مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس سے کعبہ شریف میں کیسے تبدیل ہوا؟ آپؐ نے کعبہ کی طرف منہ کرکے پہلی نماز کونسی اور کب پڑھی ؟

مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس سے کعبہ شریف میں کیسے تبدیل ہوا؟ آپؐ نے کعبہ کی طرف منہ کرکے پہلی نماز کونسی اور کب پڑھی ؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو پہلے اپنی نانہال میں اترے، جو انصار تھے. اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ کی طرف ہو (جب بیت اللہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہو گیا) تو سب سے پہلی نماز جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف پڑھی عصر کی نماز تھی.

وہاں آپ صلی اللہعلیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی نماز پڑھی، پھر آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والوں میں سے ایک آدمی نکلا اور اس کا مسجد (بنی حارثہ) کی طرف گزر ہوا تو وہ لوگ رکوع میں تھے. وہ بولا کہ میں اللہ کی گواہی دیتا ہوں کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے. (یہ سن کر) وہ لوگ اسی حالت میں بیت اللہ کی طرف گھوم گئے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے، یہود اور عیسائی خوش ہوتے تھے مگر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف منہ پھیر لیا تو انہیں یہ امر ناگوار ہوا.

زہیر (ایک راوی) کہتے ہیں کہ ہم سے ابواسحاق نے براء سے یہ حدیث بھی نقل کی ہے کہ قبلہ کی تبدیلی سے پہلے کچھ مسلمان انتقال کر چکے تھے. تو ہمیں یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ان کی نمازوں کے بارے میں کیا کہیں. تب اللہ نے یہ آیت نازل کی «وما كان الله ليضيع إيمانكم‏»(البقرہ: 143).

حوالہ: صحیح بخاری (جلد اول) حدیث 40مدینہ طیبہ کے مغرب میں واقع جامع مسجد “قبلتین” تحویل قبلہ کے حوالے سے اپنا ایک منفرد تاریخی مقام رکھتی ہے. اس مسجد کو “قبلتین” کا نام بھی ھجرت مدینہ کے دوسرے سال حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت دیا جب آپ کو دوران نماز اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنا رُخ انور بیت المقدس سے مکہ مکرمہ کی طرف موڑنے کا حکم دیا گیا.

یوں یہ مسجد قبلہ اول (مسجد اقصیٰ) سے قبلہ دوم (مسجد حرام) کی جانب تبدیلی قبلہ کا “ٹرننگ پوائنٹ” سمجھی جاتی ہے.تاریخی روایات کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی تمنا تھی کہ آپ مسجد حرام کی طرف اپنا رخ کرکے نماز ادا کریں. اللہ تعالیٰ نے اپنےحبیب کی یہ خواہش پوری فرمائی. آپ مسجد میں ظہرکی نمازکی امامت فرما رہے تھے کہ اللہ جل شانہ نے جبریل امین کے ذریعے آپ کو اپنا رُخ مسجد اقصیٰ سے مسجد حرام کی طرف موڑنے کا حکم دیا.

آپ نے نماز ہی میں اپنا رخ تبدیل کیا. تب اس مسجد کا نام مسجد” قبلتین” یعنی دو قبلوں والی مسجد مشہور ہوا اور آج تک اسی نام سے جانی جاتی ہے.العربیہ ڈاٹ نیٹ نے حرمین شریفین کے حوالے سے خصوصی رپورٹس کے سلسلے میں”مسجد قبلتین” پر بھی روشنی ڈالی ہے. رپورٹ کے مطابق مرور زمانہ کے ساتھ “مسجد قبلتین” بھی ترمیم و توسیع کے مراحل سے گذرتی رہی ہے.

مسلمان خلفاء اور امراء و سلاطین مسجد قبلتین کی تزئین وآرائش میں خصوصی دلچسپی لیتے اور فن تعمیرمیں ید طولیٰ رکھنے والے ماہرین کے ذریعے اس کی تعمیرو مرمت کراتے رہے ہیں.مسجد کی توسیع کاسب سے بڑا کام موجودہ السعود خاندان کے دور میں ہوا. سعودی حکومت نے مسجد کی توسیع کے لیے 54 ملین ریال خرچ کیے اوراسے چار ہزار مربع میٹر تک توسیع دی.

