قیامت فریب

قیامت فریب

قیامت مسلمانوں کے بنیادی عقائد میں سے ایک انتہائی اہم عقیدہ ہے اور اس پر ایمان لائے بغیر کوئی بھی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا.قیامت کا وقت اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے مخفی رکھا ہے اور کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ قیامت کب آئے گی تاہم اللہ

کے نبی ﷺ نے مسلمانوں کو بخشش کا موقع دیتے ہوئے کچھ نشانیاں بتائیں ہیں. ان کے بارے میں حدیث شریف میں ارشاد کیا ہے کہ جب یہ واقعات رونما ہوجائیں تو سمجھ لینا کہ قیامت بہت نزدیک آچکی ہے . آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کی سب سے پہلی نشانیمیرا

انتقال ہے. قیامت کی دوسری نشانی آپ ﷺ نے فلسطین ( موجودہ اسرائیل کے قبضے میں) میں واقع بیت المقدس کی فتح ہے..

یاد رہے کہ ماضی میں بھی مسلمان اس علاقے کو فتح کرچکے ہیں.تیسری نشانی یہ ہے کہ انسان جانوروں جیسی موت مرنے لگیں گے اور گردن توڑ بخار جیسی بیماریاں عام ہوجائیں گی.آثارِ قیامت میں سے چوتھا یہ ہے کہ مال کا پھیلاؤ بے پناہ بڑھ جائے گا‘ یہاں تک کہ کسی

شخص کو سو دینار بھی د یے جائیں گے تب بھی وہ ناراض ہی رہے گا.پانچویں نشانی یہ ہے کہ قیامت سے پہلے ایک فتنہ کھڑا ہوگا جو عربوں گھر گھرمیں داخل ہوجائے گا اور کوئی بھی گھر اس سے محفوظ نہیں رہے گا.چھٹی اور آخری نشانی یہ ہے کہ’تمہارے(مسلمانوں)

اور بنو اصفر (اہل روم) کے درمیان صلح ہوگی پھر وہ بے وفائی کریں گے اور 80 جھنڈے لے کر مسلمانوں پر چڑھ دوڑیں گے

.قیامت کی ان نشانیوں کے ذہن میں رکھیےاوریہ بھی یادرکھیے کہ آثارِ قیامت میں سے ایک سورج کا مغرب سے طلوع ہونا بھی ثابت ہے اور جس دن یہ نشانی پوری ہوگی اس دن اللہ تعالیٰ توبہ کا دروازہ بند کردے گا‘ پھر کسی کی توبہ قبول نہیں ہوگی. اس لیے ہر وقت اللہ سے استغفار طلب کرتے رہیے اور لازمی دعا کا حصہ بنائیے کہ وہ ہمارا اور آپ کا خاتمہ بالخیر کرے.

ریاست پاکستان نے جن لوگوں کو شناخت دی ، شہریت دی اور جو یہاں کے وسائل کی بدولت زیرو سے ہیرو بنے اور برسر اقتدار آئے، بدقسمتی سے ان ہی لوگوں نے ملکی وسائل کو بے دردی سے لوٹا، عوام کا خون خوب نچوڑا اور اسی پر اکتفا نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف عمل رہے۔ جس کے باعث ملک قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ستر سال میں بھی ترقی کی راہ پر گامزن

نہیں ہوسکا۔ریاست کے چوتھے ستون صحافت میں گراں قدر خدمات سرانجام دینے والے ملک کے ممتاز صحافی،درجنوں کتابوں کے مصنف ، کونسل آف پاکستان نیوز پیپرایڈیٹرز کے صدر اور خبریں گروپ کے ایڈیٹر ان چیف ضیا شاہد کی کتاب ’’ پاکستان کے خلاف سازش ‘‘

میرے سامنے ہے ، جس میں انہوں نے قائد اعظم ؒ کی سوچ اور دوقومی نظریہ کی بجائے زبان اور نسل کی بنیاد پر کی جانے والی پاکستان کے خلاف سازشوں کو بڑی دلیری سے، اور ان ضمیر فروشوں کا نام لے کربے نقاب کیا ہے۔ زیر نظر کتاب ان کے 58 مضامین پر مشتمل ہے جو

تواتر کیساتھ روزنامہ خبریں میں شائع ہوتے رہے ہیں، اور قارئین کے اصرار پر انہیں کتابی شکل دے کر خوبصورت انداز میں شائع کیا گیا ہے۔ دو سو پینتیس صفحات، عمدہ کتابت اور بہترین کاغذ پر اس خوبصورت کتاب کو پبلشر علامہ عبد الستار عاصم نے قلم فاؤنڈیشن

انٹرنیشنل کے زیر اہتمام شائع کیا ہے ۔ اس کتاب میں چشم کشا مضامین شامل کئے گئے جن سے عام قاری کو معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح کچھ لوگوں نے ذاتی مفادات اور اقتدار کے حصول کیلئے زبان اور نسل کو نعرہ بنایا اور پاکستان کو توڑنے کی پوری پوری کوشش کی۔

ضیاشاہد صاحب نے بلاوجہ کسی پر بہتان نہیں باندھے، بلکہ ایسے لوگوں کے بیانات اور تحریروں میں سے ہی ان کا ذہنی رخ عام کیا ہے تا کہ عوام سوچیں، جانچیں اور پرکھیں۔ کتاب کا انتساب بانی پاکستان محمد علی جناح کے نام کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’جناح نے دو قومی

نظریہ یعنی مسلمان الگ اور ہندو الگ کے فلسفے پر پاکستان کی تشکیل کی اور جنہیں ان کے پیش کردہ نظریئے کے خلاف زبان اور نسل کی پوجا کرنے والے توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔

ضیاشاہد صاحب ملکی ترقی و سلامتی کے لئے دردمند دل رکھنے والے انسان ہیں جو استحصالی قوتوں کے دستور اور منشور کو اپنے قلم کی نوک سے توڑتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے صحافت کی دنیا میں ایسی مثالیں قائم کی ہیں جو بطور ایک کارکن صحافی ناممکن تھیں لیکن ان

کی دلجمعی اور جنون نے اس کو ممکن کر دکھایا۔ ان کی ساری صحافتی زندگی بھرپور محنت سے عبارت ہے ، میگزین ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت لاہور، ریذیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت کراچی، جوائنٹ ریذیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ جنگ لاہور، چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان لاہور

رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں گرفتار ہو کر شاہی قلعے کے مہمان بنے، اور آزادی صحافت کے جرم میں سات ماہ تک پابند سلاسل رہے۔ انہیں شعبہ صحافت میں اعلیٰ ترین خدمات کے اعتراف میں صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں اعلیٰ سول اعزاز ستارہ امتیاز سے

نوازا گیا، جبکہ سی پی این ای کی طرف سے سابق وزیراعظم نواز شریف کے ہاتھوں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی ملا۔ ضیاشاہد بڑے سے بڑے عہدیدار کے سامنے بے باکی اور جرات کیساتھ مضبوط و مدلل گفتگو کرنے کافن جانتے ہیں، انہوں نے کبھی اپنے فرائض منصبی کی

حرمت پر آنچ نہ آنے د ی حتیٰ کہ جیل کی صعوبتیں بھی ان کے پایہ استقلال کو متزلزل نہ کر سکیں۔ انہوں نے ہر طبقہ فکر کو نہ صرف اپنے اخبار میں جگہ دی بلکہ ان کی حقیقی ترجمانی کی اور حقائق کو بغیر لگی لپٹی رکھے عوام تک پہنچایا۔ انہوں نے ہمیشہ صحافتی اقدار کی

حرمت کو مقدم رکھا اور آج بھی وہ ان ہی اصولوں کے مطابق اپنے قلم کی سیاہی کو ان سیاہ کاروں کے خلاف استعمال کررہے ہیں جو اس ملک کی سلامتی کو کسی بیرونی طاقت کے ایجنڈے پر نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔

Leave a Reply