یہ سیدھی مسواک آپ کے پاس ہو

یہ سیدھی مسواک آپ کے پاس ہو

نبی کریمؐ کی مبارک زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے. ایک مرتبہ آپؐ سفر پر تشریف لے جا رہے تھے اور ایک صحابی ساتھ تھے.

ایک جگہ رکے. حدیث پاک میں آتا ہے کہ نبی کریمؐ نے ایک درخت سے دو مسواک بنائے، ان میں سے ایک مسواک سیدھی اور خوب صورت تھی اور ایک ذرا ٹیڑھی تھی،

نبی کریمؐ نے سیدھی مسواک اس صحابی کو دے دیا اور ٹیڑھی مسواک اپنے پاس رکھ لی، اس صحابیؓ نے عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ!میرا دل چاہتا ہے کہ یہ سیدھی مسواک آپ کے پاس ہو. اس پر آپؐ نے فرمایا کہ میرا بھی دل چاہتا ہے کہ سیدھی اور خوبصورت مسواک آپ کے پاس ہو، دیکھا! کیسی تعلیمات دی ہیں!… شریکِ سفر اگر کوئی ہے

تو اس کا بھی حق بنا دیا. اگر زندگی کا چند قدموں کے لیے چلتے ہوئے کوئی شریک بن جاتا ہے تو اس کا حق ہے، تو جو ایک گھر میں پیدا ہوئے، ایک ماں باپ کے نورِ نظر ہیں، ان کا ایک دوسرے پر کتنا حق ہو گا؟

شروعات کہاں سے کروں؟

شروعات کہاں سے کروں ،مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آتا ۔شروعات کہاں سے کروں۔ امثال نے اپنے شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے مشورہ لینے والی نگاہ اس پر اٹکا دی۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ عارف نے کچھ الجھتے ہوئے اس کی طرف دیکھا ۔ تم ویلفیر کا کوئی ادارہ اکیلے تو چلا نہیں سکتی ۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی اس قسم کا ادارہ پیسوں کے بغیر چلے گا ۔ سوچوں ایک کمرہ یا ذیادہ چاہیے ۔جہاں لوگ آ کر اپنے مسلے بیان کریں ۔ امثال نے گھورتے ہوئے کہا۔ تمہارا مطلب ہے میں ویلفیر کا کام ہی نہ کروں۔

عارف نے اس کی طرف سے نگاہ ہٹا دی۔ مجھے جو لگتا تھا میں نے کہہ دیا۔ اب تم جانو اور تمہارا کام امثال ۔ مجھے یہ ڈیل کے پیپر دیکھنے دو پلیز پہلے ہی رات کے دو بج رہے ہیں ۔ عارف نے نگاہ سرسری گھڑی پر ڈالی۔امثال نے گھڑی دیکھتے ہی سوچا ۔ آج کا ماسک لگانا تو میں بھول ہی گئی پھر وہ آئینہ کے سامنے جا کر اپنے چہرے کو دیکھنے لگی۔ چالیس سال کی امثال کا چہرہ ابھی بھی کافی جوان اور خوبصورت تھا۔ وہ خود کو دیکھ کر مسکرائی۔ پھر ماسک لگانے لگی۔دل ہی دل میں اپنے ویلفیر کے ادارے سے متعلق سوچ رہی تھی۔ ہم پوری پوری کوشش کریں گئے کہ غریبوں کو ان کا حق ملے ۔ نیکی بھی تو لازمی ہے نا۔

آمنہ نے کپڑے مشین میں ڈالے ہی تھے کہ شیزاد نے پاوڈر کا ڈبہ کھول کر سارا پاوڈر زمین پھینک دیا تھا۔ اسے سدرہ کے چلانے کی آواز آئی امی۔امی۔ شیزاد کو دیکھیں ۔ پاوڈر ، پاوڈر ۔ آمنہ نے اپنا کام چھوڑا اور فوراً سے بچوں کے کمرے کا رُخ کیا۔ آمنہ نے شیزاد کو دیکھا جو پورا پاوڈر سے نہایا ہوا لگ رہا تھا۔ اس کے اردگرد پاوڈر ہی پاودر تھا۔ آمنہ نے گہری سانس لی ۔ سدرہ بیٹا جا کر جھاڑو لا دیں ، مجھے یہ صاف کرنا ہے۔ آمنہ نے ہلکے سے شیزاد کو جھاڑا تا کہ اس پر جما ہوا پاوڈر نیچے اُتر جائے۔یہ کیا کیا ؟آپ نے ۔ شیزاد نے مما کا سوال سن کر ہنسنا شروع کر دیا ۔ چار سالہ شیزاد روز اسی قسم کے کارنامے کرتا رہتا تھا۔

آمنہ بہت تحمل سے بچوں سے پیش آتی تھی۔ سات سال کی سدرہ نے مما سے کہا مما آپ چھوڑ دیں نا ۔ ابھی وہ کام والی آنٹی ذبیدہ آتی ہی ہوں گی ۔ پاوڈر صاف کر لیں گی۔ آمنہ نے مسکراتے ہوئے سدرہ سے کہا۔ بیٹا کسی پر ذیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ قیامت کے دن ہمارے ہر عمل کی پوچھ ہو گی۔ کسی کے ساتھ کی گئی اچھا ئی اور برائی دونوں سامنے آ جائیں گی۔سدرہ نےکہا مما اللہ تعالیٰ ناراض ہوں گئے اگر ہم پاوڈر آنٹی ذبیدہ سے صاف کروائیں ۔ آمنہ نے مسکرا کر کہا ۔ نہیں بیٹا ۔ اللہ تعالیٰ خوش ہوں گئے اگر ہم اس کے کسی بندے پر ضرورت سے ذیادہ بوجھ نہ ڈالیں ۔ ایسے لوگ جن پررب نے ہمیں اختیار دیا ہو ۔ان کے ساتھ جہاں تک ممکن ہو بھلائی کرنی چاہیے کہ۔سب سے ذیادہ بااختیار تو اللہ ہے۔ وہی ہے جو ہمیں اختیار دیتا ہے۔ جب ہم کمزورں پر رحم کرتے ہیں تو رب بھی ہم پر رحم کرئے گا اور کرتا ہے۔ پاوڈر صاف ہو چکا تھا ۔ آمنہ نے کپڑے دھونے شروع کیے۔

امثال نے ہادی کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔ کیا حال بنایا ہوا ہے کمرے کا۔ مائی گاڈ۔ ہادی نے افسردگی سے کہا۔ رات کو میں لڈومیں ہار گیا تو میں نے گوٹیاں پھینک دیں ۔پھر مہدی کیرم میں ہار گیا تو اس نے گوٹیاں پھینک دیں ۔ یہ تو پھر چلتا ہے نا موم۔ امثال نے غصے سے کہا۔ کیا چلتا ہے۔ اپنی الماری کے دروازے بند کر کے رکھا کرو۔ ابھی ذبیدہ آتی ہی ہو گی۔ ہادی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ موم میری الماری میں کون سا خزانہ ہے جو وہ لوٹ کر لے جائے گی۔

Leave a Reply