نکاح کے بعد بیوی اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام

نکاح کے بعد بیوی اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام

خلیجی ممالک میں عورت کی شادی کے بعد اس کے نام کے ساتھ والد کا نام لگتا ہے، لیکن پاکستان میں اس کے شوہر کانام کیوں لگتا ہے؟ اس کی وضاحت کردیں.

عورت کے نام کے ساتھ والدکا نام لگے یا شوہر کا، درحقیقت مقصد اس سے تعارف اور شناخت ہے، اور یہ شناخت ان دو طریقوں کے علاوہ بھی ہوسکتی ہے۔ قرآن وحدیث میں بعض عورتوں کا تعارف اللہ نے ان کے شوہروں کی نسبت سے کرایا ہے۔

قرآن: “اِمْرَاَۃَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَۃَ لُوْطٍ، کَانتاتَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ”.(التحریم:10) ترجمہ: یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی۔الخ

حدیث: “جَاءَتْ زَینب امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ، تستاذن عَلیہ، فَقیل: یا رَسُولَ اللہ، ھذہ زینَبُ، فَقَالَ: أَی الزیانِبِ؟ فَقِیلَ: امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: نَعَمْ، ائْذَنُوا لَھا“. (بخاری و مسلم) حضرت ابوسعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زینب جو امراۃابن ِ مسعود ہیں، یعنی حضرت ابن ِ مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئیں اور اجازت طلب کی، پوچھا گیا کون سی زینب؟ جواب دیا گیا کہ: امراۃابن ِ مسعود. آپ نے فرمایا کہ: ہاں! اُسے آنے کی اجازت ہے.

اسی طرح آدمی کی پہچان بعض مرتبہ وَلاء یعنی جس نے غلام کو آزاد کیا ہے، اس سے ہوتی ہے، جیسے: “عَکرَمَہ مولی ابن ِ عباس“، کبھی پیشہ کے بیان سے ہوتی ہے، جیسے:”قدوری” وغیرہ، کبھی لقب و کنیت سے ہوتی ہے، جیسے:”ابو محمّد أعمَش“، کبھی ماں سے ہوتی ہے حالاں کہ باپ معروف ہوتا ہے جیسے “اسماعیل ابن ِ علیہ“، وغیرہ وغیرہ.

اس لیےیہ کوئی ایسا مسئلہ نہٰیں جس سے کوئی شرعی ضابطہ ٹوٹتا ہو، مقصد تعارف اور شناخت ہے، اگر خلیجی ممالک مٰیں شادی کے بعد بھی شناخت کے لیے باپ ہی کا نام رہے اور ہمارے یہاں شوہر کا نام آجائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔

باقی اگرکسی کو یہ شبہ ہوکہ بعض احادیث میں والد کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اس بارے میں وعیدیں بھی آئی ہیں، تو خوب واضح ہونا چاہیے کہ ان احادیث کا مقصد یہ ہے کہ اپنے والد کو چھوڑ کر کسی اور شخص کی طرف اپنی نسبت اس طور پر کرنا کہ وہ دوسرا شخص والد سمجھا جائے یا اپنے والد کی نفی کرکے دوسرے کو والد کہنا ممنوع ہے۔ جہاں یہ شبہ نہ ہو تو کسی کی طرف اولاد والی نسبت کرنے کی بھی گنجائش ہوگی، مثلاً: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث مبارکہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کو پیارا بیٹا کہنا ثابت ہے۔

جب کہ بیوی کا نام شوہر کی طرف منسوب کرنے میں کسی طرح بھی ولادت کی نسبت نہیں سمجھی جاتی، لہٰذا یہ نسبت حدیث کی ممانعت میں داخل نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

Leave a Reply