ایک شخص جسے شیطان نے یہ کہہ کر بھٹکا دیاتھا کہ تو کب تک اللہ اللہ کرے گا وہ تو تیری سنتا ہی نہیں، اس شخص کیساتھ کیا ہوا

ایک شخص جسے شیطان نے یہ کہہ کر بھٹکا دیاتھا کہ تو کب تک اللہ اللہ کرے گا وہ تو تیری سنتا ہی نہیں، اس شخص کیساتھ کیا ہوا

ایک شخص رات کو اللہ کے ذکر میں مشغول تہا اور اس کی زبان پر اللہ اللہ کا ورد جاری تھا..

شیطان نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا.. ” کب تک اللہ اللہ کی رٹ لگائے جائے گا.. ادہر سے تو کوئی جواب نہیں ملتا اور تو ہے کہ پہر بھی مسلسل اسی کو پکارے جا رہا ہے.. “شیطان کی یہ بات سن کر اس شخص کا دل ٹوٹ گیا.. یہی سوچتے اور روتے روتے اسے نیند آگئی..عالم خواب میں حضرت خضر علیہ السلام تشریف لائے اور پوچہا.. “اے نیک بخت ! تونے ذکر حق کیوں چھوڑ دیا..؟”اس نے دکہی دل سے کہا.. ” بارگاہ خداوندی سے مجہے کوئی جواب نہیں ملتا اسی لیے فکرمند ہوں کہ کہیں میرے ذکر کو رد ہی نہ کر دیا گیا ہو.. “حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا.. ” اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ تیرے پاس جاوں اور تجھ کو بتاوں کہ”تو جو

اللہ کا ذکر کرتا ہے وہی ہمارا جواب ہے.. تیرے دل میں جو سوز و گداز پیدا ہوتا ہے وہ ہمارا ہی تو پیدا کیا ہوا ہے اور یہ ہمارا ہی کام ہے کہ تجھ کو ذکراللہ میں مشغول کردیا ہے.. تیرے ہر “یا اللہ” کہنے میں ہماری ۱۰۰ لبیک پوشیدہ ہیں.. “جان جاہل زیں دعا جز دور نیست..زانکہ “یارب”گفتنش دستور نیست..یعنی ایک جاہل اور غافل کو سچے سے دل سے دعا (ذکر) کی توفیق ہی نہیں ہوتی کیوں کہ “یارب” کہنا اس کی عادت ہی نہیں..!!

 

’’قادیانی فتنہ‘‘ اسلام کے خلاف صہیونی سازش:محافظین ناموسِ رسالت کی جرأت کو سلام

[اِس وقت پاکستان میں عقیدۂ ختم نبوت سے متعلق قانون کو کم زور کرنے کی مہم حکومتی سازشوں سے نمایاں ہے۔ جس کے سنگین اثرات قادیانی فتنے کی تقویت کی صورت میں رونما ہو سکتے ہیں۔ تحریک لبیک یارسول اﷲ ﷺ نے تحفظِ عقیدۂ ختم نبوت کے لیے اپنی کوششیں تیز کیں اور بیداری کا پیغام دیا، جس سے

نواز حکومت کی چولیں ہل گئیں۔ ہم محافظین تحریکِ عقیدۂ ختم نبوت کے بازوؤں کو سلام پیش کرتے ہیں اور عاشقانِ مصطفی سے عرض گزار ہیں کہ اپنی نسلوں میں ناموسِ رسالت ﷺ میں فداکاری کا جذبہ بھر دیں تا کہ قادیانی مشن سبوتاژ ہو اور تحفظِ عقیدۂ ختم نبوت کی تحریک ثمر آور ہو۔ نواز حکومت کے اقتدار کا آفتاب ایسا لگتا ہے کہ زوال کی عمیق وادی میں روپوش ہوجائے گا۔یاد رکھنے کی بات ہے کہ تحفظِ ناموسِ رسالت یا تحفظِ عقیدۂ ختم نبوت ہماری دینی ذمہ داری ہے، اس عقیدے پر حملہ کسی خطے میں ہو؛اسے ناکام بنانے کے لیے ہمیں بیدار ہونا ہوگا، ہم مولانا خادم حسین رضوی کی جرأت ایمانی کو سراہتے ہوئے ان

کے مشن کی کامیابی کے خواہش مند ہیں۔ ]

قادیانی تحریک اسلام مخالف قوتوں کی منظم سازش کا عملی نمونہ ہے۔ جس نے عقائد اسلامی کی فصیل میں شگاف ڈالنے کی کوشش کی اور ناموسِ رسالت صلی اﷲ علیہ وسلم میں توہین کی جرأت کی۔ اس فرقے اور فتنے سے امت مسلمہ کے ہر فرد کا با خبر ہونا ضروری ہے تا کہ ان کے فتنہ و شر سے عقیدہ و ایمان

محفوظ رہ سکے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں سب سے نمایاں کردار علما اور مسلمانوں نے ادا کیا۔ انگریز کو اس سے مسلمانوں کی ایمانی تپش اور حمیت کا اندازا ہو گیا، انھیں محسوس ہوا کہ جب تک مسلمان متحد رہیں گے ان کا اقتدار خطرے میں رہے گا۔ انگریزوں نے مسلمانوں میں انتشار و افتراق کو پروان چڑھایا ، انھیں ملت کی آستینوں میں ایسے افراد مل گئے جو ان کے مشن کو فروغ دینے کا سبب بنے۔متعدد فرقے انگریزوں کی کو ششوں سے وجود پا ئے جن میں ایک نمایاں فرقہ ’’قادیانی‘‘ ہے، جس کے بانی کذاب مرزاغلام احمد قادیانی نے ۱۹۰۰ء میں انگریز کے زیر اثر نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا؛ حالاں کہ مسلمانوں کا

