’’آپ کے ہاتھ میں اس جگہ یہ منحوس لکیرموجود ہے تو محتاط ہوجائیں‘‘ حادثات کی نشاندہی کرنے والی اس لکیر کو دیکھ کر آپ خود کو بدل کر خطرات کم کرسکتے ہیں

’’آپ کے ہاتھ میں اس جگہ یہ منحوس لکیرموجود ہے تو محتاط ہوجائیں‘‘ حادثات کی نشاندہی کرنے والی اس لکیر کو دیکھ کر آپ خود کو بدل کر خطرات کم کرسکتے ہیں

’’آپ کے ہاتھ میں اس جگہ یہ منحوس لکیرموجود ہے تو محتاط ہوجائیں‘‘ حادثات کی نشاندہی کرنے والی اس لکیر کو دیکھ کر آپ خود کو بدل کر خطرات کم کرسکتے ہیں

لاہور(نظام الدولہ )انسان کی زندگی میں حادثے رونما ہوتے رہتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ اسکے ساتھ کب کیا ہوسکتا ہے۔تاہم اس بات کا قیافہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کسی انسان کے ہاتھ میں حادثہ کی لکیر موجود ہوتواسکی زندگی میں کب اور کس نوعیت کا حادثہ رونما ہوگا لہذا ایسا انسان احتیاط کرے تو مشکل سے بچ نکلتا ہے۔
پامسٹری کے استاد کیرو کے مطابق حادثہ کی نشانی وضع کرنے والی لکیر زحل کے ابھار سے نمودار ہوتی ہے۔ زحل کے ابھار سے ایک لکیر جزیرہ بناتی ہوئی یا جزیرہ سے نیچے گرتی ہوئی زندگی کی لکیر تک پہنچتی ہے۔ یہ لکیر نہایت منحوس ہے۔ امکان ہے حادثہ پیش آئے گا۔ جو اگر مہلک نہ ہوتو سخت خطرناک ہو گا۔ مثلاً
ا۔ ہڈیاں ٹوٹ سکتی ہیں۔
۲۔ کوئی عضو بیکار ہو سکتا ہے۔
۳۔ چہرہ مسخ ہو سکتا ہے۔
اگرایسی لکیر اگر زندگی کی لکیر میں شامل ہو جائے تو سمجھئے جوخطرہ درپیش تھاوہ رْک گیا یا حادثہ ہوا اور فرد بال بال بچ گیا۔ یا وہ فرد حادثہ میں بال بال بچ جائے گا۔ اگر اس قسم کا نشان زحل کے اْبھار کے نیچے ہو توحادثہ جانوروں کی وجہ سے پیش آئے گا۔
مندرجہ بالا قواعد دماغی لکیر پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ حادثہ ہو گا تو سر پر چوٹ آئے گی۔ سر زخمی ہو گا، چہرہ زخمی ہو گا لیکن جب تک حادثہ کی لکیر دماغی لکیر کو کاٹتی ہوئی نہ نکل جائے زندگی کو خطرہ نہ ہو گا۔ موت کا امکان نہ ہو گا۔ اگر ایسی لکیر دماغی لکیر کے پاس آکر رْک جائے تو یہ قدرت کی طرف سے تنبیہ ہے۔ کوشش کریں کہ حادثہ نہ ہو۔ خطرہ سے دور رہنے کی کوشش کریں اور مراقبہ کی مدد سے اپنی ذہنی قوتوں کر بڑھا کر ایسی لکیروں کو بدلنے کی کوشش کریں۔لکیریں قوت ارادی سے بدل جاتی ہیں۔

Leave a Reply