الحرمین الشریفین کی طرح مسجد “قبلتین” میں بھی چوبیس گھنٹے زائرین، معتمرین اور موسم حج میں مردو خواتین حجاج کرام کا رش لگا رہتا ہے. مسجد کا ایک حصہ مستورات کے لیے مختص ہے، جہاں خواتین دن کے کسی بھی وقت داخل ہو کرعبادت کرسکتی ہیں.

 

عیدمیلادالنبی صلی اﷲ علیہ وسلم اورہماری ذمہ داریاں

ہو مبارک اہلِ ایماں عید میلاد النبی ﷺ

ہوگئی قسمت درخشاں عیدمیلادالنبی ﷺ
غنچے چٹکے پھو ل مہکے ہر طرف آئی بہار

ہوگئی صبحِ بہاراں عید میلادالنبی ﷺ
کھِل اُٹھے مرجھائے دل اورجان میں جان آگئی

آگئے ہیں جانِ جاناں عیدمیلادالنبی ﷺ
عید میلاد ُالنبی (صلی اﷲ علیہ وسلم) کا واسطہ عطار ؔ کو
بخش دے مولائے رحماں عیدمیلادالنبی ﷺ

۱۲؍ربیع الاوّل شریف کی مبارک تاریخ پوری کائنات اوراس کے باشندوں تمام انسانوں کے لئے عموماً اورمسلمانوں کے لئے خصوصاًخوشی ومسرت کا دن ہے کیوں کہ اس کائنات ارضی کے بسنے والے انسانوں کوترقی کی شاہراہ پرچلانے اورہدایت کی منزلوں کی طرف گامزن کرنے والی ذات خاتم المرسلین،شفیع المذنبین،رحمۃ للعالمین،اشرف الانبیاء،تاجدارعرب وعجم،،شہنشاہ دوعالم،سرورکائنات،فخرموجودات،حبیب خداحضرت محمدمصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم اس خاکدان گیتیپراسی مقدس تاریخ میں جلوہ فگن ہوئی۔ربیع الاول کے معنی ہیں ‘پہلی بہار’یعنی سرکاردوعالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی آمدآمدسے دنیائے ظلمت میں بہارآگئی،ساری دنیابقعۂ نوربن گئی۔تین سوساٹھ خداؤں کے پجاریوں کوایک خداکی معرفت حاصل ہوگئی،محسن کائنات،معلّم انسانیت،رحمت دوعالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل دنیاکی اتنی حالت خستہ وخراب ہوچکی تھی کہ ہرطرف کفروشرک ،ظلم وستم کی گھٹائیں چھاچکی تھیں،قماربازی،شراب خوری،زناکاری،بدفعلی عام تھی۔بدکاری،عیّاری،مکّاری،چوری

اورڈکیتی لوگوں کامعمول بن چکاتھا۔آپس میں الفت ومحبت ،اُنس وپیارکی بوتک نہ رہی تھی۔انسان ایک کوہِ آتش فشاں تھا جس سے ہرلمحہ بغض عنادکی جنگ اورفسادکی آگ نکلتی رہتی تھی۔ہرقبیلہ دوسرے کے ساتھ لڑائی کے لئے تیاررہتاتھا،جذبات اتنے مشتعل اوربے قابوتھے کہ ذراذراسی بات پرکشت وخون کابازارگرم ہوجاتاتھا،اگرایک مرتبہ جنگ کی آگ سُلگ جاتی تویہ صدیوں تک جلتی رہتی تھی۔اَوس وخزرج کی لڑائی ایک سوبیس سال تک جاری رہی،کسی کے جان ومال کاکوئی تحفظ نہ تھا،جانوربھی اپنے بچوں سے محبت رکھتے ہیں مگروہ لوگ اپنی بچّیوں کواپنے ہاتھوں سے زندہ درگورکردیتے تھے۔یہاں تک کہ امن وسلامتی کی

