غربت نے جب نا کردہ گناہ کو سزا میں بدل ڈالا

غربت نے جب نا کردہ گناہ کو سزا میں بدل ڈالا

کہتے ہیں کہ ہسپتال اور کورٹ کچہری اللہ کسی دشمن کو بھی نہ دکھائے ۔ اور یہ بات سو فیصد درست ہے کہ مارے ملک میں انصاف خریدا اور بیچا جاتا ہے اور غریب ہمیشہ اس معاملہ میں مار کھا جاتا ہے۔

 

 

ایسا ہی ایک غریب خاتون کے ساتھ ہوا ۔ اپنے شوہر کے قتل میں نامزد رانی بی بی ناکافی ثبوت ہونے کی بناپر 19سال بعد جیل سے ر ہا ہوگئی یہ کام 19سال پہلے بھی ہوسکتا تھا جب وہ1998میں محض 400روپے نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے کیس کی اپیل کے لئے درخواست نہ کر سکی،
رانی بی بی پر 1998 میں اپنے شوہر کے قتل کا الزام لگا تھا،جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے رانی بی بی کی سزا کے خلاف اپیل نہ کرنے کو جیل انتظامیہ کی بدنیتی قرار دیا ہے اور اس سزا پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
رانی بی بی کا رہائی کے بعد کہنا تھا کہ میں کہتی رہی کہ ہم بے قصور ہیں لیکن نہ تو قانون کو کوئی فرق پڑا نہ جج نے کچھ سنا، جیل میں آئے تو اپیل کی درخواست کے لیے پولیس والے نے چار سو روپے مانگے،ہم اتنے مجبور اور غریب تھے کہ یہ چار سو روپے بھی نہ تھے۔یوں محض چار سو روپے نہ ہونے کے باعث رانی بی بی کے 19 سال سلاخوں کے پیچھے گزر گئے۔

اس قید نے نہ صرف اس کیجوانی چھین لی بلکہ اس کے ساتھ اس کے باپ  کو بھی کھا گئی جو جیل ہی میں موت کے منہ میں چلا گیا جب کہ اس کا بھائی کمزور اور ہڈیوں کا ڈھانچا بن کر وہاں سے نکلا

Leave a Reply