ایک ایسا کپرا جو قیامت کے روز بخشنے میں مدد دے گا

ایک ایسا کپرا جو قیامت کے روز بخشنے میں مدد دے گا

وضو کے کپڑے کی اہمیت احادیث میں روز روشن کی طرح واضح ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے  کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاس ایک  سفید کپڑا رکھتے تھے۔ جو  وضوکے بعد اعضاء وضو کو خشک کرنے کے لئے استعمال فرمایا کرتے تھے  اور روایت کیا گیا ہے کہ علقمہ نامی ایک سفید کپڑا اپنے پاس رکھتے تھے

جس سے منہ کوخشک  کیا  کرتے تھے۔ حضرت معاذؓ سے روایت ہے  کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ وضو کرنے کے بعد کپڑے کے کونے سے اپنا منہ مبارک پونچھا کرتے تھے۔ حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ قیامت کے روز ایک شخص لایا جائے گا اور اس کے اعمال وزن کیے جائیں گے تو اس کی برائیاں بھلائیوں پر غالب آجائیں گی اور بدیوں کا پلہ جھکجائے گا ،اتنے میں وہ کپڑا لایا جائے گا جس سے یہ دنیا میں اپنے منہ اور اعضاء وضو کوپونچھتا تھا ۔فرشتے اس کپڑے کو نیکیوں کے پلے میں رکھ دیں گے اور نیکیوں کا پلہ جھک جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ امام ابوحنیفہؒ اعضاء وضو کو کپڑے سے پونچھنا مکروہ نہ جانتے تھے۔ جب کہ بعض حضرات کی طرف منسوب ہے کہ  وضو کا پانی خشک نہیںکرنا چاہیے کیونکہ بروز قیامت اس پانی کا بھی وزن کیا جائے گا

Leave a Reply