اگر وہ تمہاری بچی کو اٹھا کر لے جاتا تو اس کو جانے دیتے بے غیرتوں کی طرح ۔فیصل آباد پولیس کی مبینہ ریکارڈنگ ایسی بات کہ دی کہ کانوں پر یقین نہیں آئے گا

اگر وہ تمہاری بچی کو اٹھا کر لے جاتا تو اس کو جانے دیتے بے غیرتوں کی طرح ۔فیصل آباد پولیس کی مبینہ ریکارڈنگ ایسی بات کہ دی کہ کانوں پر یقین نہیں آئے گا

معصوم زینب کے قتل کے بعد فیصل آبا د پولیس کے سابق سربراہ افضال احمد کوثر اور ایس ایچ او جلیل آباد کے درمیان ہونی والی فون کال کی ریکارڈنگ منظر عام پر آ گئی
اس فون میں ایک چار سالہ بچی کے اغواہ کے متعلق بات ہوئی ۔ جس میں پولیس سربراہ کافی غصہ میں بات کر رہے ہے اور ایس ایچ او کو گولی مارنے کا بتا رہے ہے ۔ معاملہ کی حساسیت بتا نے کے لئے یہاں تک کہ دیا کہ اگر وہ تمہاری بیٹی ہوتی تو کیا تم اسے اس طرح آرام سے چھوڑ دیتے ۔ کال کے شروع میں ہی سی پی او نے کہا : اگلا بچی اٹھا کر لے جا رہا ہے اور آپ مجھے بتانے کی زحمت نہیں کرتے آپ کو پتا ہے لیکن مجھے نہیں پتا پرچہ دے رہے ہو ۔ ایسے حرام زادوں کو موقع پر گولی کیوں نہیں ماری ؟

اس پر ایس ایچ او نے کہا کہ ملزم ایک ذہنی مریض ہے ۔ ویسے میں نے گن مین کو بتایا تھا اور آئندہ جناب کو بروقت اطلاع دوں گا ۔ جواب آیا : آئندہ گولی مارنا اور لعنت بھیجو گن مین پر تم ایس ایچ او ہو کہ محرر ۔ مجھے اس مسئلہ کا حل چاہے حرام زادے لڑکیاں اٹھا کر لے جا رہے ہیں اور پولیس بے غیرتوں کی طرح دیکھتی رہتی ہے ۔ سیدھی فائر مارو۔ کتنے سال کی بچی اغوا کی ہے ۔
ایس ایچ او نے جواب میں کہا : کہ چار سال کی بچی تھی ۔ اس پر سی پی او نے مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔ آپ کی بچی ہوتی تو کیا آپ چھوڑ دیتے اس شخص کو ۔ میں تمہیں معطل کر دوں گا ۔ سی سی ٹی وی میں اس کی تصویر صاف دکھ رہی ہے اور تم کہ رہے ہو ذہنی مریض ہے میں نے کبھی گالی نہیں دی لیکن آج دے رہا ہوں کہ پولیس بے غیرت ہے ۔
یہ باتیں وائرل ہو چکی ہے لیکن اس کی البتہ مصدقہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی کہ یہ گفتگو اصلی ہے یا جعلی

Leave a Reply