بہارآئی اوراسلام کابادل رحمتِ خداوندی بن کربرسا۔حضورسراپانوروسرورصلی اﷲ علیہ وسلم کی تشریف آوری ہوئی توعرب کے اجڑے ہوئے دریامیں بہارآگئی۔پھرعداوت کی جگہ محبت ،وحشت کی جگہ اُنس ،انتقام کی جگہ عفوودرگزر،رہزنی کی جگہ رہبری ،خودغرضی کی جگہ اخلاص وایثار،غرورتکبرکی جگہ تواضع وانکساری ،بُت پرستی کی جگہ خداپرستی نے لے لی، اورلات وعزّیٰ کے پجاریوں نے لاالٰہ الااﷲ کی صدابلندکی۔

اسی مقدس تاریخ سے کائنات کی ظلمت وتاریکیاں نورانیت میں تبدیل ہونے لگیں۔انسان کامردہ دل پھرسے تازگی پانے لگا،انسانوں کو انسانیت کے صحیح اورحقیقی مفہوم سے عملی آشنائی ہونے لگی۔ہرقسم کے خرافات اوربے بنیادرسم ورواج کی بندشوں میں جکڑاہواانسان آزادہوکراپنے مقاصدزندگی،اوروَجہ تخلیقات کوسمجھا۔اپنے معبودِحقیقی کوجانا،عبدومعبودکے رشتوں کوسمجھا۔اگرآج انسان چاندکاسفرکررہاہے،تیزرفتارطیاروں سے برسوں کاسفرگھنٹوں میں مکمل کررہاہے،ہزاروں میل دورکی آوازواخبارسکنڈوں میں سن رہاہے۔فون،کمپوٹر،انٹرنیٹ جیسی سہولتوں کوحاصل کررہاہے تواس میں بھی بنیادی طورپراس ماہِ ربیع الاول کی بارہویں شریف کادخل ہے کہ

حضورنبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے انسانی فکروذہن کوایسی جولانیت عطاکی ہے کہ تسخیرکائنات کے لئے وہ دن بدن آگے ہی برھتاچلاجارہاہے۔
یہی وجہ ہے کہ ساری دنیاکے خوش عقیدہ مسلمانوں کے لئے حضوراکرم صلی اﷲ علیہ وسلم اورآپ کی آل واولادوَاصحاب سے عشق ومحبت غیرفانی دولت بن چکاہے اوراس محبت کااظہارشیدائیانہ طورپروہ کرتے رہتے ہیں اوربارہ ربیع الاول شریف کے موقع پرمختلف طریقے سے شریعت اسلامیہ کے دائرے میں رہ کر

اظہارمسرت کرتے ہیں۔جوگوناگوں احسانات ،نوازشات اوربخشش وعنایات کاہلکاساشکریہ ہے۔
ہرملک اورقوم کے لوگ اپنے رہنما ،لیڈر،اوردانشوروں کایوم پیدائش مناتے ہیں جب کہ ان شخصیتوں سے فائدہ کسی ایک ملک یاایک قوم کویاکسی ایک خطہ کویاکسی ایک خاص نظریات ومکتب فکرکوہی ہوتاہے مگریوم پیدائش پرخراج عقیدت اُنہیں ضرورپیش کرتے ہیں۔

یہاں اس ذات گرامی کے یوم پیدائش کی بات اورخراج عقیدت پیش کرنے کامعاملہ ہے۔جوہرانسان،جانورپرندے ،چوپائے،پیڑپودے اورہرچیزکے نبی ہیں۔سب کاوجودان کے طفیل ہے سب کوان کی ذات اقدس سے برابرکافائدہ ہے، وہ تمام انسانوں کے نبی،کائنات کے ہراشیاء کے لئے رحمت ہی رحمت،ان کوسب سے پیارہے۔انہوں نے جوبتایاسب کے لئے۔جوکیاسب کے لئے۔جوان کی فرمودات کومانا،ان کی باتوں پرچلا،ان کے طریقوں کواپنایااُسے دنیا کی ہربھلائی مل گئی ،آخرت کی سرخروئی بھی مل گئی اوراﷲ تبارک وتعالیٰ کی خوشنودی بھی مل گئی۔پھرایسے عظیم محسن ،ایسے پیارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت پرہم خوشی کیونہ منائیں،جن