اجماعی عقیدہ ہے کہ حضور رحمت عالم سرور کونین ﷺآخری نبی ہیں اور خاتم النبیین ۔اس پر نص قطعی اور احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کے حکم پر صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم نے پہلے مدعیِ نبوت مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کی اور اس سے جہاد فرمایا اور جاں

فروشی کی مثال قائم کر کے اُمتِ مسلمہ کو درس دے دیا کہ ناموس رسالت مآب ﷺ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا جائے اور کسی کذاب یاقادیانی کو پنپنے نہ دیا جائے؛ گویا اسوۂ صدیقی ہر جھوٹے مدعی نبوت کی سرکوبی کے لیے رہ نما اور رہبرہے ۔ انگریزنے قادیانیت کو ہر ممکن مدد فراہم کی اور آج بھی اس فتنے کو انگریز کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ یہ پوری دنیا میں مال و زر کی بنیاد پر سرگرم ہیں، اور اپنے مکر و فریب کے ذریعے ایمان کی دولت قلبِ مسلم سے چھین لینا چاہتے ہیں۔

قادیانیت برطانوی حکومت کی سرپرستی میں پروان چڑھ رہی ہے۔ انھیں سٹیلائیٹ کی قوت مہیا کر دی گئی ہے اور ان کا ٹیلی ویژن ۲۴؍ گھنٹے اپنے جھوٹے عقائد کی تشہیر کر رہا ہے، یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ یہودی مسلمانوں کے تو خون کے پیاسے ہیں لیکن اسرائیل میں قادیانیوں کو ہر طرح تبلیغ کی چھوٹ دے رکھے ہیں؛ اسی طرح روس میں جہاں کمیونزم کے نام پر مذہب کوپابند سلاسل کر دیا گیا تھا وہاں قادیانیت مستحکم ہے؛ اوریہی کچھ سہولتیں جرمنی و فرانس اور دوسرے خطوں نیز مغربی ملکوں میں انھیں مہیا ہیں۔

جب اس فتنے نے سر اٹھایا تو علما نے اس کے سد باب میں کمر کس لی اور تصنیف و تالیف و تقریر وتحریر کے ذریعے قادیانیت کا ردِ بلیغ فرمایا۔ اس سلسلے میں علمائے حرمین طیبین نے امام احمد رضا قادری محدث بریلوی(م۱۹۲۱ء) کی تحریک پر قادیانی و دیگرفرق ہائے باطلہ کے کفر کا فتویٰ صادر کیا جو ۱۳۲۴ھ میں جاری ہوا اور حسام الحرمین کے نام سے اس کی اشاعت ہوئی۔اسی طرح امام احمد رضا نے اس فتنے کے رد میں متعدد کتابیں لکھیں جو مطبوع ہیں اور آج بھی قادیانی ان سے لرزاں و پریشاں ہیں؛ اسی طرح بریلی سے ایک مستقل ماہ نامہ بھی جاری فرمایا، کتابوں کے نام اس طرح ہیں:جزاء اللّٰہ عدوہ باباۂ

ختم النبوۃ، المبین ختم النبیین، السوء والعقاب علی المسیح الکذاب، الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی، قہرالدیان علی مرتد بقادیان۔ آپ کے فرزندِ اکبر علامہ حامد رضاخان قادری نے ’’الصارم الربانی علٰی اسراف القادیانی‘‘ تصنیف کی؛ جو ۱۳۱۵ھ میں مطبع حنفیہ پٹنہ سے اور بعد کو بریلی، لاہوروممبئی سے شائع ہوئی ۔ اس دور کے دوسرے علما ومشائخ نے بھی اس فتنے کو طشت از بام کرنے میں جدوجہد کی جن میں حضرت پیر مہر علی شاہ (گولڑہ شریف) کا نام بڑا نمایاں ہے۔

عالمی مبلغ اسلام تلمیذ اعلیٰ حضرت؛ علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی نے اسلام کی تبلیغ کے سلسلے میں پوری دنیا کا دورہ فرمایا۔آپ نے افریقہ، سیلون، یورپ، انڈونیشیا، ملائیشیا، برما، اور بلاد عربیہ میں قادیانیت کے خلاف کام کیا اور مسلمانوں کو ان کے فریب سے آگاہ کیا۔ قادیانیت کے رد میں آپ کی انگریزی تصنیفThe Mirriorبیرون ممالک بہت مقبول ہوئی؛ اس کا عربی میں المرآۃ کے نام سے ترجمہ ہوااسی طرح اردو میں ’’مرزائی حقیقت کا اظہار‘‘ تحریر فرمائی، جس کا ملائیشیا کی زبان میں جب ترجمہ شائع ہوا تو وہاں کے مسلمانوں میں تحریک اٹھی اور وہاں قادیانیت کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا۔ علمائے اہلِ سنّت کی

کوششوں سے ۱۹۷۴ء میں پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردیا گیا جس کے لیے باضابطہ بل منظور کیا گیا اور آئین کا حصہ بنا دیا گیا ، جس کا خلاصہ اس طرح ہے:’’جو شخص محمد ﷺ جو آخری نبی ہیں کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتاہے وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لیے مسلمان نہیں ہے۔‘‘ (ماہ نامہ ضیائے حرم لاہور،دسمبر۱۹۷۴ء، ص۳۵۔
۳۶)

Leave a Reply