جو دعائیں قبول کرتا ہے

جو دعائیں قبول کرتا ہے

ایک اعرابی کو کہا گیا کہ تم مر جاؤ گے -اس نے کہاں پھر کہاں جائیں گے ؟ کہا گیا کہ اللہ کے پاس – اعرابی کہنے لگا آج تک جو خیر بھی پائی ہے اللہ کے یہاں سے پائی ہے پھر اس سے ملاقات سے کیا ڈرنا. کس قدر بہترین حسنِ ظن ہے اپنے اللہ سے -ایک بزرگ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ھیں جس کی دعا قبول کی جاتی ہے؟ بزرگ نے جواب دیا نہیں ، مگر میں اس کو جانتا ھوں جو دعائیں قبول کرتا ہے- کیا ہی بہترین حسنِ ظن ہے – ابن عباسؓ سے ایک بدو نے پوچھا کہ حساب کون لے گا ؟

آپ نے فرمایا کہ ” اللہ ” رب کعبہ کی قسم پھر تو ھم نجات پا گئے ،بدو نے خوشی سے کہا – کیا ہی بہترین حسنِ ظن ہے اپنے رب سے- ایک نوجوان کا آخری وقت آیا تو اس کی ماں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی- نوجوان نے ماں کا ہاتھ پکڑ کر سوال کیا کہ امی جان اگر میرا حساب آپ کے حوالے کر دیا جائے تو آپ میرے ساتھ کیا کریں گی؟ ماں نے کہا کہ میں تجھ پر رحم کرتے ھوئے معاف کردونگی- اماں جان اللہ پاک آپ سے بڑھ کر رحیم ہے پھر اس کے پاس بھیجتے ھوئے یہ رونا کیسا؟

کیا ھی بہترین گمان ہے اپنے رب کے بارے میں- اللہ پاک نے حشر کی منظر کشی کرتے ھوئے فرمایا ہے، {وخشعت الأصوات للرّحمٰن } اور اس دن آوازیں دب جائیں گی رحمان کے سامنے – اس حشر کی گھڑی میں بھی یہ نہیں فرمایا کہ ” جبار ” کے سامنے بلکہ اپنی صفتِ رحمت کا ہی آسرا دیا ہے.

عیدالفظر

اس حدیث سے جہاں اول وقت میں عید کی نماز ادا کرنے کا علم ہوتا ہے وہیں اس بات کا بھی علم ہوتا ہے کہ زوال سے قبل اول وافضل وقت کے بعد بھی ادا کی گئی نماز ہوجاتی ہے کیونکہ کچھ تاخیر سے عید کی نماز ادا کرنے کو عبداللہ بن بسر رضی اللہ نے بس ناپسند کیا ۔ یہاں ایک اور بات یہ معلوم ہوئی کہ عید الفطر اور عیدالاضحی کا وقت رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک ہی تھا۔
بعض علماء نے عیدالفظر کی نمازمعمولی تاخیر سےاور عیدالاضحی کی نماز جلدی ادا کرنے کو کہا ہےاس کی وجہ یہ ہے کہ عید الفظر کے دن اہم کاموں میں سے ایک کام فطرانہ کی ادائیگی ہے جس کا وقت نماز عیدالفطر سے قبل ہے ،اگر

اس نماز میں کچھ تاخیر کردی جائے تو فطرانہ کی ادائیگی میں لوگوں کو سہولت ہوجائے گی۔ اور عیدالاضحی کے دن اہم کاموں میں سے ایک اہم کام قربانی کرناہے جس کا وقت عیدالاضحی کی نماز کے بعد ہے ۔ اگر جلدی اول وقت پہ اس نماز کو اداکرلی جائے تو قربانی دینے اور اس کا گوشت کھانے کھلانے اور تقسیم کرنے میں لوگوں کو آسانی ہوگی۔
یہ فرق جید علماء سے بھی منقول ہے ،اس پہ عمل کرنے میں حرج کی بات نہیں ہے کیونکہ نماز اس کے جواز کے وقت میں ہی ادا کیجاتی ہے تاہم میری ناقص نظر سے عیدالفطر میں تاخیر سے خاصا فرق نہیں پڑتا کیونکہ فطرانہ کا افضل

وقت عیدکاچاند نکلنے سے ہی شروع ہوجاتا ہے جبکہ وقت جواز کے حساب سے عیدسے ایک دو دن پہلے ہی لوگ فطرانہ دے سکتے ہیں ۔نماز میں تاخیر کرنے سے لوگ فطرانہ ادا کرنے میں قصدا تاخیر کرتے ہیں،اگر نماز میں تاخیر نہ ہو تو لوگ وقت سے ادا کردیں گے اس لئے عیدالفطر کی نمازبھی اول وقت پر ہی ادا کیجائے تو اولی وافضل ہے ۔اوپر نماز عید میں تاخیر کرنے پر صحابی رسول عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی ناپسندیدگی آپ نے پڑھی ہی ہے۔ عیدالفطر اور عید الاضحی کے وقتوں میں فرق سے متعلق مجھے کوئی صحیح روایت نہیں ملی ۔

(1)ایک روایت اس طرح سے آئی ہے ۔

كان النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ يُصلِّي بنا يومَ الفطرِ والشمسُ على قيدِ رُمحيْنِ والأضحَى على قيدِ رُمْحٍ(ارواء الغلیل: 3/101)
ترجمہ: نبی ﷺ ہمیں عیدالفطر کی نماز دونیزے کے برابر سورج ہونے پرپڑھاتے اور عیدالاضحی کی نماز اس وقت پڑھاتے جب سورج ایک نیزہ پر ہوتا ۔
شیخ البانی اس حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ اس میں معلی بن ہلال کے کذب پر سارے نقاد کا اتقاق ہے۔ دیکھیں ارواء الغلیل کا مذکورہ حوالہ۔

(2)ایک دوسری روایت اس قسم کی ہے ۔

أنَّ رسولَ اللهِ – صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم – كتب إلى عمرو بنِ حَزْمٍ وهو بِنَجْرانَ : عَجِّلِ الأضحى وأَخِّرِ الفِطرَ وذَكِّرِ الناسَ۔

ترجمہ: بے شک اللہ کے رسول ﷺ نے والی نجران عمروبن حزم کو لکھا کہ وہ عیدالاضحی میں جلدی اور عیدالفطر میں تاخیر کریں اور لوگوں کو (خطبہ میں) نصیحت کریں۔

یہ مرسل روایت ہے جسے امام شافعی نے بیان کیا ہےاورشیخ البانی نے کہا کہ اس میں مہتم روای ہے ۔ دیکھیں (تخريج مشكاة المصابيح:1394)

کبھی کبھی عید کی اطلاع زوال کے بعد ہوتی ہے اور ہمیں اوپرمعلوم ہوا کہ نمازعیدین زوال تک ہی پڑھی جاسکتی ہیں لہذا اس صورت میں روزہ توڑ دینا چاہئے اور اگلے دن نماز عید پڑھنا چاہئے ۔

جناب ابوعمیر بن انس اپنے چچوں سے ، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تھے ، بیان کرتے ہیں:

أنَّ رَكبًا جاءوا إلى النَّبيِّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ يشهدونَ أنَّهم رأوا الهلالَ بالأمسِ فأمرَهم أن يفطروا وإذا أصبحوا أن يغدوا إلى مصلَّاهم(صحيح أبي داود:1157)
ترجمہ: ایک قافلے والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے شہادت دی کہ ہم نے کل شام کو چاند دیکھا ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ روزہ افطار کر لیں اور اگلے دن صبح کو عید گاہ میں پہنچیں ۔

Leave a Reply