سے بڑھ کراﷲ کے سواکوئی نہیں ،کوئی شخصیت کتنی عظیم کیوں نہ ہومگرسرکاردوجہاں ﷺسے اس کی نسبت ذرہ اورآفتاب کے جیسی ہے۔کسی ذرہ کی اہمیت سے انکارنہیں کیاجاسکتامگرآفتاب کی برتری کاعالم کچھ اورہے۔ حضورنبی اکرم ﷺکی عظمت کے آگے آفتاب بھی ایک ذرہ ہے، آفتاب اپنی شعاعوں سے بیک وقت زمین کے نصف حصہ کرروشن کرتاہے مگرحضوراکرم ﷺکی ضوفشانی ان کے علم وحکمت،نبوت ورسالت کی روشنی صرف زمین ہی نہیں بلکہ ہرعالم کے ایک ایک ذرہ پرکامل طورپرپڑرہی ہے اوراُسے درخشاں وتابندہ کئے ہوئی ہے۔

قارئین کرام!حضوراکرم ﷺ کی مقدس زندگی ہمارے لئے ایک کھلی کتاب ہے مگربات ہے عمل کرنے کی،اوروہ کھلی کتاب قرآن مجیدہے،قرآن مجیدمیں ہرقانون ،ہرمسئلہ،ہرمشکل کاحل اورہربیماری کی دواموجودہے۔یہ ایک نسخۂ کیمیاہے۔دنیاکے تمام ترکلام اس کے سامنے ہیچ ہیں۔اورحضورکریم ﷺ کی مقدس ذات توچلتاپھرتاقرآن ہیں۔مجھے تورشک آتاہے حضرت حلیمہ سعدیہ ؓ کی قسمت پرجن کادودھ سرورکائنات ﷺ نے نوش فرمایا۔جس نے شہنشاہ دوعالم ﷺ کواپنی گودمیں کھلایا۔

مسلمانوں!بارہ ربیع الاول شریف کے دن کوکیوں نہ ہم ”عید”کہیں یہی تووہ دن ہے جس دن بنی نوع انسان کوپتھرکے بتوں سے آزادی نصیب ہوئی اورسب کومعبودبرحق کی طرف جانے کاراستہ مل گیا۔ذراسوچئے !اگرآقائے نامدار،سرورکائنات،فخرموجودات ﷺ تشریف نہ لاتے توآج ہم کن اندھیروں میں بھٹک رہے ہوتے اورپتہ نہیں کس کس درکی خاک چھان رہے ہوتے۔آج کے دن اﷲ رب العزت نے ہماری بخشش ونجات کی بنیادرکھی اورہمیں ایک ایسارہبرِ کامل عطافرمایاجنہوں نے دودھ کادودھ اورپانی کاپانی کردیا،اس لئے مسلمانوں !مناؤ جشن عیدمیلادالنبی ﷺ مناؤ۔اوراپنے عظیم محسن کی ولادت باسعادت کے موقع پرآپس میں خوشی

ومسرت کاخوب خوب اظہارکرولیکن آتش بازی کرکے نہیں۔فضول خرچی کرکے نہیں۔سرمایہ اجاڑ کرنہیں۔ڈھول باجے وغیرہ بجاکرنہیں،بلکہ محفل میلادالنبی ﷺکاانعقادکرکے،نظم وضبط،متانت وسنجیدگی کے ساتھ جلوس محمدی نکال کر، اپنی مسجدوں کوپنج وقتہ جماعت کے ساتھ نمازکی ادائے گی کرکے اورنوافل کثرت کے ساتھ پڑھ کر، آقائے دوجہاں کی بارگاہ میں درودوسلام بھیج کر،غریبوں کی امدادکرکے ،محتاجوں کوکھاناکھلاکر۔

Leave a Reply