بڑی تعداد میں اعلی عہدوں پر قادیانیوں کی موجودگی کا انکشاف

بڑی تعداد میں اعلی عہدوں پر قادیانیوں کی موجودگی کا انکشاف

اسلام ہائی کورٹ نے اسلام سے قادیانی مذہب اختیار کرنے والے افراد کے متعلق رپورٹ طلب کر لی ۔  جن کی تعداد 10 ہزار سے زائد ہیں

رپورٹ کےمطابق  عدالت نے ان 0 ہزار افراد  کے نام ، عمر ، ولدیت اور بیہرون ممالک سفگر کے حوالے  سے تمام معلومات دینے  کاحکم دیا  ہے جسٹس صدیقی نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ختم نبوت کی شقوں میں تبدیلی سے متعلق مولانا  اللہ وسایا  کی درخواست کی سماعت کی ، انکی جانب سے حافظ عرفات ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئی جبکہ ان کی معاونت پروفیسر حسن مدنی نے کی۔ ۔ جسٹس شوکت عزیز نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک شخص اسلام  چھوڑ دیں تو اس کا کیا حکم ہے ۔ پروفیسر صاحب نے کہا کہ اس کی سزا مرتد کی سزا ہے انہوں نے اپنے اس دعوی کو قرآن و حدیث سے ثابت کیا  اور کہا کہ قادیانی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ باقی لوگ جس مذۃب سے تعلق رکھتے ہو وہ اپنی پہچان اسی سے کراتے ہیں لیکن قادیانی لوگ خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں ۔ یہ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور اسلام کا ایک غلط تصور لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ یہ مسلمانوں کا گالیاں  دیتے ہیں اور اس سے ان کی کتابیں بھری ہوئی ہے ۔ ان کی بڑی تعداد نےمسلمانوں کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے

گزشتہ سماعت کے موقع پر نادرا کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک میں رجسٹر قادیانیوں کی تعداد 1 لاکھ 67 ہزار 473 ہے پاکستان میں 10 ہزار 205 افراد نے بطور مسلمان  شناختی کارڈ تبدیل کرنے کے بعد احمدی مذہب کا سٹیٹس اختیار یا جس کا ڈیٹآ  جج کے حوالے کیا گیا

Leave a Reply