حضرت علی ؓ سرکار دو عالمﷺ کا حسن و جمال کیسے بیان فرماتے؟سبحان اللہ ،جو بھی یہ حدیث پڑھے گا،اس کے دل کی کلیاں کھل اٹھیں گی

حضرت علی ؓ سرکار دو عالمﷺ کا حسن و جمال کیسے بیان فرماتے؟سبحان اللہ ،جو بھی یہ حدیث پڑھے گا،اس کے دل کی کلیاں کھل اٹھیں گی

عظیم محدث امام ترمذیؒ نے اپنی مشہور کتاب ”شمائل ترمذی“ میں بے حد عقیدت، محنت اورعرق ریزی سے حضور کریمﷺ کی سیرت مبارکہ، شب وروز اور سفر وحضرسے متعلقہ معلومات کو احادیث کی روشنی میں جمع کیاہے.اس میں سرکار دوجہاں ﷺ کے رخ زیبا کا بیان پڑھ کر دل کی کلیاں کھل جاتی ہے

شمائل ترمذی کی جلد اوّل میں امام ترمذی یوں بیان کرتے ہیں.

”ابراہیم بن محمد جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد میں سے ہیں (یعنی پوتے ہیں) وہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان فرماتے تو کہا کرتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہ زیادہ لانبے تھے، نہ زیادہ پستہ قد بلکہ میانہ قد لوگوں میں تھے. حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک نہ بالکل

پیچدار تھے نہ بالکل سیدھے. بلکہ تھوڑی سی پیچیدگی لئے ہوئے تھے، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم موٹے بدن کے تھے نہ گول چہرہ کے البتہ تھوڑی سی گولائی آپﷺ کے چہرہ مبارک میں تھی (یعنی چہرہ انور نہ بالکل گول تھا نہ بالکل لانبا بلکہ دونوں کے درمیان تھا) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ سفید سرخی مائل تھا. حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک آنکھیں نہایت

سیاہ تھیں اور پلکیں دراز، بدن کے جوڑوں کی ہڈیاں موٹی تھیں (مثلاً کہنیاں اور گھٹنے) اور ایسے ہی دونوں مونڈھوں کے درمیان کی جگہ بھی موٹی اور پر گوشت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن مبارک پر (معمولی طور سے زائد) بال نہیں تھے (یعنی بعض آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے بدن پر بال زیادہ ہو جاتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن مبارک پر خاص

خاص حصوں کے علاوہ جیسے بازو پنڈلیاں وغیرہ ان کے علاوہ اور کہیں بال نہ تھے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ مبارک سے ناف تک بالوں کی لکیر تھی. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ اور قدم مبارک پر گوشت تھے. جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے چلتے تو قدموں کو قوت سے اٹھاتے ،گویا کہ پستی کی طرف چل رہے ہیں، جب آپﷺ کسی کی طرف توجہ

فرماتے تو پورے بدن مبارک کے ساتھ توجہ فرماتے تھے (یعنی یہ کہ صرف گردن پھیر کر کسی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے. اس لئے کہ اس طرح دوسروں کے ساتھ لا پرواہی ظاہر ہوتی ہے اور بعض اوقات متکبرانہ حالت ہو جاتی ہے، بلکہ سینہ مبارک سمیت اس طرف رخ فرماتے ). آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں مبارک شانوں کے درمیان مہر نبوت تھی.

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ختم کرنے والے تھے نبیوں کے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی دل والے تھے. اور سب سے زیادہ سچی زبان والے تھے. سب سے زیادہ نرم طبیعت والے تھے. اور سب سے زیادہ شریف گھرانے والے تھے. ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم دل و زبان، طبیعت، خاندان اوصاف ذاتی اور نسبتی ہر چیز میں سب سے زیادہ افضل تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم

کو جو شخص یکایک دیکھتا مرعوب ہو جاتا تھا. (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وقار اس قدر زیادہ تھا کہ اوّل نظر میں دیکھنے والا رعب کی وجہ سے ہیبت میں آ جاتا تھا) اوّل تو جمال وخوبصورتی کے لئے بھی رعب ہوتا ہے .شوق افزوں مانع عرض تمنا آداب حسن بارہا دل نے اٹھائے، ایسی لذت کے مزے اس کے ساتھ جب کمالات کا اضافہ ہو تو پھر رعب کا کیا پوچھنا. اس

کے علاوہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مخصوص چیزیں عطا ہوئیں، ان میں رعب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کیا گیا. اور جو شخص پہچان کر میل جول کرتا تھا وہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمہ واوصاف جمیلہ کا گرویدہ ہو کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب بنا لیتا تھا. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کرنے والا صرف یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا باجمال وباکمال نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دیکھا نہ بعد میں دیکھا. “

مسجدِ اقصیٰ اور ہماری ذمہ داریاں

فلسطین یا بیت المقدس وہ سرزمین ہے جس کے بابرکت ہونے کی گواہی قرآن نے دی ہے، یہی وہ سرزمین ہے جہاں کا سفر مسلمانوں کے لئے فخر اور درجات علیاکے حصول کا ذریعہ ہے، یہی وہ سرزمین ہے جس میں مسلمانوں کے لئے مسجد اقصی، عیسائیوں کے لئے بیت اللحم اور یہودیوں کے لئے دیوار گریہ کی اہمیت کسی پر پوشیدہ نہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ شہر ان تینوں مذاہب کے

مابین ہمیشہ کشمکش کا مرکز بنا رہا ہے، انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا میں لکھا ہے کہ یہ شہر ۳۳ صدی پرانا ہے، آپ کو تعجب ہوگا کہ اتنا قدیم شہر اپنی تاریخ میں بہ مشکل بیس سال ایسے رکھتا ہے، جن کے دوران یہاں کے باشندوں کو امن نصیب ہوا، ورنہ نوع انسان کی خون آشام تاریخ یہاں اپنے آپ کو بار بار دہراتی رہی ہے، لیکن اس سے زیادہ حیرت میں ڈالنے والی بات یہ ہے کہ ان تمام واقعات کے باوجود اس کی تقدیس میں ذرہ برابر کمی نہیں ہوئی۔

تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ طوفانِ نوح کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام کی اولاد کے کچھ لوگ جزیرۃ العرب سے ہجرت کر کے ۲۵۰۰؁ ق م، اس سرزمین میں داخل ہوئے۔

اس کے بعد ۱۴۵۱؁ق م، کو یوشع بن نون نے بیت المقدس پر حملہ کر کے وہاں کے بادشاہ اور اس کے معاونین کو شکست دی، اس طرح بنی اسرائیل کا اس شہر میں داخلہ ہوا، یہ وہ زمانہ تھا جب بنی اسرائیل اﷲ کی محبوب قوم تھی، لیکن گردش زمانہ کے ساتھ یہ قوم اﷲ سے دور ہوتی گئی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو ذلیل وخوار ہو کر وہاں سے نکلنا پڑا، یہاں تک کہ ان کی

منشاء کے مطابق ۱۰۲۰؁ ق م، میں طالوت کو ان کا بادشاہ بنایا گیا، جس کا مقابلہ مشرکین کے سردار جالوت سے تھا، مقابلہ کے دوران ایک نوجوان نے بڑی بہادری کا مظاہرہ کرکے جالوت کو قتل کیا، قرآن کی وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نوجوان حضرت داؤد علیہ السلام تھے۔

طالوت کے بعد بنی اسرائیل نے حضرت داؤد علیہ السلام کو اپنا بادشاہ بنایا، انہوں نے اپنی قوم کو لے کر شہر بیت المقدس پر حملہ کیا اور اس کو فتح کر کے اس کا نام مدینہ داؤد رکھا، پھر ان کے جانشین حضرت سلیمان علیہ السلام کی عظیم وبارعب سلطنت کے بعد بنی اسرائیل دو حصوں میں تقسیم ہو کر باہم دست وگریباں ہوگئے، یہاں تک کہ ۵۶۹؁ق م میں بخت نصر نے یکے بعد

دیگرے دو حملے کئے، جس میں اس نے ہیکل سلیمانی کو بنیاد سے ختم کردیا، جب وہ واپس جا رہا تھا تو شہر کا یہ عالم تھا کہ پورا شہر راکھ سے بھرا ہوا تھا، اور بچے ہوئے یہودی اس کے قیدی تھے، یہ یہودیوں کی پہلی تباہی تھی جس میں دیگر صحیفوں کے ساتھ توریت بھی غائب ہو گئی، اور تابوت سکینہ بھی غائب ہوگیا، جس کا سراغ آج تک نہ مل سکا۔

بخت نصر کے اس حملہ کے بعد پچاس برس تک یہ شہر ویران رہا، یہاں تک کہ بابل بن سالتی ایل نے جو حضرت داؤد علیہ السلام کی نسل سے تھا، صہیونیت کی تحریک کا آغاز کیا، صیہون دراصل بیت المقدس میں ایک پہاڑی ہے، جس پر حضرت داؤد علیہ السلام نے جشن منایا تھا، اسی لئے یہودی اس کو مقدس سمجھتے ہیں، اس تحریک کا اصل مقصد کھوئی ہوئی ریاست کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔

۳۳۱؁ ق م کا زمانہ ہے، لگاتار یہودی سازشوں کے بعد بیت المقدس پر یہودیوں کا قبضہ ہو جاتا ہے، ابھی مختصر ہی عرصہ گذر پاتا ہے کہ ان کو خبر ملتی ہے کہ ایک بادشاہ پے در پے فتوحات کے ساتھ بیت المقدس کی طرف بڑھا چلا آرہا ہے، اب اس کو یہودیوں کی بزدلی کہیں یا عیاری کہ انہوں نے مقابلے کے بجائے اس بادشاہ کا استقبال کیا، یہ وہی بادشاہ ہے جس کو دنیا سکندر اعظم کے نام سے جانتی ہے، اس کی موت کے بعد یہ شہر یونانیوں کے قبضہ میں آگیا۔

Leave a Reply