’مجھے یقین نہیں آتا‘ اس بھارتی لڑکی کے ماں باپ کیسے دکھتے ہیں کہ اس نے سچ معلوم کرنے کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کرلیا، دیکھ کر آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں گے

’مجھے یقین نہیں آتا‘ اس بھارتی لڑکی کے ماں باپ کیسے دکھتے ہیں کہ اس نے سچ معلوم کرنے کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کرلیا، دیکھ کر آپ بھی حیران پریشان رہ جائیں گے

نئی دلی(نیوز ڈیسک) برصغیر پاک و ہند میں جسے دیکھو گوری رنگت کا دیوانہ ہے۔ خواتین کے لئے تو خاص طور پر گوری رنگت بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اسے حسن و جمال کا بنیادی عنصر خیال کیا جاتا ہے۔ایسے میں بھارتی لڑکی پوجا بناترا کا کیس یقیناًایک منفرد مثال ہے کیونکہ اس کی غیر معمولی گوری رنگت اس کے لئے نعمت کی بجائے ایک بڑی مصیبت ثابت ہوئی ہے۔

جب پوجا کی پیدائش ہوئی تو اس کے گھنگریالے سرخ بال اور انتہائی سرخ و سفید رنگت دیکھ کر ہر کوئی حیران تھا۔ اس کے بال، جلد اور آنکھوں کو دیکھ کر ہر کوئی کہتا تھا کہ یہ تو انگریزہے، حالانکہ اس کے والدین گندمی رنگت اور کالے بالوں والے عام بھارتی تھے۔پوجا نے اپنے بچپن کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا ’’جب میری پیدائش ہوئی تو ہر کوئی مجھے دیکھ کر حیران تھا۔ میرے خاندان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس کی شکل و شباہت اور رنگت مجھ سے ملتی ہو۔ وہ سب گندمی رنگت اور کالے بالوں والے عام بھارتی تھے جبکہ میں بھارتی سے زیادہ آئرلینڈ کی نظر آتی تھی۔ جب میں تین سال کی تھی تو میرے چہرے پر چھائیاں بھی بننا شروع ہوگئیں۔ لوگ ہمیشہ میرے چہرے پر نمودار ہونے والے نشانات کی جانب اشارہ کرتے تھے اور سکول میں بھی بچے مجھے تنگ کرتے تھے۔ کالج اور یونیورسٹی میں بھی میری منفرد شکل و شباہت کی وجہ سے ہر کوئی میرے بارے میں بات کرتا تھا۔ میرے ساتھی طلبا و طالبات بھی مجھے بھارتی ماننے پر تیار نہیں ہوتے تھے اور بعض اوقات تو لوگ مجھے ہندی بولتا دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے کیونکہ وہ مجھے انگریز سمجھتے تھے۔ جب میں ا مریکہ گئی تو وہاں بھی میرے ساتھ یہی صورتحال پیش آئی۔ کسٹم آفیسر نے میرے پاسپورٹ اور میری شکل کو بار بار دیکھا اور سوال کیا ’’کیا آپ واقعی بھارتی ہیں؟‘‘

چوبیس سال سے اس صورتحال کا سامنا کرنے والی پوجا نے بالآخر تنگ آ کر اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ جاننا چاہتی ہے کہ واقعی وہ اپنے بھارتی والدین کی اولاد ہے یا حقیقت کچھ اور ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنا ڈی این اے کرواکر اپنی جینیاتی وراثت کی حتمی معلومات حاصل کرنا چاہتی ہے تا کہ یہ معمہ ہمیشہ کے لئے حل ہو جائے۔

Leave a Reply