چھ مہینے تک بھینس کی خدمت کرتے رہو

چھ مہینے تک بھینس کی خدمت کرتے رہو

ایک جٹ بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آیا-کہنے لگا دنیا داری زیادہ نہیں جانتا، عشق حقیقی سمجھنا ہے-بابا جی نے کہا یہ بتاؤ کے دنیا میں سب سے زیادہ محبت کس سے کرتے ہو؟جواب دیا-اپنی بھینس سے کرتا ہوں-بابا جی نے کہا-آج سے تمھارا سبق یہی ہے کہ اسے دیکھتے رہو، چھ مہینے تک-“بندہ خوش ہوگیا-

چھ مہینے کے بعد حاضر ہوا تو بابا جی نے پوچھا کہ “ کون؟ ”اس نے کہا “جٹ”-بابا جی نے پھر حکم کیا کیا-جاؤ اور چھ مہینے بعد آنا-جس دن وہ بابا جی کو ملنے آیا تو دروازے سے سر ٹکرا کر واپس ہو جاتا اندر نہیں جا رہا تھا-بابا جی نے اس سے پوچھا-“بھائی! اندر کیوں نہیں آتے؟”کہنے لگا-“بابا جی! اندر کیسے آؤں، میرے دونوں سینگ اس دروازے میں پھنس جاتے ہیں

-“بابا جی نے ہنستے ہوئے کہا-“جاؤ! آج تمھارا سبق پورا آج تمھارا سبق پورا ہوا-رانجھا رانجھا کر دی نی میں آپے رانجھا ہوئی.عشق حقیقی یہی ہے کہ اپنی ذات کی نفی ہو جائے

گیدڑ سنگھی ..

یہ گیدڑ سنگهی دراصل گیدڑ کے سر میں نکلنے والا ایک دانا (پهوڑا ) ہوتا ہے،
جو کہ اسکے سر میں اپنی شاخیں پهیلاتا ہے اور ایک خاص حد تک بڑا ہونے کے بعد خود بخود جهڑ کر گر جاتا ہے،
گرنے کے بعد بهی یہ جاندار رہتا ہے، اور اسے جادو ٹونے کرنے والے اٹها کر لے جاتے ہیں اور اپنے خاص مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں …!

اسے سندور میں ہی رکها جاتا ہے، ورنہ اسکی بڑهوتری ختم ہو جاتی ہے یہاں تک کہ یہ مر جاتا ہے، کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ نر اور مادہ حالتوں میں ہوتا ہے ….!

جادوگروں کے پاس شوہر یا محبوب یا سسرال والوں کو قابو کرنے کے خواہش مند خصوصاً محبت کا حصول چاہنے والے مرد و زن جب آتے ہیں تو انہیں ایک مخصوص رقم کے عوض یہ گیدڑ سنگهی دی جاتی ہے،
گیدڑ سنگهی کی ہمیشہ جوڑی ( نر اور مادہ ) ایک ساتھ رکهی جاتی ہے ورنہ بقول ان بدعقیدہ لوگوں کے یہ کام نہیں کرتی اور بےکار ہو جاتی ہے …!

اسکے علاوہ لوگ نعوذباللہ اسے شوقیہ گهر میں خیروبرکت کے لیے،
روزگار کے حصول کے لیے،
دولت میں اضافے کے لیے خریدتے ہیں اور بہت عقیدت سے اپنے پاس رکهتے ہیں …!

گیدڑ سنگهی کے بال باقاعدہ بڑهتے ہیں اور انکی باقاعدگی، اور ایک خاص طریقے سے تراش خراش بهی کی جاتی ہے،
یہ تو تهی گیدڑ سنگهی کے بارے میں وہ معلومات اور عقائد،
جو مجهے پتا چلے اور میں نے اپنا فرض جان کر آپ تک پہنچائے …!

اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان میں کیا سچ ہے اور کیا جهوٹ،
کیونکہ اللہ ہی سب سے بہتر علم رکهنے والا ہے …!

محترم قارئین کرام اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ گیدڑ سنگهی جیسی عجیب الخلقت چیز کو لوگوں کو فروخت کرتے ہیں وہ بهی اس دعوے سے کہ :
” اسے رکهنے سے آپکے معاشی مسائل دور ہوں گے اور آپ کے گهر روپے پیسے کی ریل پیل ہو گی … ”

تو کیا ان لوگوں کی خود کی رہائش اور حلیے دیکھ کر بهی لوگوں کو عقل نہیں آتی …؟

اور
انکے ذہنوں میں یہ سوال نہیں ابھرتا کہ فروخت کرنے والے کے پاس تو نجانے کتنی تعداد میں انکی جوڑیاں موجود ہیں پهر وہ کیوں ابهی تک خالی ہاتھ ہیں ….؟

ان خالی الذہن لوگوں کو کوئی بتائے کہ یہ بهی بڑا شرک ہے کہ:
: تم اللہ کے ہوتے ایک ڈرپوک جانور کے جسم سے خارج ہوئے پهوڑے کو اپنا مشکل کشا مانتے ہو … ”

اللہ تعالٰی اصلاح فرمائے ایسی سوچ رکھنے والوں کی،
کہ پهر ہندوؤں اور انکے درمیان فرق کیا رہ گیا …؟
فقط دن میں پانچ وقت زمین پر ٹکریں مارنے کا …؟
جبکہ ان بدنصیبوں کو تو پتا ہی نہیں ہے کہ ان کے گهر کی خوشیاں ،
خیروبرکت اور رونق اس بد شکل شے کی وجہ سے نہیں بلکہ بے دلی سے ہی سہی لیکن پانچ وقت رٹی رٹائی سورتیں ،
آئیتں پڑهنے اور زمین پر سجدہ کرتے وقت سبحان ربی اعلیٰ کہنے کی ہی بدولت ہیں …!

کاش کہ مجھ سمیت ہم سب کو عقل آسکے اور اللہ تعالٰی ہم سب مسلمانان عالم کو بھلائی و ہدایت عطا فرماتے ہوئے عین صراط مستقیم پر چلنے کی کامل توفیق عطا فرمائے …
آمین ثم آمیـــــــــــــــــن یارب العالمین …

Leave a Reply