیں اور اس میں کوتاہی یا کسی ذاتی عیب کے وجود کی گنجایش رکھیں۔کیونکہ عرش سے فرشتے اتر کر

ہماری وکالت و دستگیری نہیں کریں گے بلکہ کسی سیر کو دبانے کے لئے سوا سیرکا اہتمام خالق ِلم یزل اسی ماحول سے ہی فرمایا کرتا ہے۔لہذا حق تو یہ ہے کہ ہم قطع نظر اس بات کے کہ ک ساری توجہ اصل مدعا کی طرف ہی مبذول رہتی۔اور دوسری بات کہ آپس کی غلط فہمیوں اور اختلافات سے جو ایک نئی جنگ چھیڑ دی ہے وہ بھی کسی طرح زیب نہیں دیتی تھی۔اس سے سوائے

اپنی اہمیت و حیثیت کم کرنے کے اور کچھ حاصل نہیں ہو ا۔بہتر تھا کہ اس کو انا پرستی کی جنگ نہ بنایا جاتا۔اس سے عام عوام کو کوئی اچھا پیغام نہیں دیا گیا۔ ہمارے ہاں چند خامیوں کی وجہ سے پہلے ہی ہر سطح پرعلمائے دین کا طبقہ زیر عتاب رہتا ہے ،تو یہاں یہ کوتاہی کب بخشی جانی تھی لیکن اک حسرت ہے کہ کاش علامہ موصوف اپنے منصب کا خیال کرتے ہوئے غیر اخلاقی

گفتگو سے پرہیز فرماتے تو آج ناقدین مکھی بن کے زخم پر نہ بیٹھے ہوتے۔ بقول راقم:
خیال منصب سوچنا چاہیے
موقع حرمت دیکھنا چاہیے

Leave a